ارشد چوہدریتجزیےلکھاری

ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور کارکنوں کی رہائی کھٹائی میں کیوں؟ ارشد چوہدری کی خصوصی رپورٹ

کالعدم مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے فرانسیسی صدر کے متنازع بیان پر پاکستان میں تعینات فرانس کے سفیر کو نکالنے پر دیے گئے دھرنے تو ختم ہوگئے مگر اثرات ابھی تک برقرار ہیں۔ یہ معاملہ کئی روز تک پرتشدد کارروائیوں کے بعد حکومت اور ٹی ایل پی قیادت کے طویل مذاکرات کے ذریعے حل کیا گیا تھا۔
تاہم حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کی گئی قانونی کارروائیاں تاحال اختتام پذیر نہیں ہوسکیں۔ ایک جانب 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیے گئے تنظیمی سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور سینکڑوں کارکنوں کی رہائی ہے تو دوسری طرف جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے کا معاملہ بھی لٹکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ٹی ایل پی قیادت تشویش کا شکار ہے اور انہوں نے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری امن و امان کے خدشے کے پیش نظر 16 ایم پی او کے تحت ہوئی لیکن بعد میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھراؤ کے باعث 302 اور 7 اے ٹی اے کے تحت درج مقدمات میں بھی انہیں نامزد کیا گیا تھا۔
تحریک لبیک کے مطالبے پر منگل (20 اپریل) کو فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے فیصلے سے متعلق قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کر دی گئی، جس کے بعد گمان تھا کہ سعد رضوی و دیگر کارکنوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا، تاہم ایسا نہ ہوسکا۔
ٹی ایل پی رہنماؤں کے مطابق تحریک لبیک نے معاہدے کے مطابق آخری مرکزی دھرنا اپنے مرکز ملتان روڈ سے ختم کرنے کا اعلان کیا مگر دو دن گزرنے کے باوجود پارٹی قیادت اور کارکن نہ تو رہا ہوئے اور نہ ہی ان سے ملاقات کی اجازت دی جارہی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی آئی اے لاہور پکڑے گئے کارکنوں پر تشدد کر رہی ہے جبکہ سعد رضوی یا کارکنوں کی رہائی سے متعلق معلومات بھی نہیں دی جا رہیں۔
سعد رضوی کو رہا کیوں نہیں کیا جاسکا؟
پاکستان کے معروف علما کے وفد نے قرآن بورڈ کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں سعد رضوی سے پیر کو دھرنا ختم کروانے سے متعلق مذاکرات کیے تھے اور کوٹ لکھپت جیل میں ہونے والے ان مذاکرات کے بعد ہی حکومت اور ٹی ایل پی کا معاہدہ طے پایا تھا۔
صاحبزادہ حامد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ تحریک لبیک نے جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ واپس لینے یا سعد حسین رضوی کی رہائی شرائط میں شامل نہیں کی تھی اور نہ ہی انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا بلکہ ان کا واحد مطالبہ یہ تھا کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالا جائے اور پھر وہ پارلیمنٹ میں قرار داد لانے پر متفق ہوئے۔
صاحبزادہ حامد رضا کے مطابق: ‘سعد رضوی نے علما کے وفد سے ملاقات میں کہا تھا کہ نہ تو وہ اپنی یا کارکنوں کی رہائی اور نہ ہی پارٹی کو کالعدم قرار دیے جانے سے متعلق حکومتی رعایت چاہتے ہیں، یہ معاملہ وہ قانون اور عدالتوں کے ذریعے حل کریں گے۔’
انہوں نے کہا تھا کہ ‘مجھے 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، جس کے بعد حالات خراب ہوئے اور امن وامان کو نقصان پہنچا، ایک گرفتار شخص کیسے سڑکیں بلاک کرنے، توڑ پھوڑ یا جلاؤ گھیراؤ کا حکم دے سکتا ہے۔’
حامد رضا کے مطابق سعد رضوی کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خلاف درج ’مقدمات جھوٹے ہیں، جو وہ اپنے وکلا کے ذریعے عدالتوں میں ثابت کریں گے اور الزامات سے سرخرو ہوں گے۔‘
صاحبزادہ حامد رضا کے مطابق: ‘سعد رضوی نے یہ موقف شاید اس لیے رکھا کہ وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ وہ احتجاج ختم کرنے کے بدلے اپنی اور کارکنوں کی رہائی یا جماعت کو کالعدم قرار دینے کا درجہ ختم کروانے کی شرط رکھ رہے ہیں، بلکہ وہ واحد مطالبے پر ڈٹے رہے کہ جس مقصد کے لیے ہم نے حکومت سے معاہدہ کیا تھا کہ فرانسیسی سفیر کو نکالا جائے، اس پر عمل ہونا چاہیے۔’
دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی رہنما محمد حسن بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے پہلے بھی سعد حسین رضوی کو معاہدے کے خلاف گرفتار کر کے خود امن وامان خراب کیا اور اب دوبارہ وعدوں سے انحراف کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ سعد حسین رضوی کو 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، جب ہم نے ڈی سی کے وہ احکامات نکلوائے اور قانونی چارہ جوئی شروع کی تو کہا گیا کہ ان کے خلاف تو 302 اور دہشت گردی کی دفعات 7 اے ٹی اے کے تحت بھی مقدمات درج ہیں، اس لیے انہیں رہا نہیں کیاجاسکتا۔ ہم نے اس معاملے پر قانونی ٹیم تیار کی تاکہ عدالتوں سے رجوع کریں تو ہمیں یہ بھی تحریری طور پر نہیں بتایا جا رہا کہ ان کی بعد میں کن مقدمات میں گرفتاری ڈالی گئی ہے۔’
ان کا مزید کہنا تھا: ‘جیل حکام کو بھی کچھ علم نہیں اور محکمہ داخلہ و پولیس نے بھی کوئی جواب نہیں دیا، ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ سعد رضوی کی اگر گرفتاری ڈال دی تو انہیں عدالت میں کب پیش کیا جائے گا؟ اور سینکڑوں کارکن جو ابھی تک پولیس حراست میں ہیں انہیں رہا کرانے کے لیے کہاں جائیں؟ کیونکہ پولیس تو کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں ہے۔’
حسن بٹ نے دعویٰ کیا کہ ‘سی آئی اے لاہور میں رکھے گئے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں نہ سعد رضوی سے اور نہ ہی کارکنوں سے ملاقات کی اجازت ہے۔ ہمیں معلومات ہوں گی تو عدالت سے انصاف کے لیے دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔’
قانونی صورتحال
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے بعد اب تک ملک بھر میں 210 مقدمات درج ہوچکے ہیں اور ٹی ایل پی سے مذاکرات کے نتیجے میں ان مقدمات کے اخراج کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کہ ان مقدمات کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔
بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ کے بقول ٹی ایل پی کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے دوران 733 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 669 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے، ان میں سے زیادہ کا تعلق صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں سے ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا اور جن افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ کر کے انہیں ہلاک اور زخمی کیا ہے انہیں کسی طور پر بھی رہا نہیں کیا جائے گا۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صرف خدشہ نقض امن کے تحت حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کیا جا رہا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے ایسے افراد کی نشاندہی کرنا کافی مشکل ہے جنہیں صرف خدشہ نقض امن کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ اس معاملے میں سی سی ٹی وی اور ویڈیوز میں نظر آنے والوں کی شناخت کی جارہی ہے اور اس کے بعد معلوم ہوگا کہ توڑ پھوڑ، جلاؤ گھراؤ اور ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور اہلکاروں کو یرغمال بنانے میں کون ملوث ہیں، اسی طرح شاہدرہ میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی کرنے کے ذمہ دار کون تھے۔
محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایاکہ ابھی تک تحقیقات کا عمل جاری ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور دیگر گرفتار کارکنوں سے متعلق کس طرح کی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ اب تک مکمل چھان بین نہیں ہوسکی۔ اس کے بعد ہی ان کے بارے میں مقدمات میں دفعات کے اندراج اور ملزمان کی نامزدگی یقینی ہوسکے گی اور پولیس ریکارڈ عدالتوں میں پیش کرنے کے قابل ہوگی۔
اس حوالے سے کوٹ لکھپت جیل کے ایک افسر نے بتایا کہ ابھی تک سعد رضوی یا دیگر کارکنوں سے متعلق محکمہ داخلہ کی جانب سے رہائی کے تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے اور نہ ہی ابھی تک انہیں کسی عدالت میں پیش کرنے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ میں قرارداد پیش ہونے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا معاملہ تو ختم ہوگیا لیکن اب ابھی تک ٹی ایل پی رہنماؤں کو قانونی کارروائیوں سے متعلق تشویش ہے۔
حسن بٹ کے مطابق: ‘ٹی ایل پی کے کارکن بھی ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ہم بھی ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کے لیے قانونی راستہ اپنائیں گے لیکن حکومت ہوش کے ناخن لے اور مظاہرین اور قیادت سے مجرموں والا سلوک بند کرے۔’
( بشکریہ : انڈپینڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker