ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

جنوبی پنجاب سب سول سیکرٹریٹ۔۔ظہوردھریجہ

سب سول سیکرٹریٹ اور صوبے کی بات کرنے سے پہلے اس بات کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ ہماری درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے معروف سرائیکی شاعر جناب شاکر شجاع آبادی کے علاج کیلئے 5 لاکھ روپے کا چیک ان کو روانہ کیا ہے۔ اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی مخدوم زین قریشی اور چیئرمین زرعی ٹاسک فورس ملک مسعود اعوان نے بجا طور پر کہا کہ شاکر شجاع آبادی وسیب کا سرمایہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہمارا مطالبہ ہے کہ وسیب کے جتنے بھی فنکار ، شاعر ، ادیب ، دانشور اور صحافی جو اپنے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے ،ان کا علاج سرکاری خرچ پر کرایا جائے۔ اس کے ساتھ حکومت نے جنوبی پنجاب صوبہ سیکرٹریٹ کے قیام کے پیش نظر ساﺅتھ پنجاب پبلک سروس کمیشن بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ساﺅتھ پنجاب پبلک سروس کمیشن کیلئے 50کروڑ 8لاکھ 62ہزار روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ گریڈ22یا 21کا ڈپٹی چیئرمین تعینات کیا جائے گا۔ گریڈ21یا 22ہی کے 6ممبران ہوں گے۔ ساﺅتھ پنجاب پبلک سروس کمیشن نئے مالی سال سے کام شروع کرے گا۔تاہم اس کے قیام ممبران کے تعین بارے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں پبلک سروس کمیشن کے حدود کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ سابقہ حکومت نے اس کی حدود بھکر ، میانوال تک بیان کی تھیں اور صوبائی ملازمتوں کا 20 فیصد کوٹہ اناﺅنس کیا تھا جو کہ وسیب کی آبادی سے بہت کم ہے۔ اس کے ساتھ حکومت جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ کی بات بھی کر رہی ہے۔سب سول سیکرٹریٹ کے حوالے سے ہم بار بار کہتے آ رہے ہیں کہ سیکرٹریٹ کسی بھی لحاظ سے صوبے کا متبادل نہیں۔ تحریک انصاف نے وسیب سے سب سول سیکرٹریٹ کا نہیں صوبے کا وعدہ کر رکھا ہے تو حکومت کو فوری طور پر اس بارے اقدامات کرنے ہونگے۔ اس کے ساتھ آج کے اخبارات میں لاہور سے شائع ہونیوالی خبر نے سب سول سیکرٹریٹ کے اختیارات کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

خبر کے مطابق بیورو کریسی نے جنوبی پنجاب کو میگا پراجیکٹس کی منظوری کا اختیار دینے سے انکار کر دیا۔ جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لئے بنائے گئے نئے پی اینڈ ڈی بورڈ کے اختیارات صرف بیس سے 50کروڑ روپے تک محدود کر دئیے گئے۔ ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب میں منی سیکرٹریٹ کیلئے حکومت پنجاب نے ابتدائی طور پر پی اینڈ ڈی بورڈ کے اختیارات اور افسران کی تعداد کے بارے متعلقہ پلاننگ مکمل کر لی ہے جس کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کیلئے پی اینڈ ڈی بورڈ 18افسران پر مشتمل ہوگا۔ بورڈ کا سربراہ پی اینڈ ڈی سربراہ ہوگا جبکہ بورڈ میں چیف پروڈکشن سنٹر ، چیف آئی ڈی ، چیف کوآرڈی نیشن ، چیف سوشل سیکٹر ، ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن ، بورڈ میں آٹھ اسسٹنٹ چیف اور پلاننگ آفیسر ہوں گے۔دوسری جانب بورڈ کے اختیارات صرف بیس سے پچاس کروڑ روپے تک کے منصوبوں تک محدود کئے گئے ہیں۔ وسیب کے لوگ سمجھتے ہیں کہ اصل مسئلہ صوبے کے قیام کا ہے ، صوبے کے نام پر وسیب کے لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ لڑایا جائے جس کا مقصد میانوالی، سرگودھا، بھکر ، ٹانک اور دیرہ اسماعیل خان کو جنوبی پنجاب صوبے کے خلاف کرنا ہے۔ ایسی حمایت سے بہتر ہے کہ وہ حمایت نہ کریں ،وسیب کے لوگ عرصہ چالیس سال سے جدوجہد کرتے آ رہے ہیں ، اگر سرائیکی وسیب کے لوگوں کو پاکستانی سمجھا جاتا ہے تو وہ اپنے وسیب کی مکمل حدود اور اپنے وسیب کی شناخت کے مطابق صوبہ لیں گے۔ لولہا، لنگڑا ، کٹا پھٹا اور بدنام صوبہ قبول نہ کریں گے اور نہ ہی اپنے ساتھ کمی اور شودروں والا امتیازی سلوک برداشت کریں گے ، محسن انسانیت حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم کے عالمی چارٹر ، اقوم متحدہ کے اصول اور آئین پاکستان کی رو سے کسی بھی انسان ، طبقے یاقومیت سے دوسرے درجے کا امتیازی سلوک جرم ہے۔ اگر سندھ ، پنجاب اور بلوچستان شناخت کے مطابق ہوسکتے ہیں اور صوبہ سرحد کو شناخت دینے کیلئے تمام سیاسی و مذہبی پارلیمانی جماعتیں آئین میں ترمیم کر سکتی ہیں تو سرائیکی وسیب سے امتیازی سلوک کیوں ؟ وسیب کے لوگوں کا یہ سوال جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمن سے بھی ہے جنہوں نے سرحد اسمبلی میں پختونخواہ کی قرارداد جمع کرائی۔ وسیب کے لوگ پر امن اور بقائے باہمی کے طور پر اپنا الگ صوبہ مانگ رہے ہیںاور نصف صدی سے زائد صوبے کی تحریک اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں آج تک ایک بھی دوکان کا شیشہ نہیں ٹوٹا۔ 1947ءمیں پنجاب نفرتوں کی بنیاد پر تقسیم ہوا اور خون کی ہولی کھیلی گئی لیکن یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خون آشام تقسیم میں جنوبی پنجاب کے عوام کا کوئی قصور نہیں ، جہاں تک وسیب کا تعلق ہے تو وسیب پنجاب کا حصہ نہیں ، وسیب کے صوبہ ملتان پر 1818ئ میں اس مہاراجے رنجیت سنگھ نے طاقت کے بل بوتے پرقبضہ کیا جن کی اولادوں نے پنجاب کے پنجابی مسلمانوں کا قتل عام کر کے ان کو دیس سے نکالا اور پنجاب کو مذہب کی بنیاد پر سکھ پنجاب اور مسلم پنجاب میں تقسیم کرایا۔ وسیب کے لوگ پنجاب کی تقسیم نہیں بلکہ اپنے اس صوبے کی واگذاری کا مطالبہ کرتے ہیں جس پر رنجیت سنگھ نے قبضہ کیا ، انصاف اور اصول کا تقاضہ یہی ہے ، پنجاب ماضی کے صوبہ لاہور او ر اس کی ملحقہ ریاست قصور وغیرہ پر مشتمل ہو اور صوبہ جنوبی پنجاب ماضی کے صوبہ ملتان ، ماضی کی ملحقہ ریاستوں بہاولپور وغیرہ پر مشتمل ہونا چاہئے ، یہی ایک نسخہ ہے جو نفرتوں کو کم کر کے قوموں کو ایک دوسرے سے قریب کرسکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو سیکرٹریٹ کی بجائے صوبہ دینا چاہئے اور وسیب کی تمدنی تہذیب، تاریخ اور جغرافیہ کا ہر صورت احترام کرنا چاہئے کہ پارلیمنٹ نے ا?ئین میں ترمیم کر کے صوبہ سرحد کو شناخت دی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک بار پھر شناخت کے مسئلے پر آئین میں ترمیم کرنا پڑے۔ جس آئینی شناخت کے دوسرے صوبے اور خطے حقدار ہیں ، اسی شناخت کا حقدار وسیب بھی ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker