پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کے لیے حکومت مخالف گروہ کے امیدوار اور سابق سپیکر اسمبلی میر عبدالقدوس کے مقابلے میں کسی کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع نہ کروائے جانے کی صورت میں ان کا اس عہدے پر انتخاب یقینی ہوگیا ہے۔
جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بلامقابلہ انتخاب کے بعد وہ شام کو گورنر ہاؤس میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
سنہ 2002 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ سیاسی منظر پر نمودار ہونے کے بعد یہ دوسری بار ہوگا کہ وہ اپنی پارٹی کی اندرونی بغاوت کی قیادت کے باعث وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔
وہ پہلی مرتبہ سنہ 2018 میں بغاوت کی قیادت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بنے تھے جبکہ اس بار انھوں نے اپنی ہی پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے خلاف بغاوت کی قیادت کی۔ دونوں سیاسی بغاوتوں میں انھیں بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی معاونت حاصل رہی۔
فیس بک کمینٹ

