عبدالرشید شکورکالمکھیللکھاری

عبدالرشید شکورکا کالم:باڈی لائن: وہ ڈرامہ سر ڈان بریڈمین کو ناکام کرنے کے لیے رچایا گیا

یہ 2 دسمبر 1932 کی بات ہے۔
آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان روایتی ایشیز سیریز کے پہلے ٹیسٹ کا پہلا دن ختم ہوا تو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں موجود صحافی ایڈورڈ ہیو بگی نے پہلے دن کی رپورٹ اپنے اخبار میلبرن ہیرلڈ کو بھیجی جس میں انھوں نے لفظ ’باڈی ۔۔ لائن‘ استعمال کیا۔
اخبار کے سب ایڈیٹر رے رابنسن نے اس رپورٹ میں موجود ’۔۔‘ کو ہٹاکراسے ایک لفظ ’باڈی لائن‘ کر دیا۔
اس وقت کسی کو بھی اندازہ نہ تھا کہ لفظ ’باڈی لائن‘ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے مشہور لفظ بن جائے گا جسے اس جنٹلمینز گیم میں ایک منفی حوالے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
اس باڈی لائن کے بارے میں آنے والے برسوں میں فلم بنی، ڈرامہ بنا اور متعدد کتابیں لکھی گئیں۔
باڈی لائن بولنگ آخر کیا تھی؟
باڈی لائن دراصل بولنگ کی وہ تکنیک تھی جسے انگلینڈ کے بولرز نے آسٹریلوی بیٹسمینوں خصوصاً سر ڈان بریڈمین کو ناکام بنانے کے لیے استعمال کیا جو رنز بنانے کے معاملے میں انگلینڈ والوں کے اعصاب پر سوار ہوچکے تھے۔
باڈی لائن میں بولرز پانچ یا چھ فیلڈرز لیگ سائیڈ پر کھڑے کر کے بیٹسمین کو لیگ سٹمپ پر شارٹ پچڈ گیندیں کرتے تھے تاکہ وہ کھیلنے پر مجبور ہوکر لیگ سائیڈ پر کھڑے فیلڈرز کو کیچ دے سکیں۔
لیکن اس طرح کی بولنگ پر بیٹسمین کے زخمی ہونے کا خطرہ بہت زیادہ موجود تھا اور اس سیریز میں بلے باز اپنے جسم بچاتے نظر آئے اور متعدد بار انھیں زخم بھی سہنے پڑے۔
اگرچہ اس بولنگ کا ہدف سر ڈان بریڈمین تھے لیکن دوسرے آسٹریلوی بیٹسمین بھی اس کے شکنجے میں جکڑے گئے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب لیگ سائیڈ پر مخصوص تعداد میں فیلڈرز کھڑے رکھنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔
اس انداز کو ’لیگ تھیوری‘ کے نام سے پہلے بھی پہچانا جاتا تھا لیکن 33-1932 میں آسٹریلوی دورے میں اسے زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا اور چونکہ اس کی وجہ سے بیٹسمین بھی زخمی ہوئے اس لیے یہ سیریز باڈی لائن کے نام سے متنازع حیثیت اختیار کرگئی۔
باڈی لائن کا منصوبہ کیسے بنا؟
اگست 1932 میں ناٹنگھم شائر اور سرے کے درمیان کاؤنٹی میچ کے موقع پر لندن کے پیکاڈلی ہوٹل میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان ڈگلس جارڈین، فاسٹ بولر ہیرلڈ لارووڈ، بل ووس اور ناٹنگھم شائر کے کپتان آرتھر کار کے ساتھ ڈنر کررہے تھے۔
اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد گفتگو کا موضوع سر ڈان بریڈمین کی طرف منتقل ہوگیا۔
جارڈین نے جو آسٹریلیا جانے والی انگلینڈ کی ٹیم کے کپتان مقرر کردیے گئے تھے اس موقع پر اپنی تھیوری پیش کی کہ آسٹریلوی بیٹسمین خصوصاً سرڈان بریڈمین لیگ اسٹمپ پر کی گئی تیز شارٹ پچڈ بولنگ پر زیادہ مضبوط نہیں ہیں لہٰذا اگر اس طرح کی بولنگ کی جائے تو انھیں بڑے سکور سے روکا جاسکتا ہے۔
لارووڈ اور بل ُووس لیگ تھیوری پر عمل کرتے ہوئے کاؤنٹی کرکٹ میں کامیاب رہے تھے لیکن جارڈین اس سے بھی زیادہ کردکھانے کے لیے بے چین تھے۔
سر ڈان بریڈمین کی کارکردگی متاثر
آسٹریلوی ٹیم نے سنہ 1930 میں انگلینڈ کا دورہ کیا تو سرڈان بریڈمین اپنے عروج پر تھے۔
اُس سیریز میں ان کے بنائے گئے 974 رنز کا ریکارڈ آج تک کوئی بھی نہیں توڑ سکا ہے۔ سیریز کے پانچ ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے ایک ٹرپل سنچری (334) دو ڈبل سنچریاں (254 اور 232) اور ایک سنچری (131) سکور کی تھی۔
انگلینڈ کے اُس دورے میں سر ڈان بریڈمین کے بارے میں انگلینڈ کے ایک کرکٹر پرسی فینڈر نے یہ بات بھی نوٹ کی تھی کہ وہ تیزی سے آنے والی شارٹ پچڈ گیندوں پر اعتماد سے نہیں کھیل پا رہے تھے اور جب ڈگلس جارڈین نے اوول ٹیسٹ کی فوٹیج دیکھی تو وہ خوشی سے چلا ُاٹھے جیسے انھیں کوئی خزانہ مل گیا ہو۔
اس دوران دیگر ذرائع سے بھی معلومات اکٹھی کی گئیں کہ کہاں کہاں اور کس کس میچ میں سرڈان بریڈمین لیگ اسٹمپ پر شارٹ پچڈ گیندوں پر مشکلات میں دکھائی دیے تھے۔
سنہ 1932 کے اوآخر میں جب انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا پہنچی تو سرڈان بریڈمین کا اپنے کرکٹ بورڈ سے تنازع چل رہا تھا جو انھیں اس بات کی اجازت دینے کے لیے تیار نہ تھا کہ وہ کھیلنے کے ساتھ ساتھ اخبار کے لیے لکھتے بھی رہیں، جن کے ساتھ ان کا معاہدہ تھا۔
اس دوران سر ڈان بریڈمین بیمار ہوگئے اور پہلا ٹیسٹ نہ کھیل سکے جس کے بارے میں فاسٹ بولر ہیرلڈ لارووڈ نے دعویٰ کیا کہ بریڈمین کو نروس بریک ڈاؤن ہوگیا تھا۔
سر ڈان بریڈمین کی دوسرے ٹیسٹ میں واپسی ہوئی لیکن پہلی اننگز میں وہ پہلی ہی گیند پر بل ووس کی گیند پر بولڈ ہو گئے تاہم دوسری اننگز میں انھوں نے اپنی کلاس دکھائی اور سنچری اسکور کی۔ اس کے بعد لارووڈ اور بریڈمین میں جیسے آنکھ مچولی شروع ہوگئی۔
لارووڈ نے تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بریڈمین کو صرف آٹھ رنز پر آؤٹ کردیا۔
چوتھے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بریڈمین 76 رنز بناکر لارووڈ کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ دوسری اننگز میں انھوں نے 24 رنز بنائے تھے کہ لارووڈ انھیں آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
آخری ٹیسٹ میں بریڈمین ایک بار پھر لارووڈ کی گیند پر بولڈ ہوئے اس بار انھوں نے 48 رنز بنائے اس طرح اس سیریز میں لارووڈ چار مرتبہ بریڈمین کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس سیریز میں اگرچہ بریڈمین نے ایک سنچری اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 396 رنز بنائے تھے لیکن رنز اور 57 ء 56 کی اوسط کے لحاظ سے یہ سرڈان بریڈمین کی سب سے کم اسکور والی سیریز تھی۔
ہیرلڈ لارووڈ کو اس بات پر ہمیشہ فخر رہا کہ وہ سرڈان بریڈمین کی بیٹنگ اوسط کو 112سے نیچے 99 تک لے آئے تھے۔
انھوں نے سیریز کے ایک سال بعد اپنے ایک انٹرویو میں یہ تسلیم کیا تھا کہ انھیں جو کچھ کہا گیا تھا انھوں نے وہی کیا۔ یہ منصوبے کے مطابق تھا۔
بیٹسمین زخمی کرنے پر بولر کی تعریف
اس سیریز میں باڈی لائن بولنگ کا آغاز اگرچہ پہلے ہی ٹیسٹ میں ہوگیا تھا اور کپتان جارڈین اور ان کے تیز بولرز کو تماشائیوں کے شدید ردعمل کا اندازہ ہوگیا تھا لیکن وہ اپنی روش تبدیل کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔
ایڈیلیڈ کا تیسرا ٹیسٹ باڈی لائن کا نقطۂ عروج تھا۔
میچ کے دوسرے دن لارووڈ کی ایک تیز گیند آسٹریلوی کپتان ِبل ووڈ ُفل کے سر پر لگی ان کے ہاتھ سے بیٹ گرا اور وہ لڑکھڑا گئے۔ تماشائی مشتعل ہوگئے تھے کہ اس دوران کپتان جارڈین نے لارووڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ویل بولڈ ہیرلڈ ʹ۔
ان کے اس فقرے کو سب نے واضح طور پر محسوس کیا تھا۔
اس روز کھیل کے اختتام پر انگلینڈ کے منیجر پیلہم وارنر آسٹریلوی ڈریسنگ روم میں گئے تاکہ ووڈ فل کی خیریت معلوم کرسکیں۔ اس موقع پر ووڈ فل نے ان سے کہا ʹاس وقت دو ٹیمیں ہیں، جن میں سے ایک کرکٹ کھیل رہی ہے اور دوسری نہیںʹ ۔
پیلہم وارنر مایوسی کے عالم میں واپس لوٹ گئے۔
دونوں کے درمیان ہونے والے یہ مکالمے میڈیا کی زینت بن گئے، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ گفتگو آسٹریلوی بیٹسمین جیک فنگلٹن نے میڈیا کو بتائی ہے جو اس زمانے میں صحافی بھی تھے جبکہ فنگلٹن نے اس کا ذمہ دار سرڈان بریڈمین کو قرار دیا لیکن بریڈمین نے بھی اس کی تردید کی۔
کئی سال بعد اس میچ کے بارہویں کھلاڑی ایل پی جے او برائن نے وزڈن کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ٹیم میں شامل اے ایف کائپیکس اور جے رائیڈر نے ڈریسنگ روم میں ہونے والی یہ گفتگو اخبارات کو بتائی تھی۔
ٹیسٹ میچ کے اگلے روز لارووڈ کی جارحیت کا نشانہ وکٹ کیپر برٹ اولڈ فیلڈ بنے جن کے سر پر گیند لگی۔ تماشائیوں کا غصہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔
نواب پٹودی سینئر باڈی لائن کے مخالف
ایسا نہیں ہے کہ پوری انگلینڈ کی ٹیم باڈی لائن بولنگ کے معاملے پر کپتان ڈگلس جارڈین کی ہم خیال تھی۔ دوسرے ٹیسٹ سے قبل جب جارڈین نے فاسٹ بولر گبی ایلن کو باڈی لائن بولنگ کی ہدایت کی تو انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔
انگلینڈ کی ٹیم میں شامل نواب پٹودی سینئیر بھی باڈی لائن بولنگ کے سخت مخالف تھے انھیں اس مخالفت کی بڑی قیمت چکانی پڑی کہ پہلے ٹیسٹ میں سنچری کے باوجود انھیں اگلے ٹیسٹ میچوں میں نہیں کھلایا گیا۔
جارڈین یہ سلوک گبی ایلن کے ساتھ روا نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ انھیں فاسٹ بولر کی ضرورت تھی۔
غور طلب بات یہ ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم کے منیجر پیلہم وارنر بھی باڈی لائن بولنگ کے بارے میں اپنے کپتان کی سوچ سے متفق نہیں تھے۔
دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ
آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے اپنے بیٹسمینوں کو لارووڈ اینڈ کمپنی کے ہاتھوں زخمی ہوتا دیکھ کر انگلینڈ کی ٹیم منیجمنٹ سے باڈی لائن بولنگ روکنے کا مطالبہ کردیا لیکن کوئی مثبت جواب نہ ملنے پر آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے ایم سی سی کو احتجاجی تار بھیجا، جس میں باڈی لائن بولنگ کو بیٹسمینوں کے لیے خطرہ اور سپورٹسمین شپ کے منافی قرار دیا گیا تھا لیکن ایم سی سی نے آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کا یہ اعتراض یکسر مسترد کردیا۔
دونوں کرکٹ بورڈ کے درمیان تار بھیجنے اور جواب کا سلسلہ جاری رہا۔
یہ صورتحال اس قدر خراب ہوگئی کہ برطانوی حکومت کو ایم سی سی سے یہ کہنا پڑا کہ وہ اینگلو آسٹریلین دوستی کو متاثر نہ کرے۔اسی دوران انگلینڈ کی ٹیم کے منیجر پیلہم وارنر نے بھی آسٹریلوی وزیراعظم جے اے لائنز سے رابطہ کیا کہ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے غیراسپورٹسمین بولنگ کی جو اصطلاح استعمال کی ہے وہ واپس لے لے، جس پر وزیراعظم کو اپنے کرکٹ بورڈ کو ہدایت دینی پڑی۔
مکھیوں کو تو اکیلا چھوڑدو
سڈنی میں سیریز کا آخری ٹیسٹ ایک دلچسپ واقعے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رہے گا، جب انگلینڈ کے کپتان جارڈین بیٹنگ کے لیے کریز پر آئے تو میدان میں مکمل خاموشی طاری تھی اس موقع پر ایک مکھی انھیں تنگ کررہی تھی، جسے وہ اپنے چہرے سے ہٹارہے تھے کہ مشہور سڈنی ِہل سے آواز گونجیʹ جارڈین ہماری مکھیوں کو تو اکیلا چھوڑدوʹ۔
یہ متنازع ٹیسٹ سیریز انگلینڈ نے چار ایک سے جیتی۔
اس سیریز کے ساتھ ہی ہیرلڈ لارووڈ کا ٹیسٹ کریئر بھی اختتام کو پہنچا اور کپتان جارڈین نے اگلی ایشیز سیریز میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیا جو 1934 میں کھیلی گئی تھی۔
فاسٹ بولر بل ووس نے 1934 میں آسٹریلیا کے خلاف ناٹنگھم شائر کی طرف سے ایک بار پھر باڈی لائن بولنگ کی جھلک دکھانی چاہی لیکن آسٹریلوی احتجاج کے بعد ناٹنگھم شائر کو انھیں میچ سے الگ کردینا پڑا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لارووڈ جس ملک یعنی آسٹریلیا کی ناراضی کا سبب بنے تھے 1947 میں انھوں نے اسی ملک میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر رہنے والے لارووڈ کو اب آسٹریلوی عوام احترام کی نظر سے دیکھنے لگے تھے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker