اہم خبریں

افغانستان میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار ہو گئی

کابل : افغان طالبان کے مطابق ملک میں منگل کی شب آنے والے زلزلے سے 1000 افراد ہلاک اور 1500 زخمی ہو گئے ہیں۔حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔رات ڈیڑھ بجے آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.1 تھی جبکہ اس کا مرکز خوست سے 44 کلومیٹر کی فاصلے پر تھا۔
زلزلے سے مشرقی صوبہ پکتیکا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں سے ملنے والی تصاویر میں تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ ان تصاویر میں زخمی افراد کو سٹریچرز پر دیکھا جا سکتا ہے جب کہ تباہ شدہ مکانوں کا ملبہ بھی نظر آ رہا ہے۔متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور دوردراز علاقوں میں زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
طالبان رہنما ہبت اللہ اخونزادہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس زلزلے سے سینکڑوں مکانات منہدم ہوئے ہیں اس لیے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں اطلاعات کے محکمے کے سربراہ محمد امین حزیفی نے بی بی سی میں بتایا کہ ہلاک شدگان کی تعداد 1000 ہے جبکہ 1500 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو ایک لاکھ افغانی جبکہ زخمیوں کو پچاس ہزار افغانی دے گی۔افغانستان کی حکومت کے ترجمان بلال کریمی نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں تمام غیر سرکاری اداروں اور ایجنسیز سے درخواست کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں روانہ کریں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
ایک مقامی ڈاکٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک زیادہ جانی نقصان افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع گایان اور برمل میں ہوا ہے۔ مقامی میڈیا ویب سائٹ اطلاعات روز کے مطابق گایان میں ایک گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔افغانستان میں زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی اور ہلاکتوں کے بعد اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) نے متعلقہ خیراتی اداروں سے زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹوئٹر پیغامات میں ایجنسی کے حکام نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کی جانب ٹیمیں روانہ کی جا چکی ہیں تاکہ فوری ضروریات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ادھر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے افغانستان میں زلزلے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں بہنوں کے ساتھ ہیں۔’
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker