ادبڈاکٹر انوار احمدکالملکھاری

وعدہ خلافی : عاشقوں کی کوچہء دلدار میں واپسی ۔۔ ڈاکٹر انوار احمد

سندھی ،اردو افسانہ نگار اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر امر جلیل نے بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد ایک افسانہ لکھا تھا ”عاشق اور شہید لوٹ آتے ہیں “ شہیدوں کے بارے میں تو میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عاشق غریب جیتے جی کوچہء یار کے پھیرے لگاتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ محبوب کی طرف سے پابندیاں لگ جائیں،اس کی جانب سے اظہار لا تعلقی چھپ جائے، یا محبوب کی اپنی شکل وصورت ہی بدل جائے یا خود عاشق ہی اپنی وقتی تذلیل سے تنگ آ کر کچھ اضطراری فیصلے کر بیٹھے، پھر بھی وہ مرتے دم تک التفاتِ یار کا خواب دیکھتا رہتا ہے۔ اس کا اندازہ مجھے کئی برس پہلے معراج محمد خان سے کراچی میں ان کے گھر پر ایک تفصیلی ملاقات میں ہوا تھا، وہ میرے بعض دوستوں اور شاگردوں کے تو گُرو تھے مگر میرے لئے وہ پیپلزپارٹی کے ایک بانی، سو میں جاننا چاہتا تھا کہ بھٹو سے اُن کے اختلافات کی نوعیت کیا تھی اور وہ اُس سے بچھڑ کر کہاں کہاں نہ پہنچے اور کیا اس کے باوجود اُن کے دل میں بھی یہ خواہش تھی کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ آخر میں حلالہ کر سکتے؟ انیس زیدی مجھے اُن کے گھر پر لے گئے تھے ،اُن کے افرادِ خانہ نے اس شرط پر ملنے کی اجازت دی تھی کہ ہم 10 منٹ سے زیادہ اُن کی ’عیادت‘ میں نہیں لگائیں گے مگر ہوا یہ کہ جب میں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام کے ابتدائی دن اُنہیں یاد دلائے اور بھٹو کے آخری ایام کے حوالے سے چند تحریروں کے حوالے سے باتیں کیں تو میں نے محسوس کیا کہ خان صاحب جو ایک وقت میں بھٹو کے مخالفوں سے ہاتھ ملانے کے باوجود اپنی پہلی محبت فراموش نہیں کر سکے تھے۔ وہ کئی گھنٹے تک بھٹو کے بارے میں ہی باتیں کرتے رہے ، مختلف درازوں سے تلاش کر کر کے وہ تصویریں ایک بچے کے سے اشتیاق کے ساتھ دکھاتے رہے جن میں وہ بھٹو کے بہت قریب دکھائی دیتے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ اُنہیں دکھ یہ تھا کہ جب بھٹو کے دور میں اُنہیں جیل میں ڈالا گیا تو مسعود محمود کے ذریعے بھٹو نے صلح کا پیغام کیوں بھیجا ؟۔ کاش بھٹو نے اُردو شاعری پڑھی ہوتی تو وہ یہ جان سکتے کہ رقیبوں کے ذریعے ایک پرانے عاشق کو پیغام ملنے سے کیا اذیت ہوتی ہے۔؟ ملتان میں مسلم لیگ کے ایک سابق عاشق جاوید ہاشمی کا بھی یہی ماجرا ہے،وہ اپنی طرف سے اپنے محبوب کے ایک اشارہ ابرو کے منتظر ہیں مگر میاں نواز شریف کے ابرو کچھ سست رفتار ہو گئے ہیں یا وہ چلے ہوئے کارتوسوں پر مزید سرمایہ کاری کے بارے میں تامل کا شکار ہیں،شاید کسی درباری نے فیس بک کے ایک ستم ظریف کا تبصرہ دکھا دیا ہے جس نے لکھا تھا “جاوید ہاشمی سیاست سے گولڈن شیک ہینڈ کر چکے ہیں،اب اور کیا چاہتے ہیں؟“
پچھلے دنوں ملتان میں تاریخِ عشق کا ایک یادگار واقعہ پیش آیا ہے، ملتان یونیورسٹی میں ایک لڑکی کوئی 38 سال قبل اردو سے متصل ایک شعبے میں پڑھتی تھی، وہ خوش شکل تو تھی ہی خوش خیال اور روشن خیال بھی تھی۔ اُس کے ایک یونیورسٹی فیلو نے اسے پسند کیا اور زندگی بھر ساتھ نبھانے کی پیشکش کی مگر اس لڑکی کے والدین سماج کی دیوار بن گئے۔ لڑکی اس اعتبار سے ثابت قدم نکلی کہ اس نے آج سے چند ماہ پہلے تک شادی نہیں کی تھی۔ لڑکا حالات کے دھارے میں بہتا ہوا بیرونِ ملک چلا گیا شاید دولت بھی کمائی اور ایک کُنبے کو بھی تشکیل دیا مگر ابھی چند ماہ پہلے وہ اپنے بچوں کی تعلیم کی تکمیل کے بعد بچے کُھچے کنبے کی اجازت سے ملتان آیا اور ہماری اس عزیزہِ محترم سے رابطہ کیا۔ سماج کی بچی کھچی دیواروں نے پھر حائل ہونا چاہا مگر اب وہ لڑکی ایک باوقار اور بہادر خاتون میں تبدیل ہو چکی تھی سو اس نے 4 گواہوں کی موجودگی میں اُس ہاتھ کو تھام لیا،جو دوسری مرتبہ بڑے اخلاص سے اس کی طرف بڑھا۔ اسی بات سے مجھے امر جلیل کا افسانہ یاد آ گیا کیونکہ ہمارے معاشرے کو اور سیاسی کلچر کو سچ مُچ کچھ سچے اور کچھ نیم سچے عاشقوں کی واپسی کا انتظار ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ بھٹو کی پارٹی غریب لوگوں کی اُمیدوں کا مرکز ہوتی تھی یہاں یہ موقع نہیں کہ اس پارٹی کی نیم بربادی اور ویرانی کے اسباب گنوائے جائیں مگر یہ وہ جماعت ہے جس میں رہنے والے یہاں سے جانے کے بعد بھی کنکھیوں سے اسے تکتے رہتے ہیں۔ لیہ کے ہمارے ایک شاگرد ملک بہادر خان سیہڑ پیپلز پارٹی سے نکل کر ق لیگ میں چلے گئے، وزیر بھی رہے مگر مجھے اسلام آباد میں ملے اور میَں نے مشترک محبت کا حوالہ دیا تو دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ”سائیں اندروں ہاں پٹیندے“۔ فیصل صالح حیات نے زرداری اور راجہ رینٹل کے خلاف مقدمے تک دائر کرنے کے باوجود پارٹی میں واپسی کا سفر طے کرلیا ہے، اور تو اورایک بزرگ شیر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کوچہء یار کے گرد منڈلاتے پائے جاتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی بھی کبھی کبھار مستقبل میں خالی ہوسکنے والی گیلانی کی گدی پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں ،شاید کچھ یہی عالم صفدر عباسی،ناہید خان اور ذوالفقار مرزا کا ہو گا لیکن پیپلز پارٹی اپنے حقیقی کردار سے آشنا نہیں ہو سکتی جب تک بلاول بھٹو پورا یتیم نہ ہو
جائے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker