مخدوم مظفر ہاشمی اور کلثوم نواز کی وفات:ظہور دھریجہ


columns of zahoor-dhareeja
  • 7
    Shares

(11 ستمبر 2018ء) سرائیکی نیشنل الائنس کے مرکزی چیئرمین مخدوم مظفر ہاشمی اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز انتقال کر گئیں ۔ 11ستمبر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم وفات بھی ہے۔ مخدوم مظفر ہاشمی اور بیگم کلثوم نواز کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ‘ البتہ دونوں پاکستانی اور سیاسی رہنما تھے ۔سرائیکی وسیب کے حقوق کیلئے جہاں مخدوم مظفر ہاشمی کی خدمات ہیں وہاں پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف بیگم کلثوم نواز کی جمہوریت کیلئے خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ٹھیک ہے کہ وسیب کے کروڑوں افراد کو تخت لاہور اور میاں برادران سے بہت شکایات ہیں مگر کلثوم نواز سے نہیں کہ وہ ایک خاتون خانہ تھیں ، دوسرا یہ کہ بزرگ فرما تے ہیں کہ مرنے والے کو ’’ اچھا‘‘ ضرور کہو کہ اس کی بخشش ہو جائے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ بیگم کلثوم نواز اور مخدوم مظفر ہاشمی کا آپس میں کوئی تعلق نہ تھا البتہ مرحوم مظفر ہاشمی اور حال ہی میں وفات پانے والے معروف سرائیکی شاعر سئیں قیس فریدی کا آپس میں گہرا تعلق بنتا ہے۔ وہ اس طرح کہ حالیہ دنوں میں قیس فریدی رحیم یارخان کے تاریخی قصبے مئو مبارک میں مقیم تھے اور مخدوم مظفر ہاشمی کا تعلق بھی مئو مبارک سے تھا۔ دونوں کا سرائیکی تحریک سے تعلق تھا ۔ قیس فریدی کا ادبی حوالے سے اور مخدوم مظفر ہاشمی سیاسی حوالے سے ۔ دونوں کینسر کے موذی مرض کے باعث فوت ہوئے۔ وفات کے بعد دونوں کی تدفین مئو مبارک میں ہوئی ۔ مخدوم مظفر ہاشمی وفاقی وزیر پلاننگ مخدوم خسرو بختیار اور صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت اور سابق وزیر خزانہ مخدوم شہاب الدین کے قریبی عزیز تھے مگر وہ بتاتے تھے کہ میں مخدومی کے رشتے کو ترجیح نہیں دیتا ، وہ اکثر کہتے میرا رشتہ دار وہ ہے وہ ہے جو وسیب کے غریبوں کی بہتری کیلئے کام کرے۔ مخدوم مظفر ہاشمی کئی سال سے علیل تھے ۔ عام اجتماعات میں بہت کم جاتے مگر دھریجہ نگر کے جلسوں میں آئے، چھوٹے بھائی ڈاکٹر فاروق کی شادی پر بھی آئے اور ملتان میں اپنے بیٹے جو نشتر میں ڈاکٹر ہیں سے ملنے آتے تو جھوک سرائیکی میں ضرور تشریف لاتے۔ مخدوم مظفر ہاشمی اگلے جہان چلے گئے ، اب یادیں رہ گئی ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ دھریجہ نگر میں ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر تقریب تھی ۔ مخدوم صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ لسانی تعصب یا جھگڑے حقوق غصب کرنے سے جنم لیتے ہیں ۔ اگر سب کو برابر حقوق مل جائیں تو جھگڑے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ بنگال کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کے بانی بنگالی تھے ۔ پاکستان کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں بنگالیوں نے دیں مگر پاکستان بنا تو مغربی پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگالیوں پر بھی اردو مسلط کرنے کی کوشش ہوئی ۔ جس پر انہوں نے احتجاج کیا ۔ ان پر گولیاں چلائی گئیں، جس بناء پر ڈھاکے میں شہید مینار وجود میں آیا اور بنگالی نوجوانوں کی شہادت کے دن 21 فروری کو اقوام متحدہ کی طرف سے ’’ ماں بولی کے حق ‘‘ کا دن قرار دیا گیا توثابت ہوا کہ کسی بھی معاملے پر نا انصافی سے جھگڑا اور فساد پیدا ہوتا ہے اور سب کو برابر حق دیدیا جئے تو کوئی تنازعہ یا جھگڑا نہیں ہوتا۔ گزشتہ سال دھریجہ نگر میں سرائیکستان یکجہتی کانفرنس تھی ۔ پولیس رکاوٹیں ڈال رہی تھی ، مخدوم مظفر صاحب نے مجھے فون کیا کہ کیا کانفرنس کینسل ہو گئی ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں آپ تشریف لائیں گھر میں پروگرام کرنا پڑا تب بھی کریں گے ۔ وہ تشریف لائے اور علالت کے باوجود انہوں نے جذباتی خطاب کیا جو ریکارڈ کا حصہ بنا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں سندھ رجمنٹ قائم کی گئی، اگر سرائیکی وسیب کے لوگ ’’ وسیب رجمنٹ ‘‘ کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کا مطالبہ کسی بھی لحاظ سے غلط نہیں کہ وہ ملکی سرحدوں کی محافظ پاک فوج کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ سرائیکی ریاست بہاولپور کی رجمنٹ موجود تھی جو پاک فوج میں ضم ہوئی ۔ سرائیکی وسیب خصوصاً ریاست بہاولپور کے قیام پاکستان کیلئے عظیم خدمات بھی ہیں تو کیا مناسب نہیں کہ پاک فوج وسیب کے لوگوں کو گلے لگائے ۔ ان کے لئے رجمنٹ اور فوج میں آنے کے بہتر مواقع فراہم کرے اور سرائیکی وسیب میں کیڈٹ ساز اداروں کا قیام ممکن بنایا جائے ۔ آخری ملاقات ان سے جھوک کے دفتر میں ہوئی ۔ جھوک کو اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم سے بڑا پاکستانی کوئی نہیں، سرائیکی وسیب کے لوگ پاکستان سے اس لئے بھی محبت کرتے ہیں کہ ان کا پاکستان کے سوا کوئی ولی وارث نہیں ، جغرافیائی لحاظ سے سرائیکی خطہ پاکستان کے عین درمیان میں ہے ۔دوسرا یہ کہ اردو بولنے والے مہاجرین تو اب بھی خود کو ہندوستانی کہلاتے ہیں۔ صرف پاکستان میں بستے ہیں جبکہ بلوچستان ‘ ایران و عراق میں بھی ہیں ۔ اردو بولنے والے مہاجرین تو اب بھی خود کو ہندوستانی کہلاتے ہیں۔ پنجاب ہندوستان اور پاکستان کے دو واضح خطوں میں منقسم ہے ۔ اسی طرح سندھی بولنے والے اس قدر ہیں کہ سندھی ہندوستان کی قومی زبانوں میں شامل ہے ۔ جبکہ خیبر پختونخواہ اور افغانستان کے لوگ ایک دوسرے کے اس قدر قریب ہیں کہ وہ ڈیورڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے ۔ پاکستان میں ایک سرائیکی قوم ایسی قوم ہے جس کی بیرون بارڈر کسی سے کوئی رشتہ ناطہ نہیں ۔ سرائیکیوں کا دل صرف پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے ۔ سرائیکی وسیب کے لوگوں کو ان کا تاریخی ‘ ثقافتی ‘ جغرافیائی اور وفاقی اکائی کا حق دیکر مضبوط کرنا پاکستان کو مضبوط کرنا ہے ۔ سرائیکی خطہ پاکستان کا دل ہے ۔ دل کو کمزور کرنے کا مقصد موت کو دعوت دینے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ مخدوم مظفر ہاشمی 25 دسمبر 1948ء کو مئو مبارک میں پیدا ہوئے ۔کراچی یونیوسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کی ۔ وہ رحیم یارخان بار کے مستقل ممبر تھے مگر ان کو ایڈوکیٹ کہلوانے کا شوق نہ تھا ۔ بیٹا فرخ مظفر ہاشمی ڈاکٹر ہے ، سیانے کہتے ہیں کہ بیماری کا علاج ہے موت کا علاج لقمان کے پاس بھی نہ تھا ۔ذاتی طور پر مخدوم مظفر ہاشمی بہت اچھے انسان تھے ۔ انسانوں سے محبت کرتے ۔ ان کی بھی تمنا اور دعا تھی کہ خداواند کریم سرائیکی صوبہ مجھے اپنی آنکھوں سے دکھائے مگر نہ جانے یہ تمنا لیکر ہمارے کتنے اکابرین سپرد خاک ہوتے رہیں گے ؟
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

Views All Time
Views All Time
81
Views Today
Views Today
2
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*