مرحوم ومغفور ایم اے شکور صاحب مجھے سمیت کئی دوستوں کے استاد تھے ۔ ملتان میںکئی صحافتی تنظیموں کے روح رواں رؤف مان اور دیگر صحافیوں نے اپنے کیریئر کا آغاز شکور صاحب مرحوم کی رہنمائی میں کیا ۔ غالباً 1990ء میں ہمارے بزرگ شیخ محمد امین کی زیر نگرانی چیف ایڈییڑ محمد علی انصاری محمد امین انصاری اور شعبہ صحافت اور ادب کے بڑے نام اقبال ساغر صدیقی مرحوم کی زیر ادارت شائع ہونے والے پہلے جدید ترین اخبار روزنامہ اعلان حق کا اجراء ہوا ۔ ایم اے شکور کے بعد وہاں رضی الدین رضی بطور نیوز ایڈیٹر ہماری رہنمائی کرتے رہے ۔ ھم سب کے دوست نذر بلوچ استاد طاھر ارشد قریشی بھی اس ٹیم کا حصہ بنے خلیج کی جنگ میں رضی الدین رضی کی شہ سرخیوں نے اس زمانے میں بہت دھوم مچائی ۔ شکور صاحب واقعی بہت بڑے صحافی تھے ۔ خود دار بے لوث اور اپنے کام سے کام رکھنے والے شعبہ نیوز کی طرح شعبہ آرٹ میں بھی کوئی ان کا ہم پلہ نہ تھا۔ کلر پیسٹنگ کے بھی استاد تھے ھالہ کی مخدوم فیملی کے ساتھ ان کے گہرے روابط تھے ۔مخدوم امین فہیم کے بھائی مخدوم خلیق الزمان ایک بار ان کی دعوت پر ملتان بھی آئے تھے ۔مرحوم شکور صاحب کو اپنے شعبہ میں جس قدر مہارت اور عبور حاصل تھا اس لحاظ سے ان کی قدر نہیں کی گئی زندگی بھر اپنوں اور معاشرے کی بے اعتنائی کا شکار رہے۔ صرف ہمارے بزرگ ایڈیٹر روزنامہ حیرت شیخ محمد امین صاحب اللہ تعالی ان کو صحت دے اور سلامت رکھے اور ان کے صاحبزادوں شاھد بشیر عابد بشیر اور خصوصا چاند بھائی نےمرحوم کا آخری وقت تک ایسے ساتھ نبھایا کہ کوئی اپنا بھی نہیں نبھاتا مرحوم کا آخری وقت تک سہارا یہی خاندان بنا رہا اللہ ان کو جزا دے پھر پتا نہیں کیوں وہ کراچی چلے گئے اور وہیں اللہ کو پیارے ہوگئے
محمود چوہدری کا اختصاریہ : ایم اے شکور ایک بڑا صحافی جو زمانے کی بے اعتنائی کا شکار ہوا
ایڈیٹر1 Views

