ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

عرس مبارک حضرت شاہ رکن عالم ملتانی۔۔ظہوردھریجہ

معروف روحانی پیشوا حضرت شاہ رکن عالم ملتانی کا706 واں سالانہ عرس ملتان میں شروع ہو گیا ہے۔ آج تقریبات کا آخری روز ہے۔ سب سے پہلے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ زائرین کو طرح طرح کی مشکلات ہیں، زائرین سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں، دربار کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی ملک کے اہم عہدے پر فائز ہیں ، مرکز اور صوبے میں حکومت ان کی ہے ، اگر آج زائرین کے مسئلے حل نہیں ہوتے تو کب ہونگے ؟ کل صوبے میں شہبازشریف تھے تو ہم ان کو دوش دیتے تھے آج تو وسیب کے سردار عثمان بزدار وزیراعلیٰ ہیں ، زائرین کو باتھ روم تک کی سہولت نہیں ، آج کس کو دوش دیں اور کس سے فریاد کریں۔ آج عرس کے موقع پر وسیب سے تعلق رکھنے والے حکومتی اکابرین سے کہتا ہوں کہ ملتان کی عظمت رفتہ کو ایک بار پھر سے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ملتان کو مدینة الاولیاء ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ملتان آج سے نہیں بلکہ ہزار ہا سالوں سے تہذیب و تمدن کا گہوارا چلا آرہا ہے۔ ملتان سے صوفیاءکرام نے ہمیشہ محبت و انسان دوستی کے زمزمے جاری کئے اور ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا۔ مگر آج کے ملتان کے اہل سیاست نہ خود کو پہچان سکے اور نہ ملتان کو۔ آج بھی وہ قیادت کیلئے لاہور ‘ لاڑکانہ اور بنی گالہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ اگر گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو وسیب کی موجودہ غلامی کا باعث بھی وسیب کے یہی اہلِ سیاست ہیں۔ ہمارے بزرگانِ دین نے اپنی دھرتی ، اپنی مٹی اور اپنے وسیب سے محبت کے ساتھ ساتھ انا و خوداری کا درس بھی دیا۔ انہوں نے ہمیشہ محبت و اخوت اور انسان دوستی کا پیغام دیا۔ آج کی نفسانفسی ، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے دور میں صوفیاء کی فِکر اور پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ قطب الاقطاب حضرت شاہ رکن الدین والعالم ملتانی ابتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت بہاو? الدین زکریا ملتانی کے مدرسہ بہائیہ میں حاصل کی۔ جو کہ ایک بہت بڑی اقامتی یونیورسٹی کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ شیخ صدر الدین عارف اور بی بی راستی المعروف بی بی پاک دامن کے فرزند تھے۔ آپ کی ولادت 1251ء جمعہ کے روز ہوئی۔ آپ کے فیوض و برکات کا تذکرہ تاریخی کتب میں موجود ہے۔ آج میں زائرین کی مشکلات بارے حکام بالا کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ زائرین کے رہائش کیلئے کوئی مناسب انتظام نہیں ہے ، جونہی عرس شروع ہوتا ہے تو گھنٹہ گھر اور دولت گیٹ کے آس پاس موجود تمام تعلیمی ادارے بند کرا دیئے جاتے ہیں اور وہاں زائرین کو بھیج دیا جاتا ہے۔ ایک تو تعلیم کا حرج ہوتا ہے دوسرا وہاں توڑ پھوڑ کی شکل میں درس گاہوں کی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ عرس شروع ہونے سے پہلے زائرین کے لئے 18 تعلیمی ادارے چار دن کیلئے بند کئے گئے ہیں۔حالانکہ تعلیم کے حوالے سے ایک ایک پل بھی بہت قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زائرین کیلئے رہائش گاہیں تعمیر کی جائیں اور داتا دربار کی طرح زکریا کمپلیکس تعمیر کیا جائے ، قدیم لائبریری کو دوبارہ بحال کیا جائے اور زائرین کیلئے وافر مقدار میں ٹائلٹ تعمیر کئے جائیں۔ مدرسہ بہائیہ جو کہ بہت بڑی درس گاہ تھی ، یہاں پورے ہندوستان کے طلبہ کے علاوہ بنگال ، آسام ، انڈونیشیا، تاجکستان ، غزنی ، فارس، روس ، برما ، ترکی اور عرب سے طلبہ پڑھنے آتے تھے اور یہاں سرائیکی زبان کے علاوہ دنیا کے مختلف زبانوں کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مدرسے کو بحال کیا جائے اور حضرت بہاﺅ الدین زکریا ملتانی کے مزار سے ملحق جو قدیم پرہلاد مندر اور مدرسہ تھا کو بھی بحال ہونا چاہئے کہ پنجاب میں سابقہ حکومت نے لاہور اور آس پاس بہت سے قدیم گرد واروں کو بحال کیا۔ اس لحاظ سے اسلام کے آنے سے پہلے ایک توحید پرست پرہلاد کی قدیم یادگار ہے کو بحال کرنے کا یہ فائدہ ہو گا کہ پوری دنیا سے لوگ اسے دیکھنے آئیں گے۔ اس کے ساتھ یہ مطالبہ قطعی طور پر غلط نہیں ہے کہ قدیم قلعہ کہنہ قاسم باغ جو کہ اس خطے کا ورثہ ہے پر ناجائز تجاوزات ختم ہونی چاہئیں جیسا کہ پی ٹی سی ایل ٹاور ، پولیس کاﺅنٹر سروس اسٹیشن اور اس پر رکھی گئی ملتان کو قتل کرنے والی توپ اور دوسرے تجاوزات ختم ہونے کے ساتھ اس بات پر بھی غور ہونا چاہئے کہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر حملہ آور انگریزوں کی بڑی قبریں تو موجود ہیں مگر ان حملہ آوروں کا دھرتی کے جن لوگوں نے مقابلہ کیا ان کی قبروں کا کوئی نشان نہیں۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہو رہا ہے کہ کچھ ان پڑھ زائرین ان حملہ آور انگریز سامراج کی قبروں کے بوسے لے رہے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے وطن کیلئے قربانی دینے والے مجاہدین کی یادگاریں تعمیر کی جائیں۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے کے نقشے میں نواب مظفر خان شہید کا مزارموجود ہے۔ حملہ آور انگریزوں نے شدید بمباری کر کے نواب مظفر خان شہید کے مقبرے کو بھی مسمار کر دیا۔ نواب مظفر خان شہید ہماری دھرتی کا ہیرو ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ گھنٹہ گھر کی طرف سے آنے والے راستے پر دروازے کو تعمیر کیا جائے اور دولت گیٹ کی طرف سے بھی دروازہ تعمیر کیا جائے۔ سیاسی اور مالی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر بزرگان دین کے پیغام کو عام کرنے کیلئے اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ ضروری ہے۔ زائرین کے بہت سے مسائل اور مشکلات ہیں ، ان مشکلات کے حل کیلئے حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ محکمہ اوقاف نذرانے وصول کرتا ہے اور دربار کے سرکاری ملازم عقیدت مندوں پر دم کرتے ہیں مگر غریب ، بے وسیلہ اور محروم عقیدت مندوں کو دعا کے ساتھ ساتھ دوا کی بھی ضرورت ہے۔ ان کے دکھ ، تکلیف اور مشکلات کے ازالے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمارے عمائدین جو ملک کی بہت بڑی سیاسی جماعتوں کے اہم عہدوں پر فائز ہیں ، وہ غربت کے خاتمے کیلئے کوئی نظریہ یا منشور دینے کی بجائے غریبوں کو صرف دلاسے دیتے رہے تو مسئلے کس طرح حل ہوں گے؟ آج وسیب کو صوبے کی ضرورت ہے، اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے، انجینئرنگ ، میڈیکل ، ایگریکلچرل یونیورسٹیوں اور کیڈٹ کالجوں کی ضرورت ہے ، انہیں سی ایس ایس کے علیحدہ کوٹے کی ضرورت ہے ، انہیں ملازمتوں میں برابر حصے کی ضرورت ہے، سرائیکی وسیب کے لوگوں کو خطے کی شناخت صوبے اور حقوق کی ضرورت ہے۔ پیران عظام باہر نکل کر اپنے وطن وسیب کی بہتری کیلئے کام کریں تاکہ غریبوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع حاصل ہو سکیں اور ان کی صدیوں کی محرومی کا خاتمہ ہو سکے۔
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker