اختصارئےعاطف علیلکھاری

بخدمت جناب ظلِ فرنگی صاحب ساہیوال ! ۔۔ عاطف علی

بعد از کورنش، گزارش کی جاتی ہے کہ پچھلے چند دنوں سے آپکا چہرہِ پُرنور سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا جس کو پڑھ کر بھی دل کو تسلی نہ ہوئی کیونکہ ان تحریروں میں صرف غم و غصہ تھا اور حیرت تھی مگر کوئی جامع تجاویز نہ تھیں اور یہ باور کرایا جا رہا تھا کہ عموماً نوکر شاہی دودھ شہد کی نہریں بہاتی ہے اور صرف آپ جناب، (نعُوزو بااللہ) ان کے نام پر بٹا لگا بیٹھے ہیں۔ ویسے تو اگر آپ کی صلاحیتوں کا صحیح ادراک کیا جاتا تو آپ کو مقابلہ حسن کا جج لگا دینا بہتر ہوتا کیونکہ جس طرح کی “حسن پریڈ” آپ نے گرلز ہاسٹل میں گُھس کر کی ہے اس کی مثال صرف منٹو کے افسانوں میں ملتی ہے وہ بھی کمپنی سرکار کے دور میں میں جب صاحب بہادر کی “خوشی” کیلئے جنتا کو صرف تن کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا جاتا۔ کیونکہ من مردہ تھے اور دھن پر کمپنی سرکار پہلے ہی قابض تھی۔
میرے کچھ دوست اس بات پر شدید چراغ پا ہیں کہ لیڈی ڈاکٹرز کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا۔ گویا، اگر صرف لیڈیز ہوتیں یا کسی اور محکمے کی ملازمیں ہوتیں تو کوئی مضائقہ نہیں تھا ؟ ہاں یہ بات زیادہ وزنی لگتی ہے کہ کیا مملکتِ خدا داد میں ٖڈاکٹر اور مریض کا تناسب اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب ڈاکٹروں کو وسیع تر قومی مفاد میں غیر ملکی مہمانوں کی دل پشوری کیلئے استعمال کیا جائے گا؟ یہ گمان کرنا کہ ناچیز کو برہمنوں کی دور اندیشی پر بالشت بھر بھی شک ہے، شدید زیادتی ہوگی۔ آخر کار چھ مہینوں میں بارہ مسالوں سے تیار ہونے والے برہمن اور کئی سالوں میں تیار کیے جانے والے شودروں کی سوچ میں کچھ تو فرق ہوگا نا ۔
میں تو اپنی ناچیز عقل کے مطابق فقط چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آئندہ ایسی صورتحال پیش نہ آئے۔
تجویز نمبر ایک: سب سے پہلے تو قانون سازی کی جائے کہ آئندہ صرف خوش شکل خواتین ہی میڈیکل کالجز میں داخلے کیلیے اپلائی کریں تاکہ اس قسم کے چھاپوں اور حُسن پریڈ کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

تجویز نمبر دو: چونکہ مملکتِ خداداد میں ہر فرد تک سائنسی طریقہ علاج اور ڈاکٹر تک رسائی ممکن ہوگئی ہے اس لیے سب سے پہلے تو اس رپورٹ کو ردی میں پھینکا جائے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اَسی فیصد سے زیادہ آبادی غیر سائنسی طریقہِ علاج کرانے پر مجور ہے اورٖ ڈاکڑ اور مریض کا تناسب بھی 1:1225 ہونا جھوٹ اور یہودی سازش پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکارِ با تدبیر نے بجائے نئے ہسپتالوں کی تعمیر کے جس سے لازماً پوسٹ گریجویٹس کی ٹریننگ کے مواقع بھی پیدا ہوتے سی آیی پی CIP کو متعارف کرادیا۔ خدشہ یہ تھا کہ کہیں کنسلٹنٹس اور مریضوں کا تناسب 1:1 نہ ہو جائے اور چند سالوں بعد ڈاکٹرز مریضوں کیلیے لڑتے ہوئے ایک دوسرے کے سر نہ پھاڑ دیں۔
تجویز نمبر تین: اگر تجویز نمبر دو سمجھ میں آجائے اور ایمان کا حصہ بن جائے تو یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہوگی کہ مملکتِ خداداد میں عملی طور پر ڈاکٹروں کی ضرورت ہی نہیں اور انھیں تقریبات میں سجاوٹ کیلیے استعمال کرنا ہی واحد مصرف رہ جاتا ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی قانون سازی (کہ صرف خوش شکل خواتین کو داخلہ دیا جائے) کے بعد UHS کو پابند کیا جائے کہ وہ کورسز میں سےغیر ضروری مضامین جیسے میڈیسن ، سرجری ، گائینی نکال کر کیٹ واک، فیشن اور آشرنگ کے کورسز کرائے جائیں۔
امید ہے کہ ظلِ فرنگی میری ان گزارشات کو مقتدر ایوانوں تک پہنچائیں گے اور اس پرٖ ٖفوری عمل درآمد کرا کر قوم کا نام ہزار والٹ کے بلب کی طرح جگمگ جگمگ روشن کریں گے۔
مزید برآں میں ظلِ فرنگی کی وساطت سے “شودروں” سے یہ ارشاد کروں گا ( لفظ گزارش صرف برہمنوں کیلیے ہے) کہ ابھی آپ نے مزید ذلیل ہونا ہےکیونکہ کچھ بعید نہیں کہ چند برسوں بعد آپ کو وسیع تر قومی مفاد میں “بھل صفائی” مہم میں بھی استعمال کیا جائے، تو یہ”کریم آف نیشن” اور “عزت دی جائے” کا کاسہ لیے مت پھریں۔ ہمت ہے تو پوری اور بڑی لڑائی لڑیں نہیں تو کان لپیٹ کر سہتے رہیں جو کچھ لادا جا رہا ہے۔
آخر میں میں ظلِ فرنگی کی شانِ اقدس میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ میرا ایک ناہنجار دوست ہے، باغیانہ خیالات کا حامل ، کل رات دو بجے مجھے فون کر کےکہہ رہا تھا کہ۔
“اس برہمن میں سے بارہ مسالے نکال دیے جایئں تو یہ ساری کارروائی گلی کے اوباش لونڈے کا سٹنٹ ہی رہ جاتا ہے جس کی دیرینہ خواہش ہوتی کہ کسی طرح گرلز ہاسٹل کے اندر پہنچ کے اپنی آنکھیں سینک سکے۔ اور تمام شودر یہ یاد رکھیں کہ آیندہ کوئی ریاستی امور کے نام پر اپنے اختیارات اور اوقات دونوں سے باہر نکل جائے تو ایک منٹ کیلیے یہ بھول جائیں کہ یہ بارہ مسالوں والا برہمن ہے یا ہسپتال کا ایڈمن اور اس کا وہ حشر کریں جو چھیڑ چھاڑ کرنے والے اوباش لونڈوں کا کیا جاتا ہے۔ یہ وہی ملک ہے جہاں سن 69 ء میں کراچی کی ایک سڑک پر ایک خاتون یونین لیڈر نےاحتجاج کے دوران کمشنر کو دن کی روشنی میں زناٹے دار تھپڑ مار کر تارے دکھا دیے تھے۔”
حضور! دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کیا یہ خیالات کسی با ضمیر قوم کو ججچتے ہیں؟ آپ نے بحالتِ شدید مجبوری چند نوجوان خواتین کو ہراساں کیا اور وہ بھی وسیع تر قومی مفاد میں۔ کیا اب اس پر یہ ہڑبونگ جائز ہے؟ آپ سے درخواست ہے کہ اس بابت بھی کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ اس اشتعال انگیز بیان میں آپکے ساتھ ساتھ “سی بیک” کے خلاف بھی سازش کی بو آرہی ہے۔

بعد از کورنش، گزارش کی جاتی ہے کہ پچھلے چند دنوں سے آپکا چہرہِ پُرنور سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا جس کو پڑھ کر بھی دل کو تسلی نہ ہوئی کیونکہ ان تحریروں میں صرف غم و غصہ تھا اور حیرت تھی مگر کوئی جامع تجاویز نہ تھیں اور یہ باور کرایا جا رہا تھا کہ عموماً نوکر شاہی دودھ شہد کی نہریں بہاتی ہے اور صرف آپ جناب، (نعُوزو بااللہ) ان کے نام پر بٹا لگا بیٹھے ہیں۔ ویسے تو اگر آپ کی صلاحیتوں کا صحیح ادراک کیا جاتا تو آپ کو مقابلہ حسن کا جج لگا دینا بہتر ہوتا کیونکہ جس طرح کی “حسن پریڈ” آپ نے گرلز ہاسٹل میں گُھس کر کی ہے اس کی مثال صرف منٹو کے افسانوں میں ملتی ہے وہ بھی کمپنی سرکار کے دور میں میں جب صاحب بہادر کی “خوشی” کیلئے جنتا کو صرف تن کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا جاتا۔ کیونکہ من مردہ تھے اور دھن پر کمپنی سرکار پہلے ہی قابض تھی۔

میرے کچھ دوست اس بات پر شدید چراغ پا ہیں کہ لیڈی ڈاکٹرز کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا۔ گویا، اگر صرف لیڈیز ہوتیں یا کسی اور محکمے کی ملازمیں ہوتیں تو کوئی مضائقہ نہیں تھا ؟ ہاں یہ بات زیادہ وزنی لگتی ہے کہ کیا مملکتِ خدا داد میں ٖڈاکٹر اور مریض کا تناسب اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب ڈاکٹروں کو وسیع تر قومی مفاد میں غیر ملکی مہمانوں کی دل پشوری کیلئے استعمال کیا جائے گا؟ یہ گمان کرنا کہ ناچیز کو برہمنوں کی دور اندیشی پر بالشت بھر بھی شک ہے، شدید زیادتی ہوگی۔ آخر کار چھ مہینوں میں بارہ مسالوں سے تیار ہونے والے برہمن اور کئی سالوں میں تیار کیے جانے والے شودروں کی سوچ میں کچھ تو فرق ہوگا نا ۔
میں تو اپنی ناچیز عقل کے مطابق فقط چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آئندہ ایسی صورتحال پیش نہ آئے۔
تجویز نمبر ایک: سب سے پہلے تو قانون سازی کی جائے کہ آئندہ صرف خوش شکل خواتین ہی میڈیکل کالجز میں داخلے کیلیے اپلائی کریں تاکہ اس قسم کے چھاپوں اور حُسن پریڈ کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

تجویز نمبر دو: چونکہ مملکتِ خداداد میں ہر فرد تک سائنسی طریقہ علاج اور ڈاکٹر تک رسائی ممکن ہوگئی ہے اس لیے سب سے پہلے تو اس رپورٹ کو ردی میں پھینکا جائے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اَسی فیصد سے زیادہ آبادی غیر سائنسی طریقہِ علاج کرانے پر مجور ہے اورٖ ڈاکڑ اور مریض کا تناسب بھی 1:1225 ہونا جھوٹ اور یہودی سازش پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکارِ با تدبیر نے بجائے نئے ہسپتالوں کی تعمیر کے جس سے لازماً پوسٹ گریجویٹس کی ٹریننگ کے مواقع بھی پیدا ہوتے سی آیی پی CIP کو متعارف کرادیا۔ خدشہ یہ تھا کہ کہیں کنسلٹنٹس اور مریضوں کا تناسب 1:1 نہ ہو جائے اور چند سالوں بعد ڈاکٹرز مریضوں کیلیے لڑتے ہوئے ایک دوسرے کے سر نہ پھاڑ دیں۔
تجویز نمبر تین: اگر تجویز نمبر دو سمجھ میں آجائے اور ایمان کا حصہ بن جائے تو یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہوگی کہ مملکتِ خداداد میں عملی طور پر ڈاکٹروں کی ضرورت ہی نہیں اور انھیں تقریبات میں سجاوٹ کیلیے استعمال کرنا ہی واحد مصرف رہ جاتا ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی قانون سازی (کہ صرف خوش شکل خواتین کو داخلہ دیا جائے) کے بعد UHS کو پابند کیا جائے کہ وہ کورسز میں سےغیر ضروری مضامین جیسے میڈیسن ، سرجری ، گائینی نکال کر کیٹ واک، فیشن اور آشرنگ کے کورسز کرائے جائیں۔
امید ہے کہ ظلِ فرنگی میری ان گزارشات کو مقتدر ایوانوں تک پہنچائیں گے اور اس پرٖ ٖفوری عمل درآمد کرا کر قوم کا نام ہزار والٹ کے بلب کی طرح جگمگ جگمگ روشن کریں گے۔
مزید برآں میں ظلِ فرنگی کی وساطت سے “شودروں” سے یہ ارشاد کروں گا ( لفظ گزارش صرف برہمنوں کیلیے ہے) کہ ابھی آپ نے مزید ذلیل ہونا ہےکیونکہ کچھ بعید نہیں کہ چند برسوں بعد آپ کو وسیع تر قومی مفاد میں “بھل صفائی” مہم میں بھی استعمال کیا جائے، تو یہ”کریم آف نیشن” اور “عزت دی جائے” کا کاسہ لیے مت پھریں۔ ہمت ہے تو پوری اور بڑی لڑائی لڑیں نہیں تو کان لپیٹ کر سہتے رہیں جو کچھ لادا جا رہا ہے۔
آخر میں میں ظلِ فرنگی کی شانِ اقدس میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ میرا ایک ناہنجار دوست ہے، باغیانہ خیالات کا حامل ، کل رات دو بجے مجھے فون کر کےکہہ رہا تھا کہ۔
“اس برہمن میں سے بارہ مسالے نکال دیے جایئں تو یہ ساری کارروائی گلی کے اوباش لونڈے کا سٹنٹ ہی رہ جاتا ہے جس کی دیرینہ خواہش ہوتی کہ کسی طرح گرلز ہاسٹل کے اندر پہنچ کے اپنی آنکھیں سینک سکے۔ اور تمام شودر یہ یاد رکھیں کہ آیندہ کوئی ریاستی امور کے نام پر اپنے اختیارات اور اوقات دونوں سے باہر نکل جائے تو ایک منٹ کیلیے یہ بھول جائیں کہ یہ بارہ مسالوں والا برہمن ہے یا ہسپتال کا ایڈمن اور اس کا وہ حشر کریں جو چھیڑ چھاڑ کرنے والے اوباش لونڈوں کا کیا جاتا ہے۔ یہ وہی ملک ہے جہاں سن 69 ء میں کراچی کی ایک سڑک پر ایک خاتون یونین لیڈر نےاحتجاج کے دوران کمشنر کو دن کی روشنی میں زناٹے دار تھپڑ مار کر تارے دکھا دیے تھے۔”
حضور! دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کیا یہ خیالات کسی با ضمیر قوم کو ججچتے ہیں؟ آپ نے بحالتِ شدید مجبوری چند نوجوان خواتین کو ہراساں کیا اور وہ بھی وسیع تر قومی مفاد میں۔ کیا اب اس پر یہ ہڑبونگ جائز ہے؟ آپ سے درخواست ہے کہ اس بابت بھی کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ اس اشتعال انگیز بیان میں آپکے ساتھ ساتھ “سی بیک” کے خلاف بھی سازش کی بو آرہی ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker