آج کل پنجاب میں جس رفتار سے نئی نئی فورسز وجود میں آ رہی ہیں، اسے دیکھ کر مجھے اپنے بچپن کے وہ دن یاد آ جاتے ہیں جب محلے کے بچے ہر دوسرے دن نئی کرکٹ ٹیم بنا لیتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ٹیمیں بنتی تھیں اور یہاں فورسز بن رہی ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک عام آدمی صرف پولیس، ٹریفک پولیس اور ریلویز پولیس کے نام جانتا تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو صبح سویرے دروازے پر دستک سنائی دے تو وہ پہلے یہ پوچھتا ہے کہ "معاف کیجیے گا، آپ کس فورس سے تعلق رکھتے ہیں؟”
مجھے ڈر ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مستقبل قریب میں پنجاب دنیا کا پہلا "فورسستان” بن جائے گا۔
گزشتہ روز میں حسبِ معمول چائے پی رہا تھا کہ اچانک زور کی چھینک آ گئی۔ بیگم فوراً بولیں: "احتیاط کریں، کہیں فلو کنٹرول فورس نہ آ جائے۔”
میں نے حیرت سے پوچھا: "یہ کون سی فورس ہے؟”
کہنے لگیں: "جو عوامی مقامات پر حد سے زیادہ چھینکنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔”
میں نے ہنس کر بات ٹال دی، مگر شام کو سوشل میڈیا کھولا تو ایک دوست نے مذاقاً پوسٹ لگائی ہوئی تھی: "پنجاب حکومت نے چھینکوں کی نگرانی کے لیے خصوصی یونٹ قائم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔”
اب خدا جانے وہ مذاق تھا یا مستقبل کی خبر۔
میرا خیال ہے کہ اگر نئی فورسز بنانے کا یہی جذبہ برقرار رہا تو جلد ہی "ڈکار مینجمنٹ فورس” بھی قائم ہو جائے گی۔ اس کا کام ہوٹلوں اور شادی ہالوں میں کھانا کھانے کے بعد آنے والی ڈکاروں کا ریکارڈ مرتب کرنا ہوگا۔ جس شہری کی ڈکار مقررہ حد سے زیادہ بلند پائی گئی، اسے موقع پر ہی وارننگ جاری کر دی جائے گی۔
اسی طرح "ہوا خارج کرنے والی فورس” بھی بن سکتی ہے۔ اس فورس کے اہلکار خصوصی آلات سے لیس ہوں گے اور مشتبہ افراد کے اردگرد چکر لگاتے رہیں گے۔ جیسے ہی ماحول میں کوئی غیر معمولی تبدیلی محسوس ہو گی، فوراً رپورٹ مرتب کر لی جائے گی۔
شہری احتجاج کرے گا: "جناب! یہ قدرتی عمل ہے۔”
افسر جواب دے گا: "ہمیں قانون سے غرض ہے، فطرت سے نہیں۔”
بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔
مجھے تو لگتا ہے کہ مستقبل میں "بریتھ ریگولیشن فورس” بھی قائم ہو سکتی ہے۔ اس کا مقصد شہریوں کی سانسوں کو منظم کرنا ہوگا۔ اگر کسی نے مقررہ رفتار سے زیادہ سانسیں لے لیں تو جرمانہ عائد ہو جائے گا۔
ایک فرضی اشتہار کچھ یوں ہو گا:
"عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ صبح سات بجے سے رات دس بجے تک فی منٹ پندرہ سانسوں سے زیادہ لینا قابلِ تعزیر جرم تصور ہو گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں ریگولیشن فورس کارروائی کرے گی۔”
شاید آپ اسے مبالغہ سمجھیں، مگر حالات دیکھ کر اب کچھ بھی ناممکن نہیں لگتا۔
کل میں پارک میں چہل قدمی کر رہا تھا کہ ایک صاحب زور زور سے قہقہے لگا رہے تھے۔ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ اگر "قہقہہ کنٹرول فورس” وجود میں آ گئی تو ان بیچاروں کا کیا بنے گا؟
ممکن ہے اس فورس کا نعرہ ہو:
"ہنسیں ضرور، مگر سرکاری قواعد کے مطابق۔”
ایک اور دوست نے تو اس سے بھی آگے کی پیش گوئی کر دی۔ اس کا کہنا تھا کہ جلد ہی "فضول مشورہ فورس” بنائی جائے گی جس کا کام ان لوگوں کو پکڑنا ہوگا جو ہر معاملے میں بلاوجہ مشورے دیتے ہیں۔
میں نے فوراً اعتراض کیا: "اگر ایسا ہوا تو ملک کی نصف آبادی گرفتار ہو جائے گی۔”
اس نے کہا: "بالکل، اسی لیے یہ منصوبہ ابھی تک فائلوں میں پڑا ہے۔”
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے بزرگ آج زندہ ہوتے تو کیا کہتے؟ شاید وہ حیرت سے پوچھتے کہ آخر اتنی فورسز کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
اصل مسئلہ فورسز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے مقاصد اور کارکردگی ہیں۔ عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولت چاہیے۔ اگر کسی ادارے کی تشکیل واقعی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہو تو یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن جب عام آدمی کو ہر طرف وردی ہی وردی نظر آنے لگے تو اس کے ذہن میں سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اگلا نمبر ہمارا تو نہیں؟
خیر، میں نے احتیاطاً آج سے اپنی چھینکیں آہستہ کرنا شروع کر دی ہیں، ڈکاروں پر قابو پانے کی مشق بھی جاری ہے اور سانسیں بھی گن گن کر لے رہا ہوں۔
کیونکہ کیا پتا کل صبح اخبار میں خبر شائع ہو:
"پنجاب حکومت نے شہریوں کی بے ترتیب سانسوں، غیر ذمہ دارانہ چھینکوں اور مشکوک ڈکاروں کی روک تھام کے لیے نئی فورس کے قیام کی منظوری دے دی۔”
اور پھر ہم سب ایک دوسرے سے پوچھتے پھریں:
"بھائی صاحب، آپ کس فورس کے زیرِ نگرانی زندگی گزار رہے ہیں؟”
فیس بک کمینٹ

