اختصارئےببرک کارمل جمالیلکھاری

ہاتھ پاؤں سے محروم دنیا کا سب سے خوبصورت بچہ ۔۔ ببرک کارمل جمالی

جب ہم بچے تھے۔ گاؤں کے رہواسی تھے۔ ننگے پاؤں گاؤں میں گھوما کرتے تھے۔ زمین کی نرم مٹی پر چلتے چلتے جینے کا سلیقہ سیکھ رہے تھے ۔ ہمیشہ میری شلوار کا ایک پائنچہ پھٹا ہی ہوتا تھا جس کی سلائی کیلئے دوسرے گاؤں جانا پڑتا تھا کیونکہ ہمارے گاؤں میں کوئی درزی نہیں تھا اس لئے نہ ہم دوسرے گاؤں جاتے تھے نہ سلائی ہو پاتی تھی اس وقت قمیض کا تو کوئی رواج ہی نہیں ہوتا تھا نہ ہمیں کوئی نئی قمیض ملتی تھی بس گھومتے پھرتے پتہ نہیں چلتا تھا کیسے کشمیر کی گلیوں میں دن سے رات اور رات سے صبح ہو جاتی تھی اور یوں ہم بڑے ہو گئے ۔ کشمیر کی ہر گلی جنت سے کم نہ تھی ۔ ایک روز مجھے ایک ایڈیٹر کا خط موصول ہوا بھائی کشمیر نمبر کیلئے ایک تحریر چاہیے میں خوبصورت کشمیر کی گلیوں میں دنیا کے سب سے خوبصورت چہرے کی تلاش میں نکلا پڑا۔ مجھے پورے گاؤں میں کوئی خوبصورت چہرہ نہ ملا تو قریبی گاؤں کا رخ کیا شاید وہاں دنیا کا سب سے خوبصورت چہرہ مل جائے مگر وہاں بھی کچھ نہ ملا تو اگلے گاؤں کا رخ کیا قریبی گاؤں انتہائی خوبصورت تھا ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی مگر کمی تھی تو صرف خوبصورت چہرے کی۔ صبح سے شام ہو گئی مگر خوبصورت چہرہ نہ ملا میرے سامنے ایک نہر تھی جس کی بے فکر و آزاد موجیں تھیں _ سارا دن کھیتوں، ندی نالوں میں گزر گیا مجھے اس وقت گھر والوں کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں تھی جہاں بھی جاتا کوئی نہ روکتا تھا امی تو ہمیشہ گوٹھ میں لسی کا بھرا گلاس دے دیتیں میں پی کےنیم کے پیڑ کے نیچے مدہوش ہو کے سو جاتا تو امی ایک کپڑا میرے اوپر رکھ دیتی تاکہ میں آرام سے سو سکوں صبح سے شام تک میں نیند کرتا دن سے رات ہو جاتی کچھ پتہ نہ چلتا تھا اسی طرح دن گزرتے گئے ۔بچپن کی ساری یادیں اس گاؤں کے چھاؤں میں چھوڑ آئے تھے اور اپنی پڑھائی پہ سب توجہ دے دی سکول سے کالج اور کالج سے پھر یونیورسٹی تک پہنچ گئے اور آخر ایک دن ملازمت بھی مل گئی ۔ اس روز زندگی میں پہلی مرتبہ ہم مایوس تھے وہ تھے خوبصورت چہرے کی وجہ سے جو کہیں نہیں مل رہا تھا
خوبصورت چہرے کی تلاش نے میری نیندیں حرام کر دی تھیں نہ خوبصورت چہرہ ملا نہ سکون کی روٹی بھلا کون مسافر کو سکون کا گھر اور سکون کی روٹی دے گا۔ پورے کشمیر جنت نظیر میں کہیں نہ امی کے ہاتھ جیسی چاۓ ملی نہ روٹی ۔
پورے کشمیر میں محبتیں جواں تھیں، بھائی چارے کی بھینی بھینی مہک سے فضا چار سو معطر تھی ہر چیز کو مل بانٹنے کا رواج عام تھا
میں ایک ایسےگاؤں کی ایک گلی سے گزرا جہاں بہت سے بچے ننگے پاؤں گھوم رہے تھے اور کھیل رہے تھے حتیٰ کہ بڑے بھی چپل سے محروم لگ رہے تھے میں نے ایک ماں کی گود میں ایک بچہ دیکھا بہت پیارا بچہ تھا بہت خوبصورت بچہ تھا اس کی ماں اس کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا رہی تھی میں اس بچے کی ماں کے پاس گیا اور اسے کہنے لگا ماں جی اس بچے کو کھیلنے کیوں نہیں دے رہے ہو تو ماں رونے لگی اور کہنے لگی بیٹا یہ دنیا کا خوبصورت بچہ ہے اس بچے کا چہرہ بہت خوبصورت ہے مگر اس بچے کے ہاتھ پاؤں نہیں ظالم بھارتیوں نے اس کے باپ کو مارا اور اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے آج یہ بچہ میری گود میں ہے ماں رونے لگی آنسو رک ہی نہیں رہے تھے پھر اچانک ماں جی نے چادر اٹھائی میں نے اس ماں کے بچے کو دیکھا تو دنگ رہ گیا میرے سامنے دنیا کا خوبصورت بچہ تھا جس کے دونوں ہاتھ تھے نہ دونوں پاؤں ۔ ماں اس بچے کو دنیا کا سب سے خوبصورت بچہ کہہ رہی تھی۔ دنیا کے بچے کھیل رہے ہیں وہ کھیل بھی نہیں سکتا تھا پھر میں سوچنے لگا۔ واقعی ہر ماں کا بچہ دنیا کا سب سے خوبصورت بچہ ہوتا ہے وہ بچہ رونے لگا میں وہاں سے آگے نکل پڑا اور رونے لگا میں اس ماں کی طرف دیکھ رہا تھا جس کا بچہ معذور ضرور تھا مگر اپنی ماں کے علاوہ کسی کے ہاں مجبور نہ تھا میں نے اسی وقت قلم اٹھایا اور اس بچے کی داستان لکھ دی ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker