وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 24-2023 کے لیے 2 کھرب 244 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کابینہ نے چیئرمین بلاول بھٹو زردری کی رہنمائی میں عوام کی بہتر خدمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کامیابی کا مظہر بلدیاتی انتخابات ہیں، پیپلز پارٹی نے سندھ کے ہر ضلع میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے، ہم عام انتخابات میں پورے پاکستان میں انتخابات جیتیں گے۔
سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا پہلا بجٹ 3 اگست 1937 کو سر غلام حسین ہدایت اللہ نے پیش کیا تھا، میں صوبائی اسمبلی میں آج 59واں بجٹ پیش کررہا ہوں۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ میری بارہویں بجٹ تقریر ہے، سندھ میں سیلاب اور کووڈ-19 کے باوجود گزشتہ پانچ سالوں میں غیر معمولی ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔
بجٹ کے اہم نکات
گریڈ ایک سے 16 تک 35 فیصد اور گریڈ 17 سے اوپر کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ 30 فیصد بڑھانے کا اعلان
مزدور کی کم سے کم 25000 تنخواہ 35 فیصد اضافے کا اعلان
پریس کلب اور مستحق صحافیوں کی گرانٹ اور انڈوونمنٹ فنڈز کی مد میں 25 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز
مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں لوکل باڈیز کیلئے 88 ارب روپے گرانٹ رکھنے کی تجویز
بون میروٹرانسپلانٹیشن کے مریضوں کے علاج کیلئے 6 کروڑ روپے مختص
انڈس ہسپتال کراچی کی گرانٹ 2.5 ارب روپے سے بڑھا کر 4 ارب کرنے کی تجویز
ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کی جانب گامزن کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، ہم موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ حکومت سندھ نے عالمی بینک سے 5 منصوبوں کے لیے تقریباً 1.7 ارب ڈالر حاصل ہے، اسی طرح 20 کروڑ ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک سے سیکیور کیے، میں اس حوالے سے مزید بات کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقی کرنے کے لیے استحکام بہت ضروری ہے، سندھ میں گزشتہ 5 سال میں استحکام برقرار رہا، وفاق میں 5 سالوں میں 6 وزرائے خزانے میں بجٹ پیش کیے جبکہ میں آج مسلسل پانچواں بجٹ پیش کررہا ہوں، ہم سندھ میں استحکام لا چکے ہیں، انشا اللہ وفاق میں بھی استحکام لائیں گے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج حاصل کرنے کو یقین بنانے کے لیے سندھ نے رواں مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں 188 روپے کا کیش سرپلس برقرار رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ایک ایک روپیہ خرچ کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے نظر ثانی شدہ اخراجات برائے 23-2022 کے 17.6 کھرب روپے ہیں جبکہ بجٹ میں اس کا تخمینہ 17.1 کھرب روپے لگایا گیا تھا۔
رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ جاری اخراجات 12.9 کھرب روپے رہے، یہ 11.1 کھرب روپے کے بجٹ تخمینے سے 8 فیصد زیادہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 23-2022 کے لیے جاری کیپٹل اخراجات کا نظر ثانہ شدہ تخمینہ 62.13 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ رواں مالی سال میں نظر ثانی شدہ ترقیاتی اخراجات 406 ارب کے ہوں گے، باجود چیلنجز کے یہ سب سے زیادہ ترقیاتی اخراجات ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک ہمیں وفاق سے 10.8کھرب روپے ملنے کی توقع ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ جہاں تک ہمارے اپنے وسائل کا تعلق ہے، ہمیں 358.2 ارب روپے کی آمدنی کا نظرثانی شدہ تخمینہ لگایا ہے جبکہ بجٹ میں اس کا 374 ارب روپے حاصل کرنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ ریونیو بورڈ 180 ارب روپے کا ہدف رواں مالی سال کے اختتام تک حاصل کرے گا۔
مراد علی شاہ کے مطابق منصوبوں میں غیر ملکی معاونت کا نظرثانی شدہ تخمینہ 147.82 ارب روپے کا لگایا گیا ہے جبکہ وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام سے 14 ارب روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے گریڈ ایک سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اور گریڈ 17 کے اوپر کے ملازمین کے لیے 30 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے ساڑھے سترہ فیصد پنشن میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران وفاق کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 188 فیصد بڑھائی گئیں جب کہ سندھ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 236 فیصد بڑھائی گئیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال کم از کم اجرت 25 ہزار مقرر کی تھی، میں تجویز کرتا ہوں کہ جتنا اضافہ ہم گریڈ ایک سے سولہ کے ملازمین کے لیے کر رہے ہیں، مزدور کی کم از کم اجرت میں اتنا ہی اضافہ کیا جائے، یعنی کم از کم اجرت کو 35 فیصد بڑھا کر 33 ہزار 750 روپے ہونی چاہیے۔
سالانہ ترقیاتی منصوبے
مالی سال 24-2023 کے لیے ترقیاتی اخراجات کی مد میں 689.6 ارب روپے تجویز
بیرونی معاونت کے منصوبوں کے لیے 266.6 ارب روپے رکھے گئے ہیں
وفاق کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 22.412 ارب روپے تجویز
صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لیے 380.5 ارب روپے مختص
ضلعی اے ڈی پی کے لیے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں
مالی سال 24-2023 کے لیے صوبائی ترقیاتی اخراجات 5248 منصوبوں پر مشتمل ہے
3311 جاری منصوبوں کی مد میں 291.727 ارب روپے مختص
88.273 ارب روپے کے 1937 نئے منصوبے شامل
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ہماری توجہ جاری اسکیموں کی تکمیل پر ہے جس کے لیے بجٹ کا 80 فیصد مختص کیا گیا ہے، آئندہ سال کے بجٹ میں شعبہ تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 34.69 ارب روپے مختص کئے گئے، شعبہ صحت کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 19.7 ارب روپے مختص کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ داخلہ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 11.517 ارب روپے رکھے گئے ہیں، شعبہ آبپاشی میں آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے، بلدیات اور ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ کے تحت منصوبوں کے لیے 62.5 ارب روپے کی بڑی رقم مختص کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیہی ترقی کے منصوبوں کے لیے 24.35 ارب روپے دستیاب ہوں گے، ورکس اینڈ سروسز کے تحت سرکاری عمارات اور سڑکوں کے لیے ترقیاتی اخراجات کے لیے 89.05 ارب روپے میسر ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے دیکھا جو مشکلات آئی ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ ہم بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی قیادت میں اس صوبے اور ملک کو آگے لیکر جائیں گے، اگلی کچھ دہائیوں میں ملک کو بہتر مستقبل کی جانب لے کر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وہ قیادت ہے جو آئندہ تیس سے چالیس سال تک ملک کی قیادت کرے گی، آپ دیکھیں کہ ایک سال میں وزارت خارجہ میں کتنا کام ہوا کہ پاکستان جس کو لوگ پہچانتے نہیں تھے، بلاول بھٹو نے عراق کا دورہ کیا، اب عراق نے کہہ دیا ہے کہ وہاں پاکستانیوں کے لیے ویزہ فری انٹری ہے، یہ صرف ٹریلر ہے، اگلے 30 سے 40 سال وہ ملک کی قیادت کرکے دکھائے گا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جس کو جلنا ہے وہ جلتا رہے، بلاول بھٹو اس ملک کے وزیراعظم بنیں گے، پیپلزپارٹی اس ملک کی خدمت کرے گی۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

