امریکہ اور ایران مذاکرات میں بریک تھرو اور جلد ہی کسی اچھی خبر کی اطلاعات سامنے آنے کے چوبیس گھنٹے بعد بھی ایران امریکہ معاہدہ کا اعلان نہیں ہوسکا۔ دریں حالات یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ معاہدہ کب اور کیسے طے پاسکتا ہے۔ جمعہ کو پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مختصر دورہ تہران کے بعد کسی معاہدے کے امکان پر قیاس آرائیاں شروع ہوئی تھیں۔
خبروں میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے کافی قریب آگئے ہیں اور جلد ہی باقاعدہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔ حتی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پوسٹ میں معاہدہ ’تقریباً‘ پایہ تکمیل تک پہنچنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب صرف چند تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔ البتہ ان تفصیلات پر اتفاق کا اشارہ سامنے نہیں آسکا حالانکہ بھارت کے دورے پر گئے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دن کے دوران نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھاکہ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے اور چند گھنٹوں میں اس کی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔
پوری دنیا مشرق وسطیٰ میں جاری غیر یقینی صورت حال ختم ہونے کا انتظار کررہی ہے لیکن اس بارے میں حتمی خوش خبری میں شاید ابھی بھی مزید محنت اور اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔ مارکو روبیو کی امید کے مطابق چند گھنٹے بعد معاہدہ طے ہونے کی کوئی خبر تو سامنے نہیں آئی مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ پیغام ضرور سننے میں آیا ہے کہ مذاکرات کرنے والوں کو عجلت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں نہایت احتیاط سے حتمی معاہدے پر اتفاق کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ’منظم اور تعمیری انداز میں‘ جاری ہیں ۔ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی کہ کسی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ وقت امریکہ کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیاں کسی معاہدے کے طے، تصدیق اور دستخط ہونے تک برقرار رہیں گی۔ فریقین کو مکمل احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی غلطی کی گنجائش نہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ امریکہ و ایران کے تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔ ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار یا بم حاصل نہیں کر سکتا‘۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران کے بعد صدر ٹرمپ نے ہفتہ کی شام کو پاکستانی فیلڈ مارشل کے علاوہ سعودی عرب اور متعدد دیگر ممالک کے سربراہان سے ٹیلی فونک کانفرنس میں حتمی معاہدہ کی تفصیلات پر بات کی۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ سب نے امریکی صدر کو جنگ کی بجائے امن کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔ اس دوران ممکنہ معاہدے کے بارے میں جو خبریں سامنے آئی ہیں، ان میں یہی دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکہ فوری طور پر اپنے متعدد مطالبات سے دست بردار ہؤا ہے اور اس نے ایران کی یہ بات مان لی ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے جنگ بندی پر اتفاق کرلیاجائے۔ اور ایران کی جوہری صلاحیت اور افزودہ یورینیم کے مستقبل کے حوالے سے ایک مقررہ مدت کے دوران بات چیت کرنے اور معاہدہ کرنے پر اتفاق کرلیا جائے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے اس بارے میں خبر دی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے میں مستقل جنگ بندی کی بجائے موجودہ جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع کی شق شامل کی گئی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے ایگزیوس نے خبر دی ہے کہ معاہدے میں شامل نکات میں کہا گیا ہے کہ اس دوران آبنائے ہرمز کسی قسم کے ٹول یا ٹیکس وصولی کے بغیر مکمل طور سے کھول دی جائے گی۔ ایران سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے پر آمادہ ہوگا، امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا اور ایرانی تیل پر بعض پابندیوں میں نرمی کی جاسکتی ہے۔ تاہم ایران کی طرف سے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور یورینیم افزودگی پروگرام پر مذاکرات کے لیے ابتدائی یقین دہانیاں کرائی جائیں گی۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران پر پابندیاں ختم کرنے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر معاملات مذاکرات میں طے ہوں گے۔ اس کے علاوہ علاقے میں متعین امریکی بحری بیڑے و افواج حتمی معاہدہ ہونے کے بعد ہی واپس بلائی جائیں گی۔
اگر دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ انہی خطوط پر آگے بڑھ رہا ہے تو اس میں ایران کی مرضی کے نکات پر کافی حد تک اتفاق کیا گیا ہے۔ ایران نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جنگ بندی ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی تھی تاہم اس کا مطالبہ تھا کہ جوہری صلاحیت کے بارے میں بات چیت کو غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کردیا جائے۔ ایگزیوس نے جو معلومات فراہم کی ہیں، ان میں یہ ایرانی خواہش تقریباً مان لی گئی ہے۔ تاہم ایران کی خواہش ہے کہ امریکہ اس کے منجمد اثاثوں میں سے کچھ سرمایہ فوری طور سے ریلیز کرنے کی اجازت دے تاکہ ایرانی حکومت پر مالی بوجھ کم ہوسکے لیکن امریکہ یہ وعدہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہا ہے۔
اس دوارن ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے ٹیلیگرام پر ایک بیان میں کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے قبل بھی ہم نے اعلان کیا تھا اور آج دوبارہ اسے دہرا رہے ہیں کہ ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے۔ ایران خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا بلکہ اسرائیلی حکومت ہی خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ البتہ انہوں نے واضح کیا کہ’ ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے‘۔ یہ بیان بظاہر تو ایران کے اس عزم کے بارے میں ہے کہ اس کا جوہری بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن اس میں جوہری صلاحیت پر پابندی اور افزودہ یورینیم کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ یہی نکات درحقیقت امریکہ کے ساتھ اختلاف کی بنیادی وجہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی حکام کی جانب سے یہ اشارے بھی دیے جارہے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار رہے گا اور وہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے سروس چارجز بھی وصول کرے گا۔ اگر یہ ایران کی ریڈ لائن ہے تو یہ امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے ممالک کی رائے اور خواہش کے برعکس ہے اور کسی بھی حتمی معاہدے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
عبوری جنگ بندی میں توسیع سے شاید معاملات میں وقتی سہوت پیدا ہوجائے لیکن اس بات کا اشارہ موجود نہیں ہے کہ فریقین نے کوئی ایسا میکنزم تیار کرلیا ہے جو کسی مستقل جنگ بندی اور اتفاق رائے کی قوی امید دلانے کا سبب ہو۔ امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایرانی معیشت سخت دباؤ کا شکار ہے اور وہ اس میں فوری ریلیف کا خواہاں ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پوری دنیا کی معیشت خطرات کا شکار ہے۔ اس میں ٹریفک بحال ہونے سے تیل کی بڑھی ہوئی قیمتوں میں کمی ہوگی۔ امریکی صدر کے لیے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل یہ سہولت ضروری ہوگی تاکہ افراط زر میں کمی کی امید پیدا ہو۔ دوسری طرف جس مقصد سے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا گیا تھا ،وہ حاصل نہیں ہؤا اور ایران اب بھی جنگ سے پہلے والی سفارتی پوزیشن پر اصرار کررہا ہے۔
تہران میں سخت گیر ملا رجیم بدستور موجود ہے اور شدید مالی مشکلات کے باوجود اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ جنگ یا اس کے خاتمہ سے یہ حکومت ختم ہوجائے گی اور ایرانی سیاست ایرانی عوام کی خواہشات کے مطابق طے پاسکے گی۔ ایران کے عوام پہلے سے زیادہ غریب اور کرب کا شکار ہوں گے اور ایرانی پاسداران انقلاب جو طاقت امریکہ کے خلاف استعمال نہیں کرسکے ، اس کے بل بوتے پر ملک میں حکومت مخالف عناصر کو کچلنے کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ایران جنگ کے بارے میں ہونے والا کوئی معاہدہ بھی ایرانی عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں دلا سکے گا۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

