پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی، معاشی، انتظامی اور سماجی بحران ایک دوسرے میں اس طرح گندھ چکے ہیں کہ ریاستی ڈھانچے کا توازن بری طرح متاثر ہوا ہے۔ قیادت کے بحران، تہذیبی انتشار، بنیادپرستی،دہشت گردی، آبادی میں بے ہنگم اضافے، سیاسی عمل میں غیر ضروری مداخلت اور ادارہ جاتی کمزوریوں نے مل کر ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر دی ہے جس میں عام آدمی خود کو بے یار و مددگار محسوس کرتا ہے۔
یہ حقیقت اب تسلیم کر لینی چاہیے کہ ریاست اپنے شہریوں کو درپیش متعدد مسائل کے حل اور نظام میں مطلوبہ توازن پیدا کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ معیشت میں عدم استحکام تو ایک عرصے سے موجود تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس، خفیہ ایجنسیوں، سول بیوروکریسی اور بعض اوقات نظامِ انصاف کے کردار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال اور حقوق کا تحفظ ہے، مگر عام آدمی کا تجربہ اکثر اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ برصغیر کے نوآبادیاتی دور کو ختم ہوئے تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری ریاستی پالیسیوں اور انتظامی رویوں میں آج بھی نوآبادیاتی ذہنیت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ گویا ہم نے کالونیل ازم کو تو پیچھے چھوڑ دیا، مگر "نیو کالونیل ازم” کی ایک نئی شکل ہمارے اداروں اور طرزِ حکمرانی پر مسلط ہو چکی ہے۔ اس نظام میں فرد کی حیثیت کمزور ہوتی جا رہی ہے اور فلاحی ریاست کا تصور کہیں گم ہو گیا ہے۔
پارلیمان میں موجود جاگیردارانہ،مخدومین، قبائلی اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ کا ایک بڑا حصہ عوامی مسائل کے حل کے لیے نہ تو واضح وژن رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس ایسی فکری اور عملی صلاحیت موجود ہے جو ریاست کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکے۔ عوامی فلاح، انسانی وقار اور سماجی انصاف کے سوالات اکثر سیاسی ترجیحات میں پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
دوسری جانب ایک دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بیوروکریسی، عدلیہ اور عسکری اداروں میں آنے والے بہت سے افراد متوسط یا نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ خود اسی معاشرے کے مسائل اور محرومیوں کو دیکھ کر آگے بڑھتے ہیں، لیکن نظام کا حصہ بنتے ہی اکثر اسی فرسودہ ڈھانچے کے محافظ بن جاتے ہیں جس نے عوام کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ اس نظام کے اثرات ان کی آنے والی نسلوں تک بھی پہنچیں گے۔
آج پاکستان میں میرٹ، رواداری، انصاف اور انسان دوستی کے تصورات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک ایسی "شہنشاہی ذہنیت” پروان چڑھ چکی ہے جس میں ریاستی عہدوں پر فائز افراد اور عام شہریوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ کسی جج، اعلیٰ پولیس افسر یا سول و عسکری عہدیدار تک رسائی عام آدمی کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ریاستی ادارے عوام سے مکالمے کے بجائے ان سے فاصلہ اختیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہوں۔
اس تمام منظرنامے میں اگر کوئی ادارہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کا کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ عدلیہ ہے۔ دنیا کی زندہ اور فلاحی ریاستیں اس لیے مستحکم رہتی ہیں کہ وہاں کی عدالتیں فعال، خودمختار، انسان دوست اور عوامی مسائل سے آگاہ ہوتی ہیں۔ ایک ایسی عدلیہ جو صرف قانونی موشگافیوں تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرتی حقیقتوں، انسانی دکھوں اور عوامی مشکلات کو بھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
پاکستانی عدلیہ میں آج بھی بڑی تعداد ایسے جج صاحبان کی موجود ہے جو دیانت دار، درویش منش اور اعلیٰ انسانی اقدار کے حامل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدلیہ عوام کے ساتھ ایک وسیع تر مکالمے کا آغاز کرے۔ یہ مکالمہ صرف عدالتوں کے اندر نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات، دانشوروں، اساتذہ، وکلا، طلبہ اور عام شہریوں کے ساتھ بھی ہونا چاہیے تاکہ ادارے زمینی حقائق سے براہِ راست آگاہ ہو سکیں۔
عدلیہ اگر عوام کے دکھوں کو سننے اور سمجھنے کی روایت کو فروغ دے تو ریاستی نظام میں موجود بہت سی خامیوں کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے۔ تعلیم، صحت، پولیس، تفتیشی نظام، انتظامی ڈھانچے اور انسانی حقوق کے شعبوں میں موجود بڑے خلا صرف قانون کی کتابوں سے نہیں بلکہ عوامی تجربات کو سننے سے بھی سامنے آتے ہیں۔
پاکستان کو آج ایک ایسی عدلیہ کی ضرورت ہے جو نوآبادیاتی ورثے سے مکمل نجات حاصل کر کے ایک جدید، فلاحی اور انسان دوست عدالتی فکر کو فروغ دے۔ ایسی عدلیہ جو عوام کے لیے خوف کی نہیں بلکہ امید کی علامت ہو۔ جو شہریوں کے وقار، آزادی اور بنیادی حقوق کی محافظ بنے اور ریاستی اداروں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر آمادہ کرے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ عدلیہ اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ مکالمہ بڑھے، اعتماد بحال ہو اور انصاف کو صرف قانونی اصطلاح کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی قدر کے طور پر دیکھا جائے۔ اگر ایسا ہو سکا تو نہ صرف عدلیہ کا وقار بلند ہوگا بلکہ پاکستان میں ایک زیادہ منصفانہ، متوازن اور انسان دوست معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط ہو سکے گی۔
فیس بک کمینٹ

