ّعاصمہ شیرازیکالملکھاری

عاصمہ شیرازی کا کالم: اب کی بار نیوٹرل امپائر؟

آئینے کو آئینے میں عکس معکوس نظر آتا ہے۔ اندھوں کے شہر میں آئینوں کے بہت سوداگر ہیں مگر آئینوں کے شہر میں اندھوں کا کیا کام؟ عکس اور معکوس کے اس کھیل میں اصل چہرے ڈھونڈنے سے ملتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے پاکستان میں مگر چند ایسے چہرے بھی ملے ہیں کہ جنھیں دیکھ کر آئینے کو ڈھونڈنا نہیں پڑا۔
یہ کیسے ہوا کہ اعلیٰ عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ایک مقتدر آئینی ادارے کے سربراہ نے عدالت کو اطلاع دی کہ سینیٹ انتخابات کے خفیہ ووٹنگ کے طریقہ کار کو صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ عرصے سے پیشن گوئیوں پر پورا اترنے والے الیکشن کمیشن کے سربراہ سکندر سلطان راجہ یہ جواب بھی دیں گے کہ ان کے کندھے پر بندوق رکھ کر من مانی ترمیم عدالت نہیں کر سکتی۔
دوسرا حیران کُن واقعہ تب پیش آیا جب این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کے بیس حلقوں کے پریزائڈنگ افسران دُھند کی نذر ہو گئے۔ دُھند میں غائب کرنے والے دھندلائے ہوئے چہرے صاف نظر آئے یا نہ آئے تاہم الیکشن کمیشن پر چھائی دھند البتہ چھٹ گئی۔
الیکشن کمیشن جاگ پڑا۔ رات کے تین بجے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسکہ سے آنے والی اطلاعات کا خود نوٹس لیا۔ چیف سیکریٹری اور دیگر سوئے ہوئے اداروں کو جگایا، اطلاعات اکٹھی کیں اور این اے 75 کے ہر صورت من پسند نتائج حاصل کرنے والی انتظامیہ کو اپنے عزائم سے روک دیا۔
الیکشن کمیشن نے اپنے اصل اختیار کا استعمال ایک طویل عرصے کے بعد کیا جس کا سہرا صرف چیف الیکشن کمشنر کو ہی جاتا ہے۔
اسی ہفتے سپریم کورٹ کے فاضل جج قاضی فائز عیسیٰ کو چیف جسٹس نے وزیراعظم کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کے فیصلے سے الگ کیا تو ملک بھر میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی، میڈیا پریشان تو بار کونسلز مضطرب۔۔۔ ایسا ردعمل شاذونادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے مگر ملا۔
جج صاحب نے اپنی طرف اٹھائی گئی انگلیوں کا رُخ عدالت کی جانب موڑا تو انصاف کے بڑے گھر کے اختیار میں ارتعاش ضرور پیدا ہوا۔ ایک جانب الیکشن کمیشن تو دوسری جانب سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ ادارے زندہ ہیں اور تبدیلی آ رہی ہے۔
یہ پے در پے واقعات اس وقت میں ہوئے ہیں جب ایک طرف سینیٹ انتخابات اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور دوسری جانب افواج پاکستان کے سربراہ نے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹنے اور ادارے کے سیاست سے الگ رہنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ یہی نہیں جوڑ توڑ کی سیاست کے بے تاج بادشاہ آصف علی زرداری نے سینیٹ انتخابات کی اہم سیٹ پر حفیظ شیخ کے مقابل یوسف رضا گیلانی کو کھڑا کر کے ایک اہم پتہ بھی کھیل دیا ہے۔
سینیٹ انتخابات میں تمام انتخاب ایک طرف اور اسلام آباد کی جنرل نشست کا انتخاب دوسری طرف۔ حالات اور واقعات بتا رہے ہیں کہ ادارہ اس وقت اس انتخاب کے لیے نیوٹرل دکھائی دے رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت شاید پہلی مرتبہ سیاست کی چکی پر کوشش کے دانے پیس رہی ہے۔
اطلاعات اور شواہد ہیں کہ تاحال کسی بھی حکومتی اور اپوزیشن رکن کو کسی نامعلوم نمبر سے کال موصول نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ گیلانی صاحب نہ صرف شمالی پنجاب بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی اراکین اسمبلی سے رابطے میں ہیں اور پُراُمید ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ اس صورتحال میں وہ ’خاموش اکثریت‘ کے لیے نرم گوشہ پیدا کر لیں۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومتی اراکین میں سے چند اگلے انتخابات میں پی پی پی اور ن لیگ سے صرف انتخابی ٹکٹس کے وعدے پر ہی راضی ہو سکتے ہیں۔ ن لیگ کی ایک اہم شخصیت نے تجویز دی ہے کہ اوپن ووٹ دینے والوں کو ڈی سیٹ کیے جانے کی صورت پی ڈی ایم ان کے مد مقابل کوئی امیدوار کھڑا نہ کرے۔
پاکستان پیپلز پارٹی اس پوری صورتحال میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے اسی لیے نہ صرف یوسف رضا گیلانی کو یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے بلکہ چیئرمین سینیٹ عدم اعتماد کی صورت میں پی پی پی اور ن لیگ کے مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
سابقہ تجربے کے برعکس یوسف رضا گیلانی اس بار مریم نواز کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کو بھی اعتماد میں لے رہے ہیں اور جلد جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کریں گے تاکہ ن لیگ کے تمام اراکین سے ووٹ حاصل کیا جا سکے۔
ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں عوامی ردعمل ہو یا اداروں کا جواب، سپریم کورٹ کی صورتحال ہو یا جمہوری سیاسی جماعتوں کا اتحاد۔۔۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی مہنگائی عوامی غم و غصے میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ ایسی صورت میں اداروں کا تنازعات سے دور رہنا خود اداروں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
حالیہ واقعات کی روشنی میں اہم بات یہ ہے کہ مختلف اداروں کی طرح کیا حکومتی اراکین بھی جاگ جائیں گے اور اگر طاقتور حلقے اسی طرح نیوٹرل رہے تو صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔۔۔ کیا سینیٹ الیکشن میں دُھند چھٹ سکتی ہے؟
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker