افسانےحنا عنبرینلکھاری

زنجیر ( 1 ) ۔۔ حنا عنبرین

سرسبز پہاڑوں چشموں اور درختوں سے سجی وہ ایک بہت خوبصورت وادی تھی ۔وہاں جب صبح طلوع ہوتی تو منظر دیدنی ہوتا تھا ۔وہ ہرنی کی طرح ادھر ادھر قلانچیں بھرتی پھرتی رہتی سرخ وسفید رنگت ،بھورے بال ،خوابیدہ آنکھیں۔ ایسا لگتا یہ خوابوں کی وادی ہے اور وہ کوئی جنت سے آئی ہوئی اپسرا۔ بھورے بالوں کی بے ترتیب لٹیں چہرے سے ہٹاتی ہوئی سر پر پیچھے کی طرف رومال باندھےہاتھ میں لکڑی کی چھڑی سے بھیڑوں کو ہنکاتی جاتی اور اپنی نفیس کمر سے بندھے کپڑے میں باریک لکڑیاں جمع کرتی جاتی۔ کبھی وہ کسی چھوٹے گلابی میمنے کو گود میں اٹھا لیتی ۔چشمے کا صاف پانی بھر کے لاتی ,تندور کی روٹی کی سوندھی خوشبو ,گاۓ کے گلے کی گھنٹی اور اماں کے لسی کے مٹکے کی گھرڑ گھرڑ کی آواز اس کا رومان تھیں ۔اسے اپنا گاؤں شہر سے زیادہ اچھا لگتا ۔بسوں کا بدبودار دھواں، شور ،لوگوں کا ہجوم، اس کا جی اوبھ جاتا۔اسے اپنے گاؤں کے کھیت، درختوں کے جھولے ندی نالے اونچے پہاڑ ,دریا جنگل، سب اچھا لگتا ۔اماں کے ہاتھ کے بنے سب کھانے اچھے لگتے۔ ابا شہر جاتے تو اس کے لیے ضرور کچھ لاتےاور وہ شام تک ابا کے آنے کا انتظار کرتی۔ اکثر ابا کو آنے میں دیر ہو جاتی اور وہ رات گئے ان کا انتظار کر کے سو جاتی ۔صبح طلوع ہوتی تو وہ ابا کو گھر میں موجود پا کر ان سے انجان بن جاتی اور روٹھ جاتی اور ابا اسے کتنے پیار سے منا لیتے۔اس کا گاؤں اس کا عشق تھا جہاں اس کی اماں تھیں ابا تھے گاؤں کی مسجد, اس کا سکول جس میں اس نے آٹھ جماعتیں پاس کی تھیں۔ کتنے اچھے ہیں میرے ماں باپ ہر کسی کا بھلا چاہنے والے ہر کسی کے کام آنے والے۔ اسے نہیں یاد تھا کہ ابا نے کبھی کسی کو گالی دی ہو یا اماں نے کسی کو ستایا ہو۔ اپنے ابا اور اماں کے روشن اور چمکدار چہرے دیکھ کر اسے ہمیشہ سکون ملتا۔وہ ابا کے گلے میں بانہیں ڈال دیتی اور اماں دیکھ کر مسکرا دیتیں۔بچپن کب گزر گیا اورکب اس نے جوانی کی وادی میں قدم رکھا،اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ بے فکری کی جگہ ہزار اندیشوں نے دل میں گھر کر لیا۔ احساس ہی نہیں ہوا۔


اس کے ابا لکڑی کا کام کرتے تھے ۔صبح کی ملگجی روشنی آنگن میں پھیلنا شروع ہورہی تھی۔گاؤں کی عورتیں صبح سویرے جاگ گئی تھیں اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھیں کوئی گوبر سےاپلے تھاپ رہی تھی کوئی بھینسوں کا دودھ نکال رہی تھی کوئی تندور دہکا رہی تھی کوئی لسی بنانے کے لیے مٹکے کے گلے کی رسی گھما رہی تھی۔ اسے صبح سویرے جاگنا بہت پسند تھا ۔ابا نماز پڑھ کے آگیا تھا اس نے اور اماں نے نماز پڑھی اماں نے لسی بلوئی۔ اس نے آٹا گوندھا اماں نے تندور گرم کیا اور روٹیاں اتارنے لگی اس نے تازہ مکھن کا پیڑا روٹی پر رکھا مٹی کے پیالے میں لسی ڈالی اور ابا کے سامنے رکھ دی ۔جیوندی رہ پتر نوراں اللہ تیرا گھر آباد کرے وہ ہمیشہ کی طرح ابا سے نظریں ملاۓ بغیر سامنے سے ہٹ گئ کہ کہیں ابا اس کی آنکھوں میں تیرتی نمی نا دیکھ لے نہیں تو اس نے پوچھ کے ہی دم لینا تھا ۔اس کے دونوں بچے بالکل اپنی ماں پر گئے تھے ،سرخ سفید خرگوش جیسے۔ اس وقت بھی نانا کے ساتھ ناشتہ بھی کر رہے تھے اور نانا سے پیار بھی لے رہے تھے۔ ابا ان کو دیکھ کے ٹھنڈی آہ بھر کے آسمان کی طرف دیکھنے لگا تھا۔ عام طور پر دروازہ کھلا ہی رہتا تھا گاؤں کا ہر گھر اپنا ہی گھر سمجھا جاتا تھا کوئی خاص مہمان آتا تو کنڈی بجاتا ۔کب سے دروازہ بج رہا ہے نوراں پتر دیکھ کون ہے۔ اماں نے اسے آواز دی وہ بچوں کے منہ میں نوالہ دیتے ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ چاچا چاچی آۓ ہیں ۔وہ پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھتی رہ گئی۔ دونوں نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کے اسے سینے سے لگایا۔ وہ آتے ہی ابا کے پیروں میں گر گئے،ہمیں معاف کردے بھرا ,کمالے کے بدلے کی ہم تم سے معافی مانگتے ہیں۔ ہر دفعہ ایسا ہی ہوتا کمالا اسے مار پیٹ کے گھر چھوڑ جاتا اورمہینوں لینے نا آتا اور ہر دفعہ چاچا چاچی منت سماجت کر کے اسے لے جاتے۔پاؤں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے تیرے پتر کمالے نے جو کچھ میری نوراں کے ساتھ کیا ہے اس کی معافی ہے ہی نہیں۔ تم آرام سے بیٹھو چاۓ ناشتہ کرو پر نوراں کو لے جانے کی بات مت کرنا .کپڑے تہہ کرکے صندوق میں رکھتی نوراں کی آنکھ میں اپنے اور کمالے کے ساتھ گزرے سارے دن گھوم گئے۔ابھی سولہ برس کی ہی ہوئی تھی کہ اماں کو اس کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر لگ گئ تھی گھر داری ,سینا پرونا تو اس نے سیکھ ہی لیا تھا ہانڈی چولہا ہی تو کرنا ہے ہم نے کون سا نوکری کرانی ہے پڑھ لکھ کے کیا کرنا ہے۔ اماں کے اپنے ہی اصول تھے اس نےاپنے ہی خوف اور خدشے پالے ہوۓ تھے. اماں ابا ہی اس کے پیرو مرشد تھے ان کی ہر بات سند تھی اس کے لیے ۔کمالا گاؤں کا سب سے حسین لڑکا تھا ۔گاؤں کے اسکول سے اچھے نمبروں سے میٹرک پاس تھا صاف ستھرا لباس پہنتا۔ سلیقے سے بال جما کے رکھتا۔ اپنے ماں باپ کے ساتھ کھیتی باڑی بھی کرتا اور بکریاں بھی چراتا۔خاموش طبع اور چپ چاپ رہتا۔ ہر کوئی اس کی تعریف کرتا۔ کمالے کی ماں نے ابا سے نوراں کا ہاتھ مانگ لیا تھا۔محلے میں کنیز آپا ہی تھی جس سے وہ اپنے دل کی ساری باتیں کر لیا کرتی تھی کنیز آپا بھی اس سے بہت محبت سے پیش آتی تھی اور اسے زندگی کی اونچ نیچ سمجھایا کرتی تھی ۔آپا کی آنکھیں بہت گہری اور اداس آنکھیں تھیں ۔کبھی اسے لگتا کہ وہ بہت روئی ہیں ۔آپا تم اتنی اداس کیوں ہو۔ یک طرفہ محبت مار دیتی ہے انسان کو، چل چھوڑ ابھی تجھے یہ باتیں سمجھ میں نہیں آئیں گی وہ اس کی استانی کم اور سہیلی زیادہ تھی۔ وہ گاؤں بھر کی واحد پڑھی لکھی لڑکی تھی شہر سے پڑھ کے آئی تھی ۔ستائیس اٹھائیس سال عمر ہو گی اس کی۔ اپنی بڑی بہن کے ساتھ ہونے والے ظلم کو دیکھتے ہوۓ عمر بھر شادی نہ کرنے کا عہد کر رکھا تھا ۔کتنے اچھے رشتے ٹھکرا چکی تھی ،کہتی تھی سب مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں خود غرض ,مطلبی, بے حس ۔کسی کو خط لکھنا ہوتا یا کسی کا خط پڑھوانا ہوتا آپا کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ کنیز آپا رسالے پڑھتی ، ٹی وی پر ڈرامے دیکھتی اور اشفاق احمد اور بانو آپا کے ادبی پروگرامز دیکھتی جس سے اچھی خاصی ادیبہ ہوگئ تھی۔ وہ نوراں سے کہتی نوراں تجھے پتہ ہے تو کتنی خوبصورت ہے جیسے کسی فلم کی ہیروئن۔ وہ بکریاں چراتی لڑکی جس کی گلابی کہنیوں پر وہ مر مٹا تھا۔نوراں نے کنیز کو بتایا کہ کمالے کے لیے اس کا رشتہ آیا ہے۔ اچھا !یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے ۔کیا تم اسے پسند کرتی ہو ہاں وہ اچھا لگتا ہے مجھے پر نوراں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کیا وہ بھی تمہیں پسند کرتا ہے کیا اس نے اس طرح کا کوئی اشارا دیا۔


یہ تو نہیں پتا! جب میں لکڑیاں اکٹھی کرنے جاتی ہوں اور وہ بکریوں کے ریوڑ ہانک کے لے جارہا ہوتا ہے تو میں نے کئی دفعہ اسے دیکھا ۔وہ آنکھ اٹھا کر بھی مجھے نہیں دیکھتا نہ کبھی کوئی بات کی ۔نوراں یہ فکر کی بات ہے حالاں کہ وہ جانتا ہے کہ تم سے اس کے رشتے کی بات چل رہی ہے چاچی کہتی ہے وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا ۔کمالا کہتا ہے پہلے باقی بہن بھائیوں کی شادی ہو جا ۓ پھر شادی کرے گا ۔اماں اور چاچی نے کیسے بھی کرکے کمالے کو شادی کے لیے مجبور کر ہی لیا اور اسے تو کوئی اعتراض تھا ہی نہیں۔ شادی کی پہلی رات ہی اسے احساس ہو گیا تھا کہ وہ زبر دستی اس کی زندگی میں شامل کر دی گئی ہے۔ ورنہ اسے نوراں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ منہ دوسری طرف کرکے چارپائی کے کنارے سے لگ کے کب کا سوچکا تھا نوراں پر نیند کی دیوی کب مہربان ہوئی پتہ ہی نہیں چلا ۔صبح محلے کی لڑکیاں دلہن دیکھنے آئیں تو شور پر اس کی آنکھ کھلی ۔کمالا کب کا جا چکا تھا ۔ساری عورتیں اس کے کمرے میں جمع ہوگئیں اور چاچی کو مبارکیں دینے لگیں ۔ما شاء اللہ چاند سورج کی جوڑی ہے پورا گاؤں اس حسین جوڑے کی قسمت پر رشک کر رہا تھا۔ کتنی لڑکیاں جو کمالے سے شادی کی آس لگاۓ بیٹھی تھیں ،ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا تھا۔ کئی دن یونہی گزر گئے۔ ہر وقت ہنسنے کھیلنے والی نوراں کو چپ لگ گئ تھی۔ چاچی کی زمانہ شناس نظروں نے بھانپ لیا تھا کہ ان دونوں میں کوئی ناراضی چل رہی ہے۔ نوراں میری دھی کیا بات ہے تو اداس اداس رہتی ہے۔نئی نویلی دلہن ہے نہ سرخی لگاتی ہے نہ ہنستی بولتی ہے۔ اماں ابا یاد آرہے ہیں؟ اگر کمالے نے کچھ کہا ہے تو مجھے بتا میں کان کھینچوں گی اس کے۔ نہیں چاچی ایسی کوئی بات نہیں ۔وہ اٹھ کےکمرے میں آگئی ۔اس نے کمالے کے لیے کتنے خواب دیکھے تھے ۔وہ کمالے کو خوش رکھے گی، اس کی ہر بات مانے گی ،پر وہ تو اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ چند دنوں میں ہی زندگی کتنی بدل گئی تھی ۔اس کی آنکھوں میں دھرے کل کے سنہرے خواب ٹوٹ کے چکنا چور ہوگئے تھے۔وہ نوراں جو سارا دن ہنستی بولتی پھرتی تھی اسے چپ لگ گئ تھی۔ اماں کے گھر گئی تو وہاں بھی چپکی بیٹھی رہی ۔اماں نے اسے ماں باپ کے گھر کی جدائی سمجھا اور اسے تسلیاں دینے لگی دیکھ پتر اب وہی تیرا گھر ہے وہیں دل لگا اپنی خدمت سے چاچے چاچی اور کمالے کے دل میں جگہ بنا۔ وہ اماں کی ہر نصیحت پلو میں باندھ لائی-( جاری )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker