ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

کالا باغ ڈیم آج بھی بن سکتا ہے!: وسیب/ظہور دھریجہ

میری تحریر کالا باغ ڈیم کے حوالے سے ہے، اپنے اصل موضوع پر آنے سے پہلے 786اور 92 کے بارے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اعداد احترام اور تقدس کے زمرے میں آتے ہیں۔ 786/92کے بارے میں علماء کرام فرماتے ہیں کہ علم الاعداد ، اعداد کا وہ خاص علم ہے جس میں قاعدہ جمل کی رو سے حروف ابجد کی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں چنانچہ اس طریقہ سے اسماء مبارکہ یا آیات کریمہ وغیرہ کے حروف کی مقرر کردہ قیمتوں کا مجموعہ حاصل کر لیا جاتا ہے۔ قاعدہ جمل کی رو سے صرف ان الفاظ کا اعتبار ہوتا ہے جو لکھے جائیں خواہ پڑھے جائیں یا نہ پڑھے جائیں ، اسی طرح مشدد حرف کیونکہ ایک ہی لکھا جاتا ہے اس لئے اسے ایک حرف شمار کرتے ہیں ،اگرچہ پڑھنے میں دو حرف ہیں۔ جس طرح کہ اسم جلالت اللہ کے 22اور اسم گرامی محمد کے 92 اعداد بنتے ہیں اور بسم اللہ کے اعداد 786بنتے ہیں ۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اسماء مبارکہ اور کلمات مقدسہ کو بے ادبی سے بچانے کے لئے اعداد کے مجموعہ کی صورت میں لکھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عموماً تعویذات میں کلمات مقدسہ اور آیات قرآنیہ وغیرہ اور خطوط پر بسم اللہ اعداد کی صورت میں لکھی جاتی ہے اس طرح اورکئی عملیات و وظائف میں اس کا استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ اسماء مبارکہ کو ان کے اعداد کے ساتھ خاص مناسبت ہے۔ 92کے ہندسے میں ایک ہندسہ 9کا بھی ہے اس ہندسے کی ایک منفرد اور قابل ذکر پہچان ہے،یہ ہندسہ اتنا طاقت ور ہے کہ ہر صورت میں اپنی حیثیت برقرار رکھتا ہے، جیسا کہ 9کو 2کے ساتھ ضرب دیں تو 18 ہوئے، یعنی آٹھ اور ایک ، نو ۔ 9کو 3کے ساتھ ضرب دیں تو حاصل 27، یعنی سات اوردو نو۔ 9کو 4کے ساتھ ضرب دیں تو 36یعنی چھ اور تین نو۔ 9کو 5کے ساتھ ضرب دیں تو 45 یعنی پانچ اور چار نو۔ 9کو 6کے ساتھ ضرب دیں تو54یعنی چار اورپانچ نو۔ 9کو 7کے ساتھ ضرب دیں تو 63یعنی تین اور چھ نو۔ 9کو 8کے ساتھ ضرب دیں 72یعنی دو اور سات نو۔ 9کو 9کے ساتھ ضرب دیں تو 81یعنی ایک اور آٹھ نو۔ اور9کو 10دس کے ساتھ ضرب دیں تو پھر بھی 90 یعنی صفر اور نو۔ مختصر یہ کہ آپ سینکڑوں ،ہزاروں اور لاکھوں تک چلے جائیں 9کا ہندسہ اپنی حیثیت برقرار رکھتا ہے۔ میری دعا ہے کہ روزنامہ 92نیوزاخبار 9کے ہندسے کی طرح اپنی منفرد اور الگ حیثیت ہمیشہ برقرار رکھے۔ اب میں اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں۔ روزنامہ 92نیوز میں کالا باغ ڈیم کے حوالے سے مختلف خبریں شائع ہوئی ہیں،ایک خبر کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی بحث چھیڑنا فیڈریشن سے کھیلنا ہے۔قوم پرست سندھی رہنما ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کالا باغ ڈیم کے منصوبے ہمیشہ کیلئے دفن کرنا پڑیں گے ۔ واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ کالا باغ ڈیم پر سندھ کے تحفظات درست ہیں، اتفاق رائے تک کالا باغ ڈیم پر کام نہیں کریںگے۔ اس سے پہلے پشتون رہنماؤں کے بھی کالا باغ ڈیم کے بارے میں بیانات آ چکے ہیں ، عجب بات ہے کہ کالا باغ ڈیم پر سب اپنے اپنے بیان دے رہے ہیں لیکن کالا باغ ڈیم کے اصل وارث سرائیکی وسیب سے نہیں پوچھا جا رہا کہ ان کا موقف کیا ہے؟۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کالا باغ ڈیم کے سلسلے میں اصل فریق سرائیکی وسیب ہے ، ڈیم سے متعلق تمام معاملات میں سرائیکی کو بحیثیت قوم اور بحیثیت اکائی شامل کیا جانا ضروری ہے۔ کالا باغ ڈیم دریائے سندھ پر بنے گا، دریائے سندھ کے ناموں پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دریائے سندھ کے نام مختلف جگہوں پر مختلف ہیں یہ دریا جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں اسے ’’اباسین‘‘ ، آگے اٹک اس سے آگے نیلاب ، سرائیکی وسیب میں سندھ اور سندھ میں اسے مہران کہا جاتا ہے ، سندھ نام کی وجہ سے صوبہ سندھ یا کسی اور کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملکیت کا دعویٰ کرے، یہ بھی عرض کردوں کہ جہاں سے یہ دریا شروع ہو رہا ہے وہاں بھی اس کا نام سرائیکی میں ’’ابا سئیں‘‘ یعنی دریاؤں کا باپ ہے آغاز سے اختتام تک دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ بولی جانے والی زبان سرائیکی ہے مگر سرائیکی قوم کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کہے اس دریا پر حق ملکیت صرف ہمارا ہے تمام دریا جہاں جہاں سے گزرتے ہیں اس کے آس پاس رہنے والے اس کے مالک ہوتے ہیں ، لہٰذا کسی ایک خطے یا ایک صوبے کی طرف سے ملکیت کا دعویٰ غلط ہے، پانی کا نام زندگی اور زندگی کا نام پانی ہے یہ سب کو ملنا چاہئے اور اس کی تقسیم ایماندارانہ طریقے پر ہونی چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کے سوا دوسرے صوبوں کی تینوں اسمبلیوں نے کالا باغ ڈیم کے خلاف قرار داد یں پاس کیں ملتان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بزرگ رہنما اور ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھی ملک الطاف کھوکھر بتاتے ہیں کہ بھٹو صاحب نے 1976ء میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا ہوم ورک مکمل کر لیا تھااگر ان کی حکومت کا تختہ نہ اُلٹتا تو کالا باغ ڈیم بن چکا ہوتا۔ کالا باغ ڈیم کو سب سے پہلے جنرل ضیاء الحق نے صوبہ سرحد کے گورنر جنرل فضل حق سے یہ بیان دلوا کر متنازعہ بنوایا کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے،پھر ولی خان کا بیان آیا کہ بم مار دیں گے اگر قومی حوالے سے دیکھا جائے تو کالا باغ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے اور آج بھی یہ بن سکتا ہے مگر اس کے لئے سرائیکی صوبہ کا ہونا ضروری ہے کہ پنجاب کا چھوٹے صوبے اعتماد کرنے پر تیار نہیں ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker