پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے صدر جو بائیڈن کے ’غیر ذمہ دارانہ‘ بیان پر شدید احتجاج کیاہے۔ وزارت خارجہ نے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ دیا ہے۔ اس دوران وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیتھرین جین پیرے نے پاکستانی رد عمل کو یہ کہہ کر کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’صدر ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال پاکستان‘ کے حامی ہیں۔
البتہ ایک روز قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے استقبالیہ میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دے کر امریکی صدر نے درحقیقت پاکستان کے دشمن بھارت کو ایک نیا اور مؤثر سفارتی ہتھیار فراہم کیا جسے وہ ہر عالمی سفارتی فورم پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک میں ان آوازوں کو تقویت ملے گی جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اس کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ صدر بائیڈن کے بیان کی توضیح دو طرح سے کی جارہی ہے۔ ایک تفہیم پاکستانی حکومت، سیاست دانوں اور میڈیا کی سطح پر دیکھی گئی ہے جس میں امریکی صدر کے بارے میں فقرے کو ملک کے ایٹمی ہتھیاروں کی سیکورٹی کے حوالے سے سمجھا گیا ہے اور اس پر رد عمل بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اسے ’حقائق سے متصادم اور گمراہ کن‘ بیان قرار دیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے صدر بائیڈن کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے اور وضاحت طلب کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے محفوظ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے۔ ایٹمی سیکورٹی کے حوالے سے پاکستان کی بجائے بھارت سے استفسار ہونا چاہئے تھا جس کا ایک میزائل حال ہی میں حادثاتی طور پر پاکستان میں آکر گرا تھا۔ یہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ اور غیر محفوظ وقوعہ تھا بلکہ اس سے جوہری طاقت کے حامل ملک میں ہتھیاروں کی سیکورٹی کے حوالے سے سنگین اور جائز سوالات سامنے آئے تھے‘۔
وزیر خارجہ کے اعلان کے مطابق بعد میں امریکی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ دیا گیا اور امریکی صدر کے بیان پر شدید بے چینی و تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ احتجاجی مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امریکی صدر کے غیر ضروری بیان سے مایوسی ہوئی ہے جو زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے اور جوہری ہتھیاروں کے عالمی طور سے منظور شدہ طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔ ان اقدامات کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ مراسلہ کے مطابق ’اس وقت پاک امریکہ تعلقات مثبت رفتار سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ علاقائی اور عالمی امن کے لئے تعاون جاری رہ سکے‘۔
تاہم یہ تصویر کا محض ایک پہلو ہے جسے پاکستانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو حکومتی ردعمل اور اپوزیشن تحریک انصاف کے جارحانہ بیانات قابل فہم ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سیاسی تصادم کی جو کیفیت موجود ہے ، اس میں کسی بھی صورت حال میں متوازن جائزہ لینے اور گہرائی سے معاملات کو دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ صدر بائیڈن کا بیان سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف کے لیڈروں کی طرف سے تند و تیز بیانات سامنے آئے جن میں امریکی صدر کی بجائے موجودہ حکومت کو نشانہ بنانا مطلوب تھا۔ اس صورت میں حکومتی نمائیندوں کے لئے متوازن سفارتی لب و لہجہ اختیار کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی حکومت کا ردعمل شدید اور فوری تھا۔ حکومت نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کیا ہے۔
تاہم یہ تسلیم کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ صدر بائیڈن نے پاکستان کو خطرناک قرار دینے کے لئے جو جملہ دلیل کے طور پر استعمال کیا ہے، اس میں براہ راست پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی سیکورٹی کے حوالے سے سوال نہیں اٹھایا گیا۔بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ’میرے خیال میں پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے۔ ایک ایسا ملک جو جوہری طاقت کا مالک ہے لیکن وہاں ضبط و ہم آہنگی موجود نہیں ہے‘۔ امریکی صدر کا یہ بیان دنیا کو درپیش نئے چیلنجز کی صورت حال بیان کرتے ہوئے دیا گیا تھا جس میں انہوں نے چین کو سب سے بڑا اور اس کے بعد روس کو چیلنج قرار دیا اور کہا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پھر کبھی کوئی روسی لیڈر ٹیکٹیکل ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کے سیاسی منظرنامے میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور متعدد ممالک اپنے اتحاد کے بارے میں نظرثانی کر رہے ہیں۔ ان حالات میں دوست دشمن یکساں طور سے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اور جائزہ لے رہے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں، معاملات کا حل کیسے نکالتے ہیں۔ اس وقت بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ امریکہ کے پاس دنیا کو ایک ایسی جگہ لے جانے کی صلاحیت ہے جہاں وہ اس سے پہلے نہیں تھی‘۔
امریکہ ا ور دنیا کو درپیش اندیشوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیا گیا ۔ پاکستانی قیادت کی طرف سے اسے جوہری ہتھیاروں کی سیکورٹی پر تنقید سمجھ کر بات کی گئی ہے لیکن متعدد عالمی تجزیہ نگار اور ماہرین اس تبصرہ کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی بات کررہے ہیں۔ اگرچہ یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ عام طور سے امریکی صدر کسی ملک کے بارے میں ایسی حساس گفتگو کسی پبلک پلیٹ فارم پر نہیں کرتا لیکن عالمی تجزیوں میں اس بات پر بھی اتفاق پایاجاتا ہے کہ صدر بائیڈن کا یہ تبصرہ اس تناظر میں سامنے آیا ہے کہ انہیں پاکستان کے بحران کے بارے میں انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی ہوں گی ۔ اسی لئے عالمی اسٹریٹیجک صورت کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو خطرنا ک ملک قرار دیا ۔ پاکستان چونکہ ایٹمی طاقت کا حامل ہے اس لئے وہاں موجود انتشار و بحران کو اس کی جوہری صلاحیت کے ساتھ ملاکر سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں جب دہشت گردی عروج پر تھی ، اس وقت بھی جوہری ہتھیاروں کی سیکورٹی کے حوالے سے سوالات سامنے آتے رہے تھے۔
پاکستان نے ہمیشہ ان سوالات کو محض بھارت نواز حکمت عملی کے طور دیکھا ہے یا ایٹمی ہتھیاروں کی براہ راست سیکورٹی پر تشویش قرار دیتے ہوئے، انہیں مسترد کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی صدر کے بیان پر پاکستانی رد عمل اور احتجاج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وزارت خارجہ کے احتجاجی مراسلہ سے لے کر وزیر اعظم اور سیاسی لیڈروں کے بیانات میں اسی ایک نکتہ کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے تصویر کے جس پہلو کی طرف امریکی صدر نے ایک فقرے میں اشارہ کیا ہے وہ بہت گنجلک، پیچیدہ، مشکل اور خطرناک ہے۔ اس لئے اس نشاندہی پر سیخ پا ہونے کی بجائے پاکستان کو بطور ریاست اور قوم ان چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے مثبت طور سے نمٹنے کی کوشش کرنی چاہئے جن کی وجہ سے پاکستان اس وقت انتشار، بدنظمی ، بحران اور پریشان حالی کا نمونہ بنا ہؤا ہے۔
پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ اس پر فخر کیا جاتا ہے۔ شاید مستقبل قریب میں کوئی پاکستانی لیڈر بھی اس صلاحیت کے منفی پہلوؤں پر گفتگو کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکے گا۔ تاہم دوست دشمن یکساں طور سے پاکستان کو ایٹمی طاقت تسلیم کرتے ہیں۔ اس صلاحیت کو ڈیٹرنٹ قرار دے کر دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ اس طرح برصغیر میں جنگ کے خطرے کو ختم کردیا گیا ہے۔ اب بھارت کبھی اپنی عددی برتری اور کثیر وسائل کے بل بوتے پر پاکستان پر جنگ مسلط نہیں کرسکے گا۔ لیکن مئی 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان تصادم کی صورت حال ختم نہیں ہوئی۔ اس وقت بھی دونوں ملک حالت جنگ میں ہیں اور جنگ کا خطرہ ہمیشہ پاک و ہند کے عوام کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ ذمہ دار ایٹمی طاقتوں کے طور پر دونوں ملکوں کو ضد اور اشتعال انگیزی کی حکمت عملی ترک کرکے مثبت مکالمے اور باہمی مسائل کے حل کی طرف بڑھنا چاہئے تھا۔ اس کے برعکس دونوں طرف سے جنگ جیتنے کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ضرورت پڑی تو ایٹمی ہتھیار بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ بھارتی فوج نے ’کولڈ سٹارٹ اسٹریٹیجی‘ کوفوجی ڈاکٹرائن کے طور پر اپنایا ہے جس کے تحت جنگ کی صورت میں بھارت پوری طاقت سے حملہ کرکے پاکستان کے بڑے علاقے پرقابض ہوجائے گا اور اس کی جنگی صلاحیت کومحدود کردے گا۔ اس کا جواب دینے کے لئے رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اسٹریٹیجک ہتھیار تیار کئے ہیں۔ یہ اصطلاح موبائل اور چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں استعمال کی جاتی ہے جنہیں ’محدود‘ علاقے میں مزاحمت کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے روسی لیڈر بھی یوکرین کی جنگ میں ایسے ہی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کرتے ہیں۔ تاہم جوہری ہتھیاروں سے چونکہ تابکاری پھیلتی ہے لہذا ان کی ہلاکت خیزی کے بارے میں بے چینی و تشویش موجود ہے۔
پاکستان اس وقت ہر لحاظ سے بحران کا شکار ہے۔ معاشی لحاظ سے پاکستان اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینے پرمجبور ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کے باوجود ایک بارپھر انتہا پسند گروہ منظم ہوکر افواج پاکستان کے لئے چیلنج بن رہے ہیں۔ سیاسی لحاظ سے موجود بحران نے ملک میں تقسیم کو خطرناک حد تک گہرا کردیا ہے۔ بعض جائزوں کے مطابق اس تقسیم کے اثرات سے مسلح افوج بھی متاثر ہورہی ہیں کیوں کہ ان میں شامل جوان اور افسر بھی بہر حال اسی معاشرے کے افراد ہیں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ان حالات کو بہتر بنانے کے لئے کسی بھی سطح پر ہم آہنگی و تعاون کی فضا دیکھنے میں نہیں آتی۔ عمران خان کی سرکردگی میں چلائی جانے والی سیاسی مہم کسی اصول کی بجائے خاص سیاسی لیڈروں کو ٹارگٹ کرکے اپنے لئے اقتدار کا حصول ہے۔ پاکستان ایک ایسی ایٹمی طاقت ہے جو نہ مالی لحاظ سے مستحکم ہے، نہ یہاں سیاسی ہم آہنگی موجود ہے۔ سماجی انتشار، بے چینی اور بے اطمینانی کی بدترین کیفیت پائی جاتی ہے اور انتہا پسند عناصر ہتھیار اٹھا کر من پسند ایجنڈے کی تکمیل کا اعلان کررہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ مسلسل تصادم اور ہائی الرٹ کی صورت حال پائی جاتی ہے تو دوسری طرف افغانستان کی طالبان حکومت کو پاکستان کا ہمدرد اور دوست کہنا بھی ممکن نہیں ہے۔ یہ تمام عوامل کسی بھی ملک کو خطرنا ک بنانے کے لئے کافی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ صدر بائیڈن نے جب پاکستان کے حوالے سے ’ضبط و ہم آہنگی‘ کی کمی کا حوالہ دیا تو وہ پاکستان کے متعدد سماجی و سیاسی مسائل کی طرف اشارہ کررہے تھے۔
اس توجیہہ و وضاحت اور وہائٹ ہاؤس کے اس اعلان کے باوجود کہ امریکی صدر پاکستان کو مضبوط، محفوظ اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں، جو بائیڈن نے جس انداز میں پاکستان کو ’خطرناک ترین ملک‘ قرار دیا ہے، اسے دوستانہ پیغام سمجھنا مشکل ہے۔ اس بیان سے امریکی صدر نے پاکستان کے سب سے بڑے دشمن بھارت کو پاکستان کے خلاف ایک مہلک سفارتی ہتھیار فراہم کیا ہے۔ تاہم پاکستان کو بھی اس بیان کی روشنی میں صرف ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کا ذکر کرکے خاموش نہیں ہوجانا چاہئے بلکہ ان عوامل سے نمٹنے کے لئے ایک قوم کے طور پر کام کرنا چاہئے جو امریکہ کی نظر میں پاکستان کو شمالی کوریا اور ایران سے بھی زیادہ خطرناک ملک قرار دینے کا سبب بنے ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

