نیو یارک : برطانوی نژاد امریکی مصنف سلمان رشدی اپنی ایک آنکھ کی بصارت اور اپنے ایک ہاتھ کے استعمال سے محروم ہو گئے ہیں۔
دی سٹینک ورسز کےمصنف سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے کہا ہے کہ رواں برس اگست میں نیو یارک کی ایک ادبی تقریب میں اسٹیج پر حملے سے زخمی ہونے والے سلمان رشدی کو شدید نوعیت کے زخم آئے تھے۔
انہوں نے ہسپانوی اخبار ‘ایل پائس’ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ سلمان رشدی کی ایک آنکھ کی بینائی زائل ہو گئی۔ انہیں گردن میں بھی تین شدید زخم آئے تھے جس کی وجہ سے ان کے بازو کے اعصاب کٹ گئے اور ان کا ایک ہاتھ ناکارہ ہو گیا۔ انہیں سینے اور دھڑ میں مزید 15 زخم لگے تھے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق اینڈریو وائلی نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا کہ آیا 75 سالہ رشدی دو ماہ سے زیادہ عرصہ قبل حملے کا نشانہ بننے کے بعد سے ابھی تک اسپتال میں ہیں۔واضح رہے کہ نیوجرسی کے ایک 24 سالہ نوجوان نےاگست میں اس وقت رشدی کی گردن اور دھڑ پر چاقو سے وار کیے تھے جب وہ جھیل ایری سے تقریباً 19 کلومیٹر کے فاصلے پر واقعشوٹا کوا انسٹی ٹیوشن میں ایک لیکچر دینے والے تھے۔ ناول نگار پر حملے کے ملزم نے سیکنڈ ڈگری قتل اور حملے کے الزامات کا قصور وار ہونے سے انکار کیا ہے ۔ وہ مغربی نیو یار ک کی ایک جیل میں قید ہے اور اس کی ضمانت نہیں ہو سکی ہے۔
ناول نگار رشدی کو حملے کے بعد فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ان کے ایک بازو کے اعصاب کو نقصان پہنچا، جگر میں زخم آئے اور امکانی طور پر ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔
خیال رہے کہ سلمان رشدی بھارت کے ایک مسلمان کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1988 میں کتاب ‘دی سٹینک ورسز ‘ شائع کی تھی جسے مسلمان توہین آمیز خیال کرتے ہیں اوراس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔
کتاب میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے بارے میں بیانات پر ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور انہوں نے سلمان رشدی کی موت کا فتویٰ بھی جاری کیا تھا۔ جس کی وجہ سے برطانوی حکومت نے انہیں پولیس کی حفاظت میں رکھا اور تقریباً نو سال وہ روپوش ہونے پر مجبور رہے۔
اگرچہ ایران کی اصلاحات کے حامی صدر محمد خاتمی کی حکومت نے1990 کے عشرے کے آخر میں خود کو فتوے سے فاصلے پر رکھا لیکن سلمان رشدی کے سر پر کئی ملین ڈالر کے انعام کی رقم بڑھتی رہی اور فتوے کو بھی کبھی نہیں اٹھایا گیا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

