آنچلافسانےعائشہ حنیفلکھاری

عائشہ حنیف کا افسانہ : بکھرے خواب

وہ چاہتی تو غلط راستہ اپنا سکتی تھی مگر اس نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے سچ کے راستے پر چل کے جانا چاہتی تھی۔
تبھی اسے بےحد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا .ہر ایک کو صفائی دینی پڑتی ہر کسی کی منتیں کرنی پڑتی تھیں ۔ تنگ آ کے ماں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے کہ آخر تم چاہتی کیا ہو کیوں مجھے اذیت دینے پہ تلی ہوئی ہو .امی میں ایسا بالکل بھی نہیں چاہتی میں کیوں بھلا آپ کو اذیت دوں گی ایسا تو میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔ میں تو آپ کی اذیت ختم کرنا چاہتی ہوں ۔
تم جانتی ہو تم جو چاہ رہی ہو وہ تمہارے بابا کبھی نہیں مانیں گے ۔تو امی آپ ہو نا ۔۔پلیز آخری بار پھر کبھی کوئی فرمائش نہیں کروں گی ۔ماں تھی مجبور ہو گئی اس کی لاڈلی آز اد فضا میں سانس لینا چاہتی تھی ۔ خواہش تو ماں کی بھی یہی تھی مگر وہ بےبس تھی مجبور تھی معاشرے کے رسم ورواج نے اس کے ہاتھ پاؤں اور زباں پہ تالے لگا دیے تھے .لیکن وہ چاہتی تھی اس کے بیٹی کے ساتھ کم ازکم ایسا نا ہو تبھی وہ دل میں ایک عہد کر کے اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
پارو کو بھی تسلی تھی کہ ماں بابا سے بات منوا لے گی اس لیے پرسکون ہو کر گھر کے کاموں مصروف ہو گئی، کام کے دوران بھی اس کے دماغ میں امی اور آپی کی بے بسی مشکلات کی چکی میں پستی ہوئی زندگی جس کو زندگی کہنا بےکار ہے بار بار پارو کی آنکھوں میں آ جاتی اور وہ پھر سے بے چین ہو جاتی ۔
اعلٰی تعلیم حاصل کر کے اپنی امی اور آپی کو سکون دینا چاہتی تھی مگر اس کے لیے اسے بہت حوصلہ کی ضرورت تھی ۔ خیر اس کو یہ تھا کہ امی میرے ساتھ ہے تو مجھے باہر جانے کی اجازت مل جائے گی مگر اسے کیا خبر تھی کہ تقدیر اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والی ہے ۔
رات کو امی کی اچانک ہی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ ایک ہی دن میں اچانک سے چل بسی اس کے اندر کی عورت تو کب کی مر چکی تھی مگر اپنے وجود کو بچوں کی خاطر گھسیٹ رہی تھی ۔باقی سب بچے تو جیسے تیسے زندگی گزار رہے تھے مگر سب سے بڑی بیٹی کا دکھ اسے اندر سے دیمک کی طرح کھائے جا رہا تھا .خیر موت پہ کس کا زور چلتا ہے وہ کب کہاں کچھ دیکھتی ہے اس کا وقت مقرر ہے وہ آ جاتی ہے ۔
پارو کے لیے یہ صدمہ بڑا ہی جان لیوا تھا ۔زندگی کا کام گزرنا ہے سو ان کی بھی گزر رہی تھی ۔پارو کو اب اپنے لیے خود کچھ کرنا تھا .اس نے ایک بار بابا سے جا کہ بات کی کہ بابا میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں .مگر بابا نے سختی سے منع کر دیا کہ جتنا ہو سکتا تھا پڑھایا .اب آگے کی اجازات میں نہیں دے سکتا ۔
پارو کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے کیا وہ کبھی بھی اپنے خواب پورے نہیں کر پائے گی ؟؟؟؟؟؟ کیا وہ بھی اپنی ماں اور آپی کی طرح کی زندگی گزارے گی ؟؟؟؟؟؟؟ کیا لڑکیاں خواب نہیں دیکھ سکتیں؟؟؟؟؟؟ دیکھ بھی لیں خواب تو پورے کیوں نہیں ہوسکتے ؟؟؟؟؟؟؟
کیا آپی کی طرح وہ بھی غلامی کی زندگی گزارے گی .شوہر سسرال بچے ان کی فکر میں ہلکان ہوتی رہے گی اپنے آپ کو اندر سے مار دے گی ؟؟؟؟؟؟؟
ان سب سولاات نے اسے ذہنی مریض بنا دیا تھا .وہ سارا دن پڑی سوچتی رہتی تھی ۔
پارو سوچتی رہتی مگر کوئی کام صحیح سے نہیں ہو پا رہا تھا ۔بی ایس کی ڈگری جو کب سے ایک کونے میں پڑی اپنی بد قسمتی کو رو رہی تھی.پارو کو اس کا خیال آ ہی گیا کہ چلو آگے نہیں تو جو ابھی میرے پاس ہے کیوں نا اس کو ہی استعمال کر لوں .مختلف جگہوں پر اس نے سی .وی دی انٹرویو کے لیے بھی جاتی مگر یہاں بھی اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا .واپسی پر خود سے سوال کرتی پتا نہیں وہ لوگ کیسے خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں سب کچھ آسانی سے مل جا تا ہے ۔
ہر طرف سے ناکامی کے بعد وہ پھر سے اپنے ٹوٹے خوابوں کو جوڑ کر اپنے دل کو تسلی دیتی کہ چلو کوئی نہیں میرے نصیب میں یہی تھا ۔مگر جب میرے بچے ہوں گے ان کے ذر یعے میں اپنے خواب پورے کروں گی .اپنے ماضی کا سایہ بھی ان پہ نہیں پڑنے دوں گی.مگر جب اسے امی اور آپی کا خیال آتا تو وہ خود کو کسی گہرے کنواں میں گرتا ہوا محسوس کرتی .اور سوچتی کہ کیا وہ بھی ادھورے خواب لیے اپنی ماں کی طرح اس دنیا سے چلی جائے گی .یا پھر آپی کی طرح ایک ہی گھر کی چار دیواری میں قید ہو کر رہ جاے گی باہر کی گھر کی چاردیواری سے باہر کی دنیا سے اس کا کوئی واسطہ نہیں رہے گا .
یہ دنیا بڑی ظالم چیز ہے آنکھوں سے خوابوں کو بڑی بے رحمی کے ساتھ نکال کے باہر پیھنکتی ہے.
مگر امید کی ایک کرن کہ شاید پارو کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا ہو شاید اس کا مقدر بدل جاے .شا ید اس کے خواب آنے والے دنوں میں پورے ہو جائیں کیونکہ امید پر ہی دنیا قائم ہے …………. مگر پارو کو خبر نہیں کہ وہ جس سماج میں سانس لے رہی ہے وہاں نسل در نسل غلامی جھیلنا ہوتی ہے اور یہ غلامی اسے بھی دان کی گئی ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker