اختصارئےتہمینہ بشیرلکھاری

تہمینہ بشیر کا اختصاریہ : کورونا کی آڑ میں تعلیم کے ساتھ کھلواڑ

کرونا جیسی مہلک وبا کو آئے ایک سال گزر گیا اور اس ایک سال میں نا صرف ملکی معیشت کو نقصان ہوا بلکہ اس نے تعلیمی نظام کو بھی تہس نہس کر کے رکھ دیا ہمارا تعلیمی نظام جو کہ پہلے ہی رو بہ زوال ہے سونے پر سہاگہ کے مترادف آئے روز اس مہلک وبا کے باعث تعلیمی سر گرمیوں کو معطل کر دیا جاتا ہے ۔
آن لائن تعلیمی نظام ہر تعلیمی ادارے میں رائج ہے جو کہ کسی قدر قابل قبول نہیں آن لائن کے نام پر چند برقی کتب طالب علموں کو بھیج دی جاتی ہیں اور وقت آنے پر امتحان لے لیا جاتا ہے طلبہ گھر بیٹھے مختلف ذرائع سے نقل کر کے پرچہ حل کر لیتے ہیں جو کہ مسلسل ایک بہت بڑا نقصان ہے یہیں اگر بات کی جائے سکولوں ، کالجوں اور جامعات کی بھاری بھرکم فیسوں کی تو وہ وقت پر وصول کی جاتی ہیں جیسا کہ تعلیمی سرگرمیاں آن لائن جاری ہیں تعلیمی اداروں کے بہت سے اخراجات کی بچت ہو رہی ہے تو اس طرح انتظامیہ کو طالب علموں سے بھی جائز فیسیں وصول کرنی چاہیئں لیکن ایسا نہیں ہے یہ غیر منصفانہ رویہ ہے کہ طالب علم گھر بیٹھ کر مہنگے مہنگے انٹرنیٹ کے پیکجز لگائیں ، وائی فائی کے بل بھر کر آن لائن کلاسیں لیں اور فیسیں بھی بھریں نا صرف یہ بلکہ بعض طلباء ایسے علاقہ جات سے تعلق رکھتے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سروس نا ہونے کے برابر ہوتی ہے ان طلباء کی مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں ان تمام مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے پر وزرائے تعلیم کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے
یہ تو بات ہوگئی آن لائن کلاسوں اور طلبا کو پیش آنے والی مشکلات کی جہاں یہ سب حالات ہیں وہاں اگر دیگر سر گرمیوں کو دیکھا جائے تو تمام امور معمول کے مطابق چل رہے ہیں بازار کھلے ہیں دیگر کاروبار زندگی اپنے مقررہ اوقات اور نظام کے مطابق رواں دواں ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کی جب شام چھ بجے تک دکانیں اور دیگر دفاتر کھلے رکھے جا سکتے ہیں تو سکول کالج اور جامعات کیوں نہیں کھولی جا سکتیں؟ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کو بحال کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ کیا تعلیم کا نقصان ہمارے نزدیک کوئی بڑا نقصان نہیں ہے؟ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں کہ جو حکومت وقت سے نہیں ہوسکتا حکومت وقت کو چاہیے کہ تعطیلات کو طویل کرنے کی بجائے لائحہ عمل تیار کیا جائے اور اس لائحہ عمل کے مطابق تعلیمی اداروں کو کھول دیا جائے
کہا جاتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طالب علم احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے اگر ایسا ہے تو کیا ہجوم میں ، بازار میں لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں؟ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہیں پر بھی ایس او پیز کی پابندی نہیں کی جارہی ہر طرف خلاف ورزی جاری ہے جہاں مختلف شرائط و ضوابط کی بنا پر باقی کام معمولات کے مطابق ہو رہے ہیں وہیں تعلیمی اداروں پر بھی نظر کرم کی جائے تعلیمی اداروں کو نشانہ نہ بنایا جائے جہاں چند شرائط لاگو کروا کر انتظامیہ ان احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا کہہ سکتی ہے اور تعلیم کا مزید نقصان ہونے سے روکا جا سکتا ہے
خدارا! یہ کوئی عام بات نہیں ہے اس پر خصوصی توجہ دی جائے ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت وقت کی پہلی ترجیح تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی ہونی چاہیے مگر ایسا نہیں ہے پھر بھی ایک طالب علم ہونے کے ناتے میری حکومت وقت سے نہایت ادب سے التماس ہے کہ خدارا کرونا کی آڑ میں تعلیمی نظام کے ساتھ ہونے والے اس کھلواڑ کو بند کریں تعلیمی سرگرمیاں بحال کریں تاکہ گزشتہ برس سے ہونے والے تعلیمی نقصان کا ازالہ ہو سکے اور تمام طلباء اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker