دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہولی کا تہوار ہندو برادری نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا۔ اور ہولی کی تمام رسومات بلا روک ٹوک اور پریشانی کے بھرپور انداز میں ادا کیں۔ خوب خوشیاں منائیں جیسا دنیا میں کہیں بھی کیا جاسکتا تھا۔ خوب رنگ پھینکے گئے، مٹھائیاں کھائی کھلائی گئیں، گانا بجانا کیا گیا، غرض یہ کہ جتنا رس اور جتنا چس اس تہوار کا لیا جاسکتا تھا لیا گیا اور خوشیوں کا یہ سلسلہ قریب تین دن تک پوری آزادی اور امن کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جاری رہا۔ یہاں تک کے بہت سے سیاستدانوں، سماجی کارکنوں اور مسلمان دوستوں نے بھی خوب پذ یرائی کی اور ان کی تقریبات میں شریک ہوئے۔ اور اس طرح ہندو برادری کا ایک اہم تہوار خوشیوں اور لذتوں اور خوشگوار یادوں کے ساتھ ایک مسلمان اکثریتی ملک پاکستان میں اختتام پذیر ہوا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والے تمام غیر مسلم اپنی زندگی پوری مذہبی آزادی کے ساتھ گزار سکتے ہیں۔ اور انہیں اپنی عبادت گاہیں بنانے اور آباد کرنے کی کھلی آزادی ہے۔ اور وہ بلا خوف و خطر مذہبی رواداری کا بھرپور لطف اور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ہولی ایک خوشی سے بھرپور ہندو تہوار ہے، جو سردیوں کے اختتام پر بہار کے شروع ہونے سے ذ را پہلے عموما چاند کی چودہ تاریخ کو منایا جاتا جاتا ہے، تاریخی طور پر بہت سی کہانیاں اس تہوار سے وابسطہ ہیں، مگر یہ ایک رنگوں بھرا خوشیوں کا تہوار ہے جو شاید خریف کی فصل کی ابتداء کی خوشی اور جذبے کے تحت بھی منایا جاتا ہے۔
ُُپاکستان میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اور حالیہ ہولی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے مفادات کی عملی طور پر حفاظت کی جاتی ہے اور انہیں بلا تفریق وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو کسی بھی دوسرے مسلمان پاکستانی کو حاصل ہیں۔ جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ اور اقلیتوں میں اس اعتماد کی بنیادی وجہ بھی شاید یہی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کا ملک ہے اور یہاں وہ تیسرے درجے کے شہری نہیں ہیں۔ یہاں ان کی جان مال، عزت آبرو اور عبادت گاہیں اتنی ہی محفوظ ہیں جتنی مسلمانوں کی۔ جہاں ہندو پوری آزادی کے ساتھ ہولی، دیوالی منا سکتے ہیں، وہیں مسیحی کرسمس اور ایسٹر خوب جوش و جذ بے کے ساتھ ہنسی خوشی مناتے ہیں۔ یہ ماحول صرف ایک امن پسند جمہوری ملک ہی دے سکتا ہے۔ جو پاکستان نے عملی طور پر کر دکھایا ہے۔ ورنہ دیوار سے دیوار اور سرحد سے سرحد ملی ہونے کے باوجود نہ بھارت نہ افغانستان کہیں بھی اقلیتوں کیلئے یہ عزت و احترام اور بھائی چارہ نہیں ملے گا۔
جبکہ بھارت میں تو معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ، وہاں تو اقلیتوں کی حالت بہت ہی ابتر ہے، اور مسلمانوں کی حالت تو قابل رحم ہے، بھارت میں رنگوں کی خوشیوں والی ہولی کی جگہ دکھ بھری اقلیتوں کے خون سے بالخصوص مسلمانو ں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے اور خوب جم کے کھیلی جاتی ہے۔ ایسے میں جب پاکستان کے ہندو ہولی کے مزے لوٹ رہے ہیں بھارت میں ہندو مسلمانوں کے گھر لوٹ رہے ہیں۔ ان کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔ مگر بھارتی سرکار اور عالمی میڈیا کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہ دنیا میں مذہب کی بنیاد پر کی جانے والی سب سے بڑی نا انصافی ہے، جو انسانی بنیادی حقوق کی بدترین پامالی کا سبب بن رہی ہے۔ یہ دنیا میں اقلیتوں سے دشمنی کی بد ترین مثال بھی ہے۔ گوکہ پاکستان میں سکھ بہت کم تعداد میں ہیں مگر پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کی انتہائی کم مدت میں تعمیر نو اور اس کا کھولا جانا، گردوارہ پنجا صاحب کی تزئین و آرائش اور سکھوں کی عبادت گا کا احترام کیا جانا زندہ مثالیں ہیں، ساتھ ساتھ سکھوں کی مہمان داری بھی مثالی کی گئی۔ ہر سال ہزاروں سکھ یاتری ننکانہ صاحب اپنی مذہبی رسومات کیلئے آتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہاں وہ بے حد خوشی، آسودگی، آرامدہ اور محفوظ محسوس کرتے ہیں اور اپنی تمام مذہبی رسومات بڑے اطمینان اور سکون سے ادا کرتے ہیں۔ یہ سارے سکھ پاکستان میں خصوصی مہمانوں کی حیثیت میں رہتے ہیں اور ان کے آرام و آسائش کا ہر طر ح سے خیال رکھا جاتا ہے۔ ان کیلئے قیام و طعام کے اعلی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ بہترین سفری سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ جب یہ سکھ واپس جا رہے ہوتے ہیں تو عموما رو رو کر پاکستان کی مہمان نوازی کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں ہمیں بالکل اپنے گھر جیسا سکون و پیار ملا ہے۔ تو پھر بھارت میں مسلمانوں پر خصوصی اور دیگر اقلیتوں پر عمومی پر تشدد اور امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جاتا ہے؟ یہ بھارت کی واضح تنگ نظری و متعصبانہ رویوں کی مثالیں ہیں، کثیر تعداد میں شواہد موجود ہیں جس میں مسلمانوں کو کبھی عید کی نماز کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا، کبھی سور چھوڑے گئے کبھی غلاظت پھینکی گئی، ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ ایک نو عمر مسلمان لڑکے نے مندر سے پانی پی لیا جس پر اس کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوا، جب ان کے ایک متعلقہ منتری جی سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے نہایت ڈھٹائی سے کہا کہ جب باہر بورڈ لگا ہے کہ مسلمانوں کا داخلہ ممنوع ہے تو پھر وہ کیوں مندر میں داخل ہوا، حالانکہ وہ نل جس سے لڑکے نے پانی پیا تھا مندر کے باہر لگا تھا۔ وہ حضرت یہ بھی کہنے لگے کہ ہمارے دروازے مسلمانوں کے علاوہ تمام دوسرے مذاہب کے لوگوں کیلئے کھلے ہیں۔ ہم باقی سب کو اپنے مندر میں بلاتے ہیں اور مل کر ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں، مگر مسلمان بالکل نہیں چاہئے، انہوں نے نہایت غصے اور حقارت سے کہا کہ مسلمان بالکل نہیں چاہئے اور کسی صورت نہیں چاہئے، ہم دیگر تمام مذاہب کو برداشت کر سکتے ہیں علاوہ مسلمانوں کے، بھارت کے متعصب رہنماؤں کے اس طرح کے بیانات لوگوں کو مسلمانوں پر بلاوجہ تشدد کرنے پر اکساتے ہیں اور ہمت فراہم کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی و غیر اخلاقی سلوک روا رکھیں۔
بھارت میں یہ معمول ہے کہ گڑ بڑ کوئی بھی ہو نزلہ مسلمانوں اور مساجد پر گرتا ہے اور مساجد کی خوب بے حرمتی کی جاتی ہے ، جلایا جاتا ہے توڑا پھوڑا جاتا ہے۔
اس کے بعد باری آتی ہے مسلمانوں کی املاک کی اور تان آکر ٹوٹتی ہے مسلمانوں کے خون سے کھیلی جانے والی ہولی پر۔ اقوام عالم کی مظالم پر چشم پوشی اور مجرمانہ خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمنوا ہی ہیں۔
مندرجہ بالا حالات کے تناظر میں اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ : اب بھی نہ جاگے تو نسلیں بھی غلام ہو جائیں گی، اپنے بچوں کیلئے اب جاگ جانا چاہئے۔
بھارت کے مسلمانوں کو چاہئے کہ آپس کا جوڑ مضبوط کریں، اتحاد بین المسلمین قائم کریں اور اپنے لئے آزاد مملک کی تحریک چلائیں، یقینا تحریک قربانی مانگتی ہے، تو بھائی مارے تو ویسے بھی جا رہے ہو، کسی اچھے کام کی راہ میں مارے گئے تو یہ تو کہہ سکو گے کہ صحیح جگہ سرمایہ تن لگ گیا۔ انشاء اللہ جس طرح مسلمانوں کی کاوشوں سے پاکستان وجود میں آیا بھارت میں سے کئی اور پاکستان جنم لے سکتے ہیں۔ بس ہمت، لگن اور جہد مسلسل کی ضرورت ہے۔ ساتھ ساتھ مخلص رہنما جن کی طرز فکر قائد اعظم محمد علی جناح جیسی ہو۔
فیس بک کمینٹ

