اختصارئےلکھاریملک مزمل عباس

ملک مزمل عباس جانگلہ کا اختصاریہ :عمران خان کی دشمن کابینہ

عمران خان کی جتنی بھی عمر سیاست میں گزری بلاشبہ انھوں نے سیاست میں رنگ بھرنے کے لیے بڑی محنت کی ہوگی کسی بھی چیز کی بہتری کے لئے عرصہ لگ جاتا ہے لیکن اگر وہی چیز خراب ہونے پر آئے تو چند گھڑیاں بھی نہیں لگتیں اور وہ چیز خراب ہو جاتی ہے اور عمران خان کی سیاست پر پانی اگر پھر رہا ہے تو اس کے پیچھے عمران خان کے چاہنے والے ہی ہوں گے جو عمران خان کی سیاست کو دفن کرنے میں دیر نہیں لگا رہے اگر بے وقوف دوست ہوں تو پھر دشمن کی ضرورت نہیں رہتی اب عمران خان کی طرف دیکھتے ہیں کہ امور کشمیر کی ذمہ داریاں علی امین پور گنڈا کے حوالے ہیں جن کا دور دور سے بھی کشمیر سے کوئی تعلق نہیں اور آئے دن وہ کسی نہ کسی غلط حرکت کی وجہ سے میڈیا کے سامنے چھائے رہتے ہیں ایک بڑی زبان کے مالک کو وزیر داخلہ بنادیا گیا جن کو مذاق کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا وہ اگر نجومی کے طور پر بولنا شروع ہو جائیں تو بولتے بولتے شاید عمران خان کے اقتدار کو بھی لے ڈوبیں کیونکہ وہ اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں اب ان دونوں موصوف کی کارکردگی کو اگر دیکھا جائے تو زیرو نظر آئے گی فواد چوہدری بھی ابھی وزارتیں تبدیل کرتے رہتے ہیں اور ان کی گفتگو اپنی وزارت کے مخالف ہوتی ہے شبلی فراز کی لاٹری نکلی تو وزیر اطلاعات بنا دیا گیا بیچارہ شریف آدمی تھا لیکن ہر ایک کی مخالفت مول لینا پڑی کیونکہ اطلاعات و نشریات کا شعبہ ہی ایسا ہے جس میں ہر وقت کسی نہ کسی کے اوپر بم گرانے کی کوشش کی جاتی ہے جب خوب مخالفتیں اس بیچارے نے لے لیں تو اس کی وزارت کو تبدیل کر دیا گیا ۔
اگر صحیح طریقے سے غور کیا جائے تو ان کی کارکردگی بھی پہلوں کی طرح زیرو پھر ڈاکٹر فردوس عاشق عوام جس نے ہار کر بھی اپنے آپ کو اس حکومت میں وزیر بنائے رکھا کوئی تکڑی سفارش کی مالک ہیں ڈاکٹر صاحبہ پھر یہاں پہ بے شمار نمونوں میں ایک نمونہ فیاض چوہان بھی نظر آئے جن کی کارکردگی کو دیکھ کر عش عش کرنے کو دل کرتا ہے اگر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی بات کی جائے تو وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے اگر جرنلسٹ سوال کریں تو وہ انتظار کرتے ہیں کہ ان کے کان میں آکر کوئی ان کو جواب سمجھائے تو وہ بات آگے لے کر چلیں اسی طرح بدتمیزی بیہودہ گفتگو کے ماہر جناب شہباز گل اور مراد سعید جیسے بھی نوجوان ہیں جن کی گفتگو ہی برائی سے شروع ہوتی ہے اور برائی پر ختم ہوجاتی ہے عمر ایوب کی اگر بات کریں تو آج جس طرح ہر سبزی میں آلو کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح عمر ایوب بھی آ لو کا کردار ہر حکومت میں نبھا رہے ہیں قارئین عمران خان کی پوری کابینہ ہی عمران خان کے اقتدار کی دشمن ہے اور نہ جانے کیوں عمران خان کو یہ سوجھی کے حکومت چلانے کے لیے ایسے مہروں کو ساتھ رکھ لوں جوہر شطرنج کی گیم میں کسی نہ کسی کے مہرے رہے ہیں اب حکومت کے پاس صرف چھے ماہ رہ گئے ہیں کہ حکومت چلائے کیوں کہ اس کے بعد الیکشن کی تیاری شروع ہو جانی ہے اور ابھی تک یہ حکومت کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکی اور جو عمران خان نے اپنے محبوب چنے تھے ہر ایک محبوب اپنی ہی مفاد کی جنگ لڑتا رہا ۔ابھی بھی وقت ہے اگر اگر عمران خان پاکستان کا وزیراعظم بن جائے اور پاکستان کی عوام کو اپنی رعایا تسلیم کرلے اور اپنے اندر سے انتقام کی آگ کو ختم کر دے اور چھ ماہ میں اتنا کچھ ڈلیور کردے کہ عوام پہلے سے بھی زیادہ عمران خان کی چاہنے والی بن جائے یہ سب کچھ ایک صورت میں ہی ہو سکتا ہے کے انتقام کو ختم کرو کابینہ کی طرف نظر رکھو اور عوام کو اتنا ریلیف دے دو کہ عوام آپ کے زندہ باد کے نعرے لگائے نہ کہ آپ گلیوں میں یہ کہتے ہوئے نظر آئیں کہ میرا محبوب میرے اقتدار کا قاتل نکلا۔

 

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker