سید مجاہد علیکالملکھاری

ساہیوال سانحہ نئی حکومت کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔۔سید مجاہد علی

وزیراعظم عمران خان نے قطر کے دورہ پر روانہ ہونے سے پہلے ایک ٹوئٹر پیغام کے ذریعے قوم کو یقین دلایا ہے کہ ساہیوال میں ہفتہ کے روز ہونے والے سانحہ کے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں گی۔ انہوں نے اس سانحہ کے بعد سامنے آنے والے رد عمل اور غم و غصہ کو بھی قابل فہم اور جائز قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی میڈیا کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے سے پہلے نتائج اخذ کرنے اور الزام تراشی سے گریز کریں۔ منگل کو شام 5 بجے سہ رکنی جے آئی ٹی ابتدائی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی۔ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومت کی کارروائی سے سب کو اندازہ ہوجائے گا کہ تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد کے حوالے سےنئے پاکستان کی حکومت کس طرح سابقہ حکومتوں سے مختلف ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اگر اپنے کہے پر عمل نہ کروا سکے اور وزیر اعظم کی باتوں کی روشنی میں سانحہ ساہیوال کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے بعد انہیں مروجہ قانون کے تحت سزائیں نہ دلوائی جاسکیں تو یہ صورت حال پنجاب حکومت کے علاوہ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کے لئے سنگین اور مشکل ثابت ہوگی۔
وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ کے وعدے گزشتہ تین روز کے دوران سامنے آنے والی متضاد بیانی کے سبب ناقابل اعتبار لگتے ہیں۔ تاہم ابھی بھی لاہور اور اسلام آباد میں تحریک انصاف کی حکومتوں کے لئے یہ موقع موجود ہے کہ وہ مناسب طریقے سے اس معاملہ سے نمٹے اور دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر شہریوں کو ہراساں اور ہلاک کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ تاہم پنجاب حکومت کے وزیر قانون کی گزشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی کمزور قیادت کے سبب، اس سلسلہ میں شبہات سامنے آرہے ہیں۔ وزیر اعظم نے گزشتہ دو دنوں میں اگرچہ ٹویٹ پیغامات کے ذریعے قوم کا ’دکھ درد‘ بانٹنے کی کوشش کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ اس سانحہ کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی لیکن وزیر اعظم کا یہ رویہ کسی طرح بھی ماضی میں سربراہان حکومت کے طرز عمل سے مختلف نہیں ہے۔ ماضی میں بھی حکومتوں کے سربراہوں کی طرف سے کسی بھی المناک سانحہ کے بعد اسی قسم کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ الفاظ کی شدت اور جذبات کی فراوانی کے اعتبار سے عمران خان کے بیانات ماضی میں کئے گئے وعدوں سے مختلف قرار نہیں دئیے جاسکتے۔ ہفتہ کو ساہیوال کے قریب جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے علاوہ پوری قوم یہ توقع کرنے میں حق بجانب تھی کہ وزیر اعظم خود لاہور آکر پسماندگان سے ملتے اور یتیم ہوجانے والے کم سن بچوں کے سر پر دست شفقت رکھتے۔ لیکن وزیر اعظم کو اپنی گوناں گوں مصروفیات کی وجہ سے یہ موقع نہیں مل سکا۔ اب وہ دو روز کے لئے قطر روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کی واپسی تک تعزیت اور اظہار ہمدردی کرنے کے لئے بہت دیر ہوچکی ہوگی۔
ساہیوال سانحہ کے بعد حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پسماندگان کی اشک شوئی کے علاوہ اس واقعہ کی تہ تک پہنچنے کے لئے تمام اختیارات کو بروئےکار لاتی۔ اس کی بجائے انسپکٹر جنرل پولیس کی نامزد کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر کل انحصار کیا جارہا ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے علاوہ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی سابقہ حکومتوں کی نااہلی کا ذکر کرنے کے علاوہ نئے پاکستان میں نئی حکومتوں کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ملک کے حکمران اگر ایک انسانی المیہ کو بنیاد بنا کر سابقہ حکومتوں کو لتاڑنے اور ’نئے پاکستان‘ کا نعرہ بیچنے کی کوشش کریں گے تو یہ سیاسی ہتھکنڈا تحریک انصاف کو بھاری پڑ سکتا ہے۔
اس وقت پورا پاکستان ساہیوال میں بے دردی سے مارے جانے والے ماں باپ اور ان کی تیرہ سالہ بچی کی المناک موت پر آنسو بہا رہا ہے۔ پوری دنیا میں آباد پاکستانی زندہ بچنے والے تین معصوم بچوں کی ذہنی اور جذباتی کیفیت اور مستقبل کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔ ایسے میں اگر نئے اور پرانے پاکستان کی بحث چھیڑی جائے گی اورعملی طور پر صوبائی وزیر قانون کی عاقبت نااندیش اور سفاکانہ گفتگو سننے کو ملے گی تو اس سے عوام کے جذبات مشتعل ہوں گے اور انہیں یقین ہونے لگے گا کہ نیا اور پرانا پاکستان صرف نعروں کی حد تک موجود ہے تاکہ سیاست کرتے ہوئے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی جاسکیں۔ عملی طور سے موجودہ حکومتیں بھی مقتدرہ اور اسٹیٹس کو کے سامنے پوری طرح بے بس ہیں۔
صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے اتوار کو کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں جس طرح محکمہ انسداد دہشت گردی کی کارکردگی کی تعریف کی اور بتایا کہ کار کا ڈرائیور ذیشان نہ صرف یہ کہ دہشت گرد تھا، اس کا گھر دہشت گردوں کی پناہ گاہ تھا بلکہ وہ کار میں اپنے ہمسائے خلیل اور اس کے بیوی بچوں کے علاوہ خود کش جیکٹیں اور گولہ بارود بھی لے کر جا رہا تھا۔ اس طرح پنجاب حکومت کی طرف سے یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ کار میں سوار ایک شخص مسلمہ دہشت گرد تھا اور سی ٹی ڈی نے بنیادی طور سے کوئی غلطی نہیں کی ہے بلکہ انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق، ٹھوس شواہد کی روشنی میں آئی ایس آئی کی مدد سے یہ کارروائی کی تھی۔
وزیر قانون نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اس کار کو آبادی سے باہر روکنے کا فیصلہ بھی اسی لئے کیا گیا تھا کیوں کہ ایک محلہ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے سے نقصان ہو سکتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ذیشان کے گھر میں چھپے ہوئے دو دہشت گردوں نے جب ساہیوال واقعہ کی خبر سنی تو انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن مستعد سی ٹی ڈی نے ہفتہ کی رات کو ہی انہیں گوجرانوالہ کے قریب ہلاک کر دیا۔ اس طرح پنجاب کے شہریوں کو کسی بڑی دہشت گردی سے بچا لیا گیا۔ اس بیان کی روشنی میں یوں تو متعدد سوال سامنے آتے ہیں لیکن دو سوال زبان زد عام ہیں۔
1) اگر پولیس اور ایجنسیوں کو ذیشان کے بارے میں یقین تھا کہ وہ دہشت گرد ہے تو انہوں نے خلیل اور اس کے اہل خاندان کو اس کی کار میں سفر سے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔
2) اگر دہشت گردوں نے ذیشان کے گھر میں پناہ لی ہوئی تھی اور ساہیوال شوٹ آو¿ٹ کے بعد وہ اس کے گھر سے فرار ہوئے لیکن گوجرانوالہ میں مارے گئے تو پولیس، سی ٹی ڈی یا آئی ایس آئی نے انہیں گھر میں قیام کے دوران یا فرار ہوتے وقت گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ انہیں ہلاک کرنا ہی مسئلہ کا حل کیوں سمجھا گیا۔
یوں بھی پنجاب حکومت کو راجہ بشارت کے ذریعے پریس کانفرنس منعقد کروانے کی بجائے سانحہ کی سنگینی اور عوام کی پریشانی کے پیش نظر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو خود میڈیا سے بات کرنی چاہئے تھی۔ یا اپنے وزیر قانون کو خاموش رہنے کی ہدایت کرنی چاہئے تھی۔ اب عثمان بزدار میڈیا سے کہہ رہے ہیں کہ وہ جے آئی ٹی رپورٹ سے پہلے کسی پر الزام نہ لگائے، قصور واروں کا تعین جے آئی ٹی رپورٹ میں ہو گا۔ پھر ان کے وزیر قانون نے کیوں جے آئی ٹی رپورٹ سے پہلے ہی ذیشان کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے سی ٹی ڈی کارروائی کو درست قرار دیا ہے۔ بلکہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس میں بچے ملوث نہ ہوتے تو واقعہ کی نوعیت مختلف ہوتی۔ گویا وہ خلیل، اس کی اہلیہ اور کمسن بچی کی ہلاکت کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اسی پریس کانفرنس میں ایک طرف اس کارروائی کی حمایت میں دلائل دینے اور شواہد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کے ساتھ ہی متاثرین کے لئے حکومت کی طرف سے دو کروڑ روپے امداد اور بچوں کی کفالت کا اعلان کیا گیا۔ مرحوم خلیل کے بھائی جلیل نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پسماندگان کو روپے نہیں چاہئیں، وہ انصاف چاہتے ہیں۔ اس نے وزیر قانون کے اس دعویٰ کو بھی غلط قرار دیا کہ صوبائی حکومت پسماندگان سے رابطہ میں ہے۔ مقتول خلیل کے بھائی کا بیان حکومت کی بے حسی اور صورت حال کی نزاکت سے لاعلمی کو واضح کرتا ہے۔
نہ جانے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ راجہ بشارت کے پیش کردہ ’شواہد اور ثبوتوں‘ کے بعد کسے اور کیوں کر عبرت ناک سزا دلوائیں گے؟ اگر فائرنگ میں ملوث لوگوں کو سزا دی جائے گی تو کیا اس سے یہ مراد لی جائے کہ سی ٹی ڈی نے یہ کارروائی تو دہشت گردوں کے خلاف ہی کی تھی لیکن عوام اور میڈیا کے دباو¿ کی وجہ سے حکومت ’پولیس کے ہونہار جوانوں اور افسروں‘ کو قربانی کا بکرا بنانے پر مجبور ہے۔ کیا ایسا کوئی اقدام سیاسی بدعنوانی کی بدترین قسم میں شمار نہیں ہو گا؟ اگر سی ٹی ڈی نے واقعی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر فائرنگ کی تو اب یہ ’جائز‘ کام کرنے والوں کو کس اختیار کی بنیاد پر سزا دینے کے دعوے کئے جا رہے ہیں؟
یہ بات واضح ہے کہ کسی ریاستی ادارے کی کارروائی کے بعد جو محکمانہ جے آئی ٹی بنتی ہے وہ اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ راجہ بشارت کی باتوں نے اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ جے آئی ٹی کل کیا بتانے والی ہے۔ جب صوبائی حکومت کا نمائندہ ایک انتہائی افسوسناک صورت حال میں سی ٹی ڈی کے ایک دہشت ناک فعل کو جائز قرار دے رہا ہے تو جے آئی ٹی کون سے نئے شواہد کی بنیاد پر اس ٹیم کو قصور وار ٹھہرائے گی۔ راجہ بشارت کی پریس کانفرنس کے بعد جے آئی ٹی کی رپورٹ پر حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی، وہ اس کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔
وزیر اعظم اگر واقعی ساہیوال سانحہ کے متاثرین سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اپنی پارٹی کو اس بحران سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں دوہا سے اسلام آباد جانے کی بجائے لاہور آ کر خود اس معاملہ کی نگرانی کرنی چاہئے۔ واقعہ کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں اور سچ سامنے لانے کی کوشش کی جائے۔ اس معاملہ کو سیاسی بنانے اور سیاسی ہاتھوں میں رکھنے سے اس کا بوجھ بھی ملک کے سیاسی لیڈروں ہی کو اٹھانا پڑے گا۔
(بشکریہ:کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker