لاہور : اردو کے ممتاز ادیب، ماہر لسانیات اور مترجم شاہد حمید لاہور میں انتقال کر گئے ۔حمید شاہد نے اعلیٰ اور معیاری عالمی ادب کے تراجم کئے ۔جن ٹالسٹائی کی وار اینڈ پیس ، جسٹین گارڈر کی سوفی ورلڈ ، دوستوئیفسکی کا برادر کراموزوف ،جین آسٹن کا تکبر اور تعصب ، ہیمنگوے کا بوڑھا اور سمندر شامل ہیں ۔ سب اہم عالمی ناولوں کے تراجم انہوں نے کیے ۔ شاہد حمید 1928 میں جالندھر میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے بعد لاہور آ گئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے کیا اور مختلف اداروں میں تدریس کے بعد 1988 میں اسی کالج سے پروفیسر ریٹائر ہوئے۔ ناولوں اور کہانیوں کے ساتھ ان کا ایک اور بڑا کام انگریزی اردو ڈکشنری ہے انہوں نے اپنی خود نوشت "گئے دنوں کی مسافت” بھی شائع کروائی۔ ان کو یہ کمال حاصل تھا کہ ترجمہ اردو میں اس قدر بخوبی کرتے تھے کہ ایسا بالکل بھی نہیں لگتا تھا کہ ہم غیر ملکی زبان کے تراجم اردو میں پڑھ رہے ہیں۔ حمید شاہد مرحوم معیاری اردو تراجم کی وجہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہینگے۔
پیر, جولائی 27, 2026
تازہ خبریں:
- یہ کسی کی ہار جیت نہیں ۔ جنگ بند رہنا ضروری ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- "جھیل، سمندر اور سبزہ زار” کا ایک جمالیاتی جائزہ : سراج احمد تنولی کا کتاب کالم
- جامعات کی گھٹن اور میرٹ کا تماشا : یاسر پیرزادہ : کا مکمل کالم
- انسانی پلیسینٹا: شفا کا ذریعہ یا ضمیر کا سودا؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- بھارتی نوجوان جیت گئے : وزیرِ تعلیم کے مستعفی ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم
- بہار گزشت : وجاہت مسعود کی جیون کہانی کا ایک باب
- حسن رضا گردیزی ۔سرائیکی اور انگریزی : رضی الدین رضی کا 1989 میں لکھا گیا مضمون
- اٹھو، اب ماٹی سے اٹھو، جاگو میرے لال ( جنگ کے گم نام ہیرو ) – وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- آزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب اصل وارث آگئے ہیں، مریم نواز
- ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کی ’ریڈ لائنز‘ کیا ہیں؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

