کوئٹہ : پولیس نے ایک سرکاری ملازم کی جانب سے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ اور چار کمسن بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرنے کے کیس میں تفتیش کی غرض سے دو ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق مبینہ طور پر اپنے اہلخانہ کو قتل کر کے خود کشی کرنے والے شخص کی شناخت آصف خان کے نام سے ہوئی، جو کوئٹہ کی وحدت کالونی میں رہائش پذیر تھا اور سیکریٹریٹ کا ملازم تھا۔
اس واقعے کی ایف آئی آر آصف خان کے بھائی کی مدعیت میں درج کی گئی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ چند سرکاری ملازمین گذشتہ کچھ عرصے سے اُن کے بھائی کو مسلسل ہراساں کر رہے تھے جس کے سبب وہ شدید ذہنی دباؤ میں تھے۔
درج ایف آئی آر کے مطابق مرنے والے بچوں کی عمریں ایک سے 14 برس کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ اس وقت سوشل میڈیا پر آصف خان کی ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں وہ چند افراد پر انھیں اور اُن کے بچوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں اور حکام سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
کوئٹہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کی بنیاد پر اس کیس کی تفتیش کر رہے ہیں اور آصف خان کی جانب سے نامزد کیے گئے افراد کو حراست میں لے کر اُن سے تفتیش جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ترجمان نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’حکومت اس افسوسناک واقعے کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائے گی اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔‘
آصف خان کی لگ بھگ 13 منٹ طویل ایک ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔
اس ویڈیو میں آصف خان وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزیراعظم پاکستان اور صدر مملکت سے مدد کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں اور یہ دھمکی دیتے ہیں کہ اگر شنوائی نہ ہوئی تو وہ اپنی اور اپنے بچوں کی جان لے لیں گے۔
آصف خان الزام عائد کرتے ہیں کہ اُن سے سرکاری گھر چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ بچوں کے نام پر بلیک میل بھی کیا جا رہا ہے۔
اس طویل ویڈیو میں آصف خان کئی بار روتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔
آصف خان کے بھائی ظریف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کا بھائی گذشتہ ایک، ڈیڑھ ماہ سے بہت زیادہ پریشان تھا۔
متعلقہ تھانے کے ڈیوٹی افسر محمد ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی تفتیش سیریس کرائمز انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ رہی کہ محمد آصف کو مبینہ طور پر بعض لوگوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا، تاہم اس حوالے سے حتمی حقائق مکمل تفتیش کے بعد ہی سامنے آ پائیں گے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

