مظفر آباد : پاکستان کے زیر انتظام میں ضلع پونچھ کے کمشنر سردار وحید خان نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کو راوالاکوٹ کے دو مقامات سے منتشر کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق احتجاج کے دوران جھڑپوں میں چار سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانی والی جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر ہونے والے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ میں جمع ہو رہے ہیں جہاں سے وہ مظفر آباد کی طرف جانا چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں وہیں روک کر رکھا ہوا ہے۔
حال ہی میں کشمیر حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور روپوش ہونے والے رہنماؤں کے بارے میں معلومات دینے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔
پونچھ کے کمشنر سردار وحید خان نے کہا کہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے راولاکوٹ کے علاقے دریک میں عید گاہ اور بس ٹرمینل کے قریب لانگ مارچ کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کیا جس میں مظاہرین ان علاقوں سے منتشر ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران درجنوں کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس وقت آپریشن کیا گیا اس وقت مظاہرین کی تعداد آٹھ سے لے کر دس ہزار کے درمیان تھی۔
کمشنر پونچھ کا کہنا تھا کہ راولاکواٹ کے کچھ مقامات پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزاحمت کا سامنا ہے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان کے کارکن ایک منصوبہ بندی کے تحت منتشر ہوئے ہیں۔
اس تنظیم کے ایک رہنما اکرم عباسی کے مطابق ان کا لانگ مارچ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کی قیادت کی طرف سے اس لانگ مارچ اور احتجاج کی کال کو ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔
واضح رہے کہ 9 جون کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بھمبر سے مزکورہ کالعدم جماعت کی طرف سے شروع ہونے والا یہ لانگ مارچ میرپور سے ہوتا ہوا گذشتہ دو روز سے راولاکوٹ کے مقام پر رکا ہوا تھا۔ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو مظفر آباد کی طرف پیش قدمی سے روک دیا تھا اور جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب عوامی ایکشن کمیٹی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ ابھی راولاکوٹ میں ہی رکیں گے۔
اس سے پہلے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاج کے دوران جھڑپوں میں چار سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر مختلف علاقوں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

