لاہور : مال روڈ پر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئےشیخ رشید نے کہا کہ ’ماڈل ٹاؤن کے قاتل کاروباری لوگ ہیں اور شریف برادران مال لگا کر سیاست کرتے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف آج جگہ، جگہ دھکے کھا رہے ہیں، اجمل قصاب کے گھر کا پتہ نواز شریف نے دیا لیکن مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے۔‘شیخ رشید نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’شریف برادران تقریروں سے نہیں جاتے اس لیے میں آج اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتا ہوں اور عمران خان سے بھی کہتا ہوں کہ استعفیٰ دیں۔‘واضح رہے کہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بھی اسمبلی سے استعفے سے متعلق شیخ رشید کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’اسمبلی سے استعفوں کی تجویز پر پارٹی سے مشاورت کروں گا، ہوسکتا ہے اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر شیخ رشید سے آملیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کو سپریم کورٹ نے مجرم قرار دیا لیکن پارلیمنٹ میں ہاتھ اٹھا کر مجرم کو پارٹی کا صدر بنانے کے حق میں ووٹ دیئے گئے، میں ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں۔‘لاہور کے مال روڈ پر اپوزیشن کے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’اسمبلی سے استعفے سے متعلق شیخ رشید کی باتوں سے متفق ہوں، اسمبلی سے استعفوں کی تجویز پر پارٹی سے مشاورت کروں گا، ہوسکتا ہے اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر شیخ رشید سے آملیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کو سپریم کورٹ نے مجرم قرار دیا لیکن پارلیمنٹ میں ہاتھ اٹھا کر مجرم کو پارٹی کا صدر بنانے کے حق میں ووٹ دیئے گئے، میں ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں۔‘عمران خان نے کہا کہ ’آج یہاں احتجاج کر کے چلے گئے تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا انصاف نہیں ملے گا، جلسے کے بعد طاہرالقادری سے ملاقات کروں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ احتجاج کو کیسے آگے لے کر جانا چاہیے، کیونکہ اب ہماری بہت پریکٹس ہوگئی ہے۔‘
منگل, جولائی 28, 2026
تازہ خبریں:
- نام نہاد عرب بہار اور بھارتی سی جے پی کی کامیاب تحریک : نصرت جاوید کا کالم
- رضا علی عابدی کے درِ دل پر دستک : شاکر حسین شاکر کا کالم
- ظریف احسن نے عمر بھر خود کو شعر و ادب کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا
- راولا کوٹ میں پانچ کارکنوں کی ہلاکت ہوئی : جوائنٹ ایکشن کمیٹی ۔۔ پولیس کا تصدیق سے گریز
- یہ کسی کی ہار جیت نہیں ۔ جنگ بند رہنا ضروری ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- "جھیل، سمندر اور سبزہ زار” کا ایک جمالیاتی جائزہ : سراج احمد تنولی کا کتاب کالم
- جامعات کی گھٹن اور میرٹ کا تماشا : یاسر پیرزادہ : کا مکمل کالم
- انسانی پلیسینٹا: شفا کا ذریعہ یا ضمیر کا سودا؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- بھارتی نوجوان جیت گئے : وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم
- بہار گزشت : وجاہت مسعود کی جیون کہانی کا ایک باب

