رضی الدین رضیکالمکتب نمالکھاری

رضی الدین رضی کا کالم : شاہد راحیل اور میری کہانیاں ، نیا دن سے ادبی بیٹھک تک

برادرم شاہد راحیل کی کتاب” تیری میری کہانی“ پڑھی تو دل کو اپنی بھی کچھ کہانیاں یاد آ گئیں اور یہ سب کہانیاں شاہد راحیل کے حوالے سے ہیں جن کے ساتھ میری رفاقت کوئی دو عشروں پر محیط ہے ۔ لیکن یہ دو عشروں کی رفاقت بھی کہیں کہیں آنکھ مچولی کی صورت اختیار کرتی رہی کہ اس دوران وہ بھی ملازمت کے سلسلے میں مختلف شہروں میں مقیم رہے اور میں تو سدا سے آوارہ گرد ملازم ہوں جو ایک سے دوسرے اخبار اور چینل سے ہوتا ہوا آخر سرکار کا نوکر ہو گیا ۔
آنکھ مچولی والی یہ رفاقت دراصل شاہد راحیل صاحب کی ریٹائرمنٹ کی منتظر تھی کہ اس کے بعدہماری ادبی بیٹھک اور دیگر تقریبات میں ان کے ساتھ تسلسل سے ملاقاتیں ہونے لگیں اور جب تسلسل سے ملاقاتیں ہوئیں تو ان کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا بھی موقع ملا پھر ہم نے ان کی محبتیں بھی سمیٹیں اور ان کی افسانہ نگار صاحب زادی سائرہ راحیل اور شاعر صاحب زادے ڈاکٹر احمد خلیل سے بھی ہمارا رابطہ ہوا ۔ شاہد راحیل کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ ان کے خلوص میں تصنع نہیں‌ہے اور فی زمانہ یہ خوبی کم لوگوں میں ہی پائی جاتی ہے ۔
میں بات روزنامہ” نیا دن“ سے شروع کرتا ہوں جس کا اجراء دسمبر 1999 ء میں ہوا تو میں اصغر زیدی کے ساتھ اس کی بانی ٹیم کا رکن تھا ، نیا دن نے ملتان میں اشاعت کے کئی ریکارڈ قائم کیے اس اخبار نے اس زمانے کے سب سے مقبول اخبار” خبریں“ کو صحیح معنوں میں ”وختہ “ ڈال دیا ۔ اسی اخبا ر نے کئی نئے کالم نگار متعارف کرائے جن میں سے کئی آج بھی قلم کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ، شاہد صاحب اسی اخبار میں ” تلخیاں “ کے نام سے کالم لکھتے تھے ان کے علاوہ ادارتی صفحے پر ڈاکٹر عباس برمانی اور فاروق انصاری صاحب کے کالم بھی شائع ہوتے تھے ” نیا دن “ کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ ساجھے کی یہ ہنڈیا مالکان کی دوسری شادیوں کی خواہش کے نتیجے میں بیچ چوراہے میں پھوٹ گئی ۔
پھر روزنامہ ”نیا دن “ سے روزنامہ ” نیا دور “ کا ظہور ہوا اورمالکان میں سے ایک چوہدری یونس صاحب ایڈیٹر عارف معین بلے کے ہمراہ ”نیا دن“ سے الگ ہو گئے ۔اور ان کے ساتھ ہی شاہد راحیل بھی نیا دور کی جانب ہجرت کر گئے ۔ مجھے یاد پڑتا ہے میری پہلی ملاقات شاہد صاحب کے ساتھ نیا دن کے زمانے میں ہوئی تھی۔
پھر اس کے بعد میں نے شاہد راحیل کو 2008ء میں وسیب ٹی وی پر دیکھ جہاں وہ سرائیکی ڈرامے تحریر کرتے تھے اور میں حالات حاضرہ کے پروگرام ” نتارا“ کا میزبان تھا ۔وسیب ٹی وی کے دفتر میں شاہد صاحب کومیں کبھی آفس کے لان میں اور کبھی پروڈیوسر امتیاز تاج کے ہمراہ ڈراموں کی ریہرسلیں کراتے دیکھتا تھا ۔ قاسم سیال بھی اس زمانے میں وہیں ہوتے تھے اور مرحوم رانا اعجاز محمود کے بقول بچوں کو ٹی وی پر سپارے پڑھاتے تھے ۔ اس عرصہ میں بھی شاہد صاحب کے ساتھ کبھی تفصیل سے بات نہ ہوئی۔ بس ہمارا جب بھی سامنا ہوتا ہم ایک د وسرے کی خیریت معلوم کر لیتے تھے دور سے ہاتھ ہلا دیتے تھے یا مصافحہ کر لیتے تھے ۔ شاہد راحیل اپنے کام میں مگن رہتے تھے اور میں بھی بلا وجہ کسی کے ذمے لگنے کا قائل نہیں ۔ پھر ایک روز مجھے امتیاز تاج صاحب نے کہا کہ ہمیں اپنے مزاحیہ ڈرامے کے لیے ٹائٹل سانگ لکھوانا ہے آپ شاعر بھی ہیں یہ گیت آپ لکھ دیں ۔ امتیاز صاحب کو تو میں نے انکار کر دیا کہ میں فرمائشی( اور وہ بھی مزاحیہ) شاعری نہیں کرتا لیکن کچھ روز بعدوہ شاہد راحیل صاحب کو بھی ساتھ لے آئے اور مجھ سے مزاحیہ گیت لکھوانے میں کامیاب ہو گئے ۔
پھر میں وسیب ٹی وی سے اے پی پی میں آ گیا اور شاہد راحیل کے ساتھ ملاقاتوں میں ایک اور طویل وقفہ آ گیا حتیٰ کہ ادبی بیٹھک قائم ہو گئی (” حتیٰ کہ “ کا ایساخوبصورت استعمال بھی میں نے شاہد راحیل صاحب سے ہی سیکھا ہے ) ۔
اب تک آپ یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں نے چونکہ کتاب پڑھی نہیں اس لیےقصے کہانیاں سنا کر اظہر مجوکہ کی طرح ڈنگ ٹپا رہا ہوں تو آئیں اب کتاب کی بات کرتے ہیں اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔ شاہد راحیل کی کتاب ” تیری میری کہانی “ کے بیشتر مضامین میرے لیے نئے نہیں ۔ ادبی بیٹھک میں ان میں سے کئی مضامین اور افسانے ہم سب دوست نثر کی محفلوں میں سن بھی چکے ہیں ۔ شاہد راحیل کے فن کی کئی جہتیں ہیں ۔ وہ ملتان کی بہت سی خوبصورتیوں کو دیکھ چکے ہیں ۔ ملتان کے سٹیج کا ابتدائی زمانہ انہوں نے دیکھا اور اس کے ساتھ منسلک بھی رہے ۔ اخبارات کے ساتھ قلمکار کی حیثیت سے ان کا زمانہ طالب علمی سے ہی ناتا رہا ۔ انہوں نے مزاحیہ مضامین بھی لکھے اور افسانے بھی تحریر کیے ۔ اب تو خیر شعر بھی کہتے ہیں اور شاعری کا الزام ادبی بیٹھک پر دھرتے ہیں ۔لیکن موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں یہ وضاحت تو ضرور کرنا چاہتا ہوں کہ شاعری انہیں ورثے میں ملی ہے ۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ شاہد راحیل کے چچا عبدالرحیم رند شعر کہتے تھے ۔ اور لوگوں کو بھلا ان کا نام کیسے معلوم ہو کہ وہ تو شعر کہہ کر رجسٹر میں ہی درج کر لیتے تھے ۔ وہ رجسٹر مجھے شاہد صاحب نے دکھایا تھا اور میں نے اور نوازش علی ندیم نے ان کے چچا کے کلام میں معمولی درستی کے بعد اسے قابل اشاعت بھی بنایا تھا ۔ اس کتاب کو شاہد راحیل صاحب شائع کرانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں یقینی طورپر وہ اہم کتاب ہو گی ۔
شاہد راحیل کی یہ کتاب ان کی یادوں ، افسا نوں اور مضامین کا مجموعہ ہے ۔ یاد نگاری کے حوالے سے انہوں نے زندگی کے کچھ اہم واقعات اور اپنی اہلیہ کا یادوں کے حوالےسے اپنے خاندان کا بہت سا احوال محفوظ کر دیا ہے ۔خاص طور پراپنے مضمون ” زندگی امتحان لیتی ہے“ میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ اس حادثے کا ذکر کیا جس میں انہیں ایک طرح سے نئی زندگی ملی اور ” رشتوں کا بٹوارہ“ ان کے خاندان کی سچی کہانی ہے جو ہجرت کے المیے کو اجاگر کر تی ہے اسی طرح انہوں نے اپنی والدہ اور اہلیہ کی یادوں کے حوالے سے بھی خوبصورت مضامین قلم بند کیے ہیں ۔ شاہد راحیل کے افسانے زندگی کی تلخ سچائیوں کا اظہار یہ ہیں ان میں سے بعض موضوعات بہت حساس ہیں ۔ شاہد راحیل نے ایک سیلف میڈ انسان کی حیثیت سے زندگی کی تلخیوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ وہ تعصبات اور نفرتوں سے پاک معاشرہ چاہتے ہیں او ر اس سماج کو بد صورت بنانے والوں کا ا صل چہرہ قاری کے سامنے لاتے ہیں ۔افسانوں میں وہ قاری کو اپنے حصار میں لیتے ہیں ۔ ” فہرست میں آخری نام “ اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے “ اور ” کچے دھاگے سے بندھے غبارے “ ان کے ایسے ہی افسانے ہیں ۔” بختو بد بخت“ کے عنوان سے ان کا ایک سرائیکی افسانہ بھی کتاب میں شامل ہے
شاہد راحیل تخلیقی نثر لکھنے والوں میں سے ہیں ان کے بعض جملے تو شعر کی طرح ہی داد وصول کرتے ہیں‌۔اس لیے میری خواہش ہے کہ وہ اس میدان میں یکسوئی کے ساتھ سفر جاری رکھیں ۔ اور خاص طور پر اپنی یادوں کو تفصیل کے ساتھ قلمبند کریں ۔ شاہد راحیل بہت سے واقعات کے عینی شاہد ہیں۔ کئی اہم شخصیات کے ساتھ ان کی ملاقاتیں رہیں انہیں یہ سب کچھ محفوظ کر دینا چاہیے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker