افسانےعائشہ حنیفلکھاری

عائشہ حنیف کا افسانہ : ہاجو کا آخری گیت

یہ کہانی ہے ایک ایسی معصوم لڑکی کی جس کی زندگی کا خوبصورت حصہ یعنی بچپن پہاڑوں میں نہر ندیوں میں مستیاں کرتے بھیڑ بکریاں چراتے ان کے ساتھ گنگناتے ہوئے گزرا.ماں باپ کا پیار بہن بھائیوں کی محبت نے اسے کافی لاڈلا بنا دیا تھا اس کے قہقوں سے گھر کے آنگن میں سب کے اداس چہروں پہ خوشی کے رنگ بکھر جاتے تھے .گھر کیا تھا مٹی سے بنائی گئی ایک چھوٹی سی جھونپڑی مگر یہی جھونپڑی سب کے لیے ایک جنت کے گھر سے کم نہی تھی ۔
ہاجو کا مکمل نام ہاجرہ تھا مگر سب اسے پیار سے ہاجو ہی کہتے تھے .ہاجو کی گنگناہٹ کے تو پہاڑ نہر ندیاں بھی عادی ہو گئے تھے .جس دن وہ بکریاں چرانے نہ آتی تو اس دن ہر طرف خاموشی سی چھا جاتی .پہاڑوں کو دیکھ کہ ایسا لگتا ہے اس دن کے جیسے وہ سر جھکائے خاموش بیٹھے ہاجو کا انتظار کر رہے ہیں .اور جس دن وہ صبح صبح آ جاتی تو ایسے لگتا کہ ہر سو رنگ برنگی تتلیاں اڑ رہی ہیں اور اس کائنات کی خوبصورتی دیکھ کر گیت گا رہی ہیں .
ہاجو کی آواز میں ایسا سوز ایسی کشش کہ بندہ خود ہی اس آواز کی طرف کھنچا چلا جائے .پرسوز آواز دلکش لہجہ اس کو خدا کی طرف سے دیا کیا گیا تھا اوپر سے انتہا کی خوبصورت آنکھیں کہ دیکھنے والوں پہ سحر طاری کر دیں .اس سب کے باوجود ہاجو میں غرور نام کی کوئی چیز ہی نہیں‌تھی
اس کی باقی سہیلیاں ا سے جب چھیڑتی تو بدلے میں ایک ہلکا سا تبسم اس کے چہرے پہ آ جاتا .شرماہٹ کے رنگ اس کے چہرے پہ بکھر جاتے .
ایسے ہی ایک دن وہاں سے کچھ لوگوں کا گزر ہوا تو ماحول میں انہیں آواز سنائی دی تو وہ سب اسی طرف کھنچھے چلے آئے انہیں پہاڑی کی چوٹی پہ کچھ لڑکیاں نظر آئیں . وہ ان کی طرف گئے .رب نواز کی نظر جیسے ہی ہاجو پہ پڑی تو پھر وہ نظر پلٹنا ہی بھول گیا .وہ تو اکثر یہاں سے گزرتا تھا پہلے تو کبھی نہیں دیکھا آج اچانک سے ……..وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تبھی ہاجو نے چٹکی بجا کے کہا کہاں کھو گئے صاحب ؟؟؟.
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک دم سے اپنی نظریں نیچی کر لیں .پھر یہ رو ز کا معمول بن گیا ہاجو جب بھی گیت گاتی رب نواز آجاتا پھر دونوں مل بیٹھ کے خوب باتیں کرتے .ہنستے کھیلتے پتا ہی نہی چلا کے وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے کتنے ضروری ہو گئے تھے۔
جب بات شادی پہ پہنچی تو پتا چلا کہ اس کا تو نکاح ہو چکا ہے پہلے ہی اس کے چاچا کی بیٹی کے ساتھ .جب یہ بات ہاجو کو پتا چلی تو اسے لگا جن پہاڑوں کے درمیان رہتی ہے وہ سب ایک ساتھ اس پہ گر پڑے ہیں ۔
وہ آخری بار ربنواز سے ملنے گی اور یہ پوچھنے کہ اس نے اپنے نکاح کا پہلے کیوں نہیں بتایا ؟؟؟
ہاجو میں بتانا چاہتا تھا مگر پتا نہیں کیوں کبھی ہمت ہی نہیں ہوئی .مجھے معاف کر دو میں مجبور تھا .مجبور تھے تو پہلے بتاتے نہ میری زندگی کیوں خراب کی ؟؟؟؟مجھے معاف کر دو ….کیسے معاف کر دوں تمہیں ایک زندگی خراب کر دی تم نے .تم سے محبت کر کے میں تو اپنے رب کو ناراض کر بیٹھی ہوں.میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی سزا تو تمہیں ملے گی سب کچھ جانتے ہوئےبھی انجان بنے رہے سزا تو ملے گی تمہیں دیکھ لینا آج نہیں تو کل..یہ کہہ کے روتی ہوئی اپنے گھر کی جانب چلی گئی .اس دن کے بعد وہ بیمار رہنے لگی تھی سب گھر والوں کی جان اٹکی ہوئی تھی کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اچانک آخر کیا ہوا ہے کہ وہ بستر سے ہی لگ گئ ہے ڈاکٹر تو وہاں تھے ہی نہیں اس لیے جو دم درود کرتا سب جگہ لے گئے مگر وہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی .
ظالم محبت اس کی جان کا روگ بن گئی تھی .وہ رب نواز سے کہتی تھی تم نہ ملے تو مر جاوں گی اس بات پہ وہ ہنس دیتا کہ کوئی کسی کے یے نہیں مرتا یہ سب تو باتیں ہیں کرنے کی…دن کو سو گئی اماں اللہ رکھی آئی تھی اسے دیکھنے کہ میری دھی رانی اٹھ گئی ہے تو کھانے کے دیسی گھی کی جو چوری بنائی ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی دھی رانی کو کھلا دوں ..مگر پرسکون نیند میں سوتے دیکھ کر وہ چلی گئی جگانا مناسب نہی لگا ..مگر کیا خبر تھی کہ وہ تو ہمیشہ کے لیے سو چکی ہے .شام تک بھی کوئی آواز نہ سن کر اماں نے اسے سیدھا کیا تو اس کا بازو ایک طرف گر کیا .ایک چیخ تھی جو اس کی ماں کے منہ سے نکلی ہاجو کے ابا لٹ گئے برباد ہوگئے .چلی گئی چھوڑ کے اپنی ماں کا بھی نا سوچا…پتا نہیں کس ظالم نے یہ حال کیا میری دھی کا ……….وہ رات قیامت کی رات تھی ہاجو کی موت پہ پہاڑ بھی آنسو بہا رہے تھے نہر ندیاں وہ راستے ہاجو کے غم میں نڈھال تھے …ہاجو اپنا آخری درد ناک گیت گا کر جا چکی تھی ۔
ایک عرصہ گزر کیا کسی کو معلوم نا ہوسکا کہ ہاجو کو کیا بیماری لگ گئی تھی .
اس عرصے میں جب جب ہاجو کی آخری لمحے کی باتیں یاد آتیں رب نواز تڑپ کے رہ جاتا ہاجو کے جانے کے بعد ایک لمحہ بھی سکون کا نہیں گزرا اس کا بار بار اس کی معصوم صورت سامنے آ جاتی اور پھر بھری جوانی میں اس کی موت …..وہ تو معافی بھی نہیں مانگ سکا تھا اس سے ….ہر وقت کی بے سکونی اور پھر چھ بچیوں کی پیدائش ..اس کی بیوی اسے کوستی رہتی نا کام کا نا کاج کا ہر وقت پتا نہیں کیا پاگلوں کی طرح گھورتا رہتا ہے جیسے کچھ کھو گیا ہو .پتا نہیں ایسا کیا گم کر بیٹھا ہے منحوس کہیں کا میری زندگی عذاب بنا دی کمبخت نے .
اب تو ساری زندگی اسی جہنم میں گزارنی ہے .وہ بے شرم میرا نہی تو کم سے کم اپنی دھیاں دا ہی خیال کر لے …… مگر آگے سے کوئی جواب نا پا کر غصے سے برتن پھینکتی وہ وہاں سے چلی گئ .اور رب نواز ہاجو کے گیت کے چند الفاظ جو اسے یاد تھے وہ گنگنانے لگا .اب تو باقی کی ساری زندگی اسی بے سکونی میں گزرنی تھی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker