اہم خبریں

ادبی بیٹھک کے چارسو ہفتے مکمل : خصوصی تقریب میں نام ور شخصیات کی شرکت

بیٹھک نے ملتان کو نئی شناخت دی ، انسٹی ٹیوٹ کادرجہ اختیارکرچکی ہے۔ مقررین

ملتان۔ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک نے ملتان کو ایک نئی شناخت دی ہے ۔ یہ بیٹھک پہلے صرف ایک ادبی مجلس تھی اب یہ انسٹی ٹیوٹ کادرجہ اختیارکرچکی ہے۔ بیٹھک کے چارسو ہفتے مکمل ہونا ایک بڑا سنگ میل ہے۔
ان خیالات کااظہار سخن ور فورم کے زیراہتمام ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک کے چارسو ہفتے مکمل ہونے پرمنعقد ہونے والی خصوصی تقریب بعنوان ”ادبی بیٹھک کے چارسو ہفتوں کا احوال، گزرے ہوئے ماہ وسال“ میں‌نامور شاعروں، ادیبوں، صحافیوں ،مصوروں اور دانشوروں نے کیا۔ تقریب کی صدارت ادبی بیٹھک کے سرپرست اعلیٰ وسیم ممتاز نے کی ۔ مہمان خصوصی معروف شاعرہ و براڈکاسٹر رضوانہ تبسم درانی تھیں جبکہ مہمانان اعزاز کی نشست پر رہبرصمدانی مرحوم کے بھائی سرور صمدانی کو بٹھایاگیا۔ نظامت کے فرائض تحسین غنی نے سرانجام دیئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نام ور صحافی جبار مفتی نے کہاکہ اس فورم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ قمررضا شہزاد نے کہاکہ ادبی بیٹھک ملتان کی ایک متوازی تاریخ ترتیب دے رہی ہے۔رضی الدین رضی نے کہاکہ اس بیٹھک کابنیادی مقصد یہ ہے کہ قلمکار ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوں۔ وسیم ممتاز نے کہاکہ ہم نے اس پلیٹ فارم سے بہت سی نئی روایات قائم کیں اور یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔
رضوانہ تبسم درانی نے کہاکہ جو احترام خواتین کو اس بیٹھک میں ملتا ہے وہ کسی اور جگہ میسر نہیں۔سرور صمدانی نے کہاکہ بھائی رہبر صمدانی کے بعد میں ادبی تقریبات سے دور ہوچکا تھا ۔آج سخن ور فورم نے مجھے دوبارہ فعال کردیا ۔سید سہیل عابدی نے کہا کہ ہمارے لیے اس بیٹھک کاحصہ ہونا اور اس کی انتظامیہ میں شامل ہونا اعزاز کی بات ہے۔ ڈاکٹر واجد برقی نے کہاکہ یہاں نئے لوگوں کو بہت کچھ سیکھنے کوملتا ہے۔محمد مختارعلی نے کہاکہ کسی تنظیم کے چارسو اجلاس مکمل ہونا غیرمعمولی بات ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس تنظیم کاحصہ ہیں۔ انجینئر ممتاز احمد خان نے کہاکہ ادبی بیٹھک کا پیغام محبت ہے جسے عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شاہ نواز خان نے کہاکہ اس بیٹھک سے بھی پہلے ہم نے ایس پی او اور سخن ور فورم کے اشتراک سے یادگار تقریبات منعقد کروائیں۔ ارشد بخاری نے کہاکہ ادبی بیٹھک ملتان کے ادبی مرکزکی صورت اختیار کرچکی ہے۔ جاوید یاد نے کہاکہ یہاں سب کو احترام دیا جاتا ہے کسی کی حوصلہ شکنی نہیں ہوتی۔شہزاد عمران خان اور محمد عبداللہ نے کہاکہ ہمیں یہاں سے بہت کچھ سیکھنے کوملتا ہے۔ تقریب میں حبیب الرحمن بٹالوی نے سخن ورفورم کے لیے نظم پیش کی ۔اس موقع پر مسیح اللہ جامپوری ،رشید ارشد سلیمی،احمد مسعودقریشی،اکبر ہاشمی، غلام فرید بھٹی، ارشد خرم، تاج محمد تاج، فہیم ممتازسمیت ادیبوں ،شاعروں اور دانشوروں کی بڑی تعداد موجودتھی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker