بی بی سیعبدالرشید شکورکھیللکھاری

عبدالرشید شکورکا کالم:پاکستان سپر لیگ کا سفر: سپاٹ فکسنگ، عدالتی معاملات اور بند فائل، مگر پھر سیٹی ایسی بجی کہ پی ایس ایل دلوں میں بس گئی

چار فروری 2016 کی رات دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں میڈیم فاسٹ بولر انور علی کی آسٹریلوی بیٹسمین شین واٹسن کو کرائی گئی گیند کو اس وقت محض ایک میچ کی پہلی گیند کے طور پر دیکھا گیا تھا لیکن درحقیقت اس گیند کے ساتھ ہی پاکستانی کرکٹ کا ایک نیا باب رقم ہو گیا تھا۔
یہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائٹڈ کے درمیان کھیلا گیا وہ میچ تھا جس کے ساتھ ہی پاکستان سپر لیگ کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔ اس وقت بھی چند ہی لوگ ایسے تھے جو اس لیگ کو اگلے سال اور پھر اس کے بھی اگلے سال ہونے کے بارے میں یقین رکھتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ پی ایس ایل پاکستانی کرکٹ کا مستقل حصہ بن گئی بلکہ بقول شخصےʹسیٹی ایسی بجی کہ یہ لیگ شائقین کے دلوں میں رچ بس گئی۔‘
بند فائل کیسے کھلی؟
پاکستان سپر لیگ کا ذکر پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان سپر لیگ کے سابق سربراہ نجم سیٹھی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت یہ انھی کی کوششیں تھیں جس نے اس ایونٹ کو حقیقت کا روپ دیا۔
نجم سیٹھی بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’جب میں پاکستان کرکٹ بورڈ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ پاکستان سپر لیگ کی فائل بند کر دی گئی تھی۔ مجھ سے پہلے جو لوگ تھے ان سے یہ غلطی ہو گئی تھی کہ وہ یہ سوچ کر رہ جاتے تھے کہ یہ لیگ پاکستان میں کیسے کرائی جائے جبکہ اس وقت کوئی بھی ٹیم پاکستان آنے کے لیے تیار نہیں تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ان لوگوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ لیگ متحدہ عرب امارات میں بھی ہو سکتی تھی کیونکہ اب دنیا میں نشریاتی حقوق بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ لوگ سٹیڈیم سے زیادہ ٹی وی پر میچز دیکھتے ہیں۔ میرے ذہن میں یہی بات تھی کہ پہلے اس لیگ کو متحدہ عرب امارات میں شروع کیا جائے اور پھر آہستہ آہستہ اسے پاکستان میں لایا جائے۔‘
نجم سیٹھی کہتے ہیں ’مجھ سے پہلے کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے لیے بھاری معاوضوں پر غیرملکی کنسلٹنٹس کی خدمات بھی حاصل کر رکھی تھیں، میں جب بورڈ میں آیا تو پتہ چلا کہ ان کی ادائیگیاں بھی رُکی ہوئی تھیں جو میں نے ادا کروائیں۔‘
نجم سیٹھی کہتے ہیں ʹنہ صرف باہر کے لوگوں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی اس وقت یہی تاثر عام تھا کہ ہم لوگ پاکستان سپر لیگ کا انتظامی تجربہ نہیں رکھتے اور اس کا فنانشل ماڈل بھی ٹھیک نہیں ہے اور اس کے انعقاد سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بہت مالی نقصان ہو گا، یہاں تک کہ سابق چیئرمین شہریارخان بھی اس بارے میں یہی رائے رکھتے تھے۔‘
’انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر آپ یہ ذمہ داری لے سکتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر ناکام ہو گئے تو یہ آپ کی ناکامی ہو گی اور کامیاب ہو گئے تو یہ آپ کی جیت ہو گی۔‘
لیگ کے معاملات عدالت میں
پاکستان سپر لیگ کو اپنے سفر کے دوران مختلف نوعیت کی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ اس دوران فرنچائز مالکان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان مالی معاملات پر اختلافات عدالت تک بھی جا پہنچے تھے تاہم عدالت کے باہر ان معاملات کو نمٹایا گیا۔ فرنچائز مالکان کو اکثر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمینوں کے سخت رویے کی شکایتیں بھی رہیں۔
گذشتہ سال جب پی ایس ایل ملتوی ہوئی تو اس کا ذمہ دار دونوں فریقین ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے تھے۔ لیگ کے ملتوی ہونے پر فرنچائز مالکان کا کہنا تھا کہ ان کی ساری کمائی چلی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل سے پیسہ بنا رہا ہے جبکہ فرنچائزر نقصان پہ نقصان کیے جا رہی ہیں۔
ان فرنچائز مالکان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس لیگ کے سات پارٹنرز ہیں۔ چھ رو رہے ہیں جبکہ ساتواں مزے کر رہا ہے۔
اس سال بھی لیگ شروع ہونے سے قبل نشریاتی حقوق کا معاملہ عدالت میں تھا۔
سپاٹ فکسنگ سکینڈل
سنہ 2017 میں پاکستان سپر لیگ کا دوسرا ٹورنامنٹ ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ اطلاع دی گئی کہ دو کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کے مبینہ بک میکر یوسف کے ساتھ روابط ہیں اور یہ دونوں کرکٹرز پہلے ہی میچ میں اس کے اشارے پر کام کرنے والے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی پریشان کُن تھی کہ انھیں افتتاحی میچ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا گیا تاہم میچ اپنے معمول کے مطابق ہوا اور پھر اس دونوں کرکٹرز کے گرد شکنجہ کسا گیا۔
خالد لطیف پر پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی جبکہ شرجیل خان پر بھی پانچ سالہ پابندی عائد کی گئی تھی جن میں سے ڈھائی سال معطل سزا کے تھے۔ شرجیل خان سزا مکمل ہونے کے بعد دوبارہ کرکٹ میں آ چکے ہیں۔
اس سکینڈل کے مرکزی کردار سابق ٹیسٹ کرکٹر ناصر جمشید تھے جنھیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے انٹی کرپشن ٹریبونل نے دس سال کی پابندی کی سزا سُنائی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان تینوں کرکٹرز کے علاوہ فاسٹ بولر محمد عرفان اور بیٹسمین شاہ زیب حسن کے خلاف بھی کارروائی کی تھی یہ دونوں کھلاڑی بک میکرز سے مبینہ رابطے اور بورڈ کو اطلاع نہ دینے پر جرمانے اور پابندی کی زد میں آئے تھے۔
کووڈ اس بار بھی سب سے بڑا خطرہ
پاکستان سپر لیگ کو اس بار بھی سب سے بڑا خطرہ کووڈ سے لاحق ہے۔ گذشتہ دو پی ایس ایل ٹورنامنٹس کووڈ سے متاثر ہوئے تھے۔
مارچ 2020 میں پی ایس ایل 5 جاری تھی کہ کووڈ کے وار کے سبب اس کے بقیہ میچوں کو تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ ہوا اور پھر اسے ملتوی کرنا پڑا۔ لیگ کے ملتوی شدہ یہ آخری پانچ میچز اسی سال نومبر میں کرائے گئے تھے۔
گذشتہ سال بھی کووڈ نے لیگ پر اپنا اثر دکھایا تھا۔ مارچ میں لیگ کو ملتوی کرنا پڑا تھا جسے جون میں کراچی میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن حالات نے اس کی اجازت نہ دی اور اس لیگ کے ملتوی شدہ میچوں کو ابوظہبی لے جایا گیا۔
اس بار بھی حالات اچھے نہیں ہیں۔ ایونٹ شروع ہونے سے قبل ہی تین کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف کے چند ارکان کووڈ میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جس ہوٹل میں پی ایس ایل کی ٹیمیں قیام پذیر ہیں وہاں کے سٹاف میں بھی کورونا پایا گیا جنھیں قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور پی ایس ایل 7 کے ڈائریکٹر سلمان نصیر تسلیم کرتے ہیں کہ کھلاڑیوں کی صحت اور حفاظت ہماری اولین ترجیح رہی ہے۔
سلمان نصیر کہتے ہیں کہ ’چونکہ اس وقت کووڈ کے کیسز کی تعداد ملک میں بڑھتی جا رہی ہے اسی لیے ہم نے پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور سخت اقدامات سے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ’دی شو ول گو آن‘۔ ہرحال میں کرکٹ ہو گی اور ہم تو کھیلیں گے۔ اسی کے مدنظر ہم نے پلاننگ کی ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’جو بھی تیاری ممکن ہو سکتی تھی وہ ہم نے کی ہے۔ ہر صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور ہم نے ایک سے زائد بیک اپ پلان تیار کر کے رکھ لیے ہیں۔ ہم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ اگر شیڈول کے دوران کووڈ کی وجہ سے رکاوٹ آتی ہے تو ہم سات دن تک ایونٹ کو روک کر بائیو سکیور ببل کو ری سیٹ کریں گے اور ایونٹ دوبارہ شروع کر دیں گے تاکہ اسی ِونڈو میں لیگ کو ختم کر سکیں۔‘
سلمان نصیر کے مطابق ’فرنچائز ٹیموں اور کھلاڑیوں کو پروٹوکولز کے بارے میں میں مکمل طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے، اس بار کراچی میں پورا ہوٹل ُبک ہوا ہے۔ کرکٹرز اور پروڈکشن یونٹ حتیٰ کہ پی سی بی سٹاف کا بھی ریزرو پول رکھا ہوا ہے تاکہ ایونٹ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
نئے ٹیلنٹ کا مؤثر پلیٹ فارم
پاکستان سپر لیگ صرف ایک ایونٹ ہی نہیں بلکہ نوجوان کرکٹرز کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بھی مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔
اس لیگ میں ہر سال باصلاحیت نوجوان کرکٹرز سامنے آئے ہیں جن میں رومان رئیس، حسن علی، حسین طلعت، حسان خان، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی، عمرخان، شاہنواز دھانی، محمد وسیم جونیئر اور ارشد اقبال کے نام قابل ذکر ہیں۔
فاسٹ بولر حسن علی بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹکئی دوسرے لڑکوں کی طرح میں نے بھی گلی محلے اور گھر کی چھت پر کرکٹ شروع کی اور جب تھوڑی بہت سمجھ آ رہی تھی تو اپنے لیجنڈز وسیم اکرم، وقار یونس اور انضمام الحق کو دیکھ کر یہ شوق بڑھتا گیا۔‘
حسن علی کو وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے کہ جب پشاور زلمی نے انھیں ایمرجنگ کیٹگری میں منتخب کیا تھا اور پھر پاکستانی ٹیم میں ان کا بلاوا آیا تو وہ کانپ رہے تھے اور آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے کہ اسی لمحے کا وہ شدت سے انتظار کر رہے تھے۔
حسن علی کہتے ہیں ʹپاکستان سپر لیگ نے میرے کریئر میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے سے قبل اسی لیول کی کرکٹ کھیل چکا تھا۔ مجھے پی ایس ایل میں ایکسپوژر مل چکا تھا لہذا مجھ پر اُس طرح کا دباؤ نہیں تھا۔ آپ کو پی ایس ایل میں ہر سال کوئی نہ کوئی باصلاحیت کرکٹر ضرور ملتا ہے۔‘
حسن علی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ اگر پاکستان سپر لیگ نہ ہوتی تو ہمیں انٹرنیشنل کرکٹرز نہ ملتے۔
وہ کہتے ہیں ʹہماری ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کے ذریعے پہلے بھی ٹیلنٹ سامنے آتا رہا ہے البتہ پی ایس ایل کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ غیرملکی کرکٹرز کے ساتھ کھیلنے سے آپ کو انٹرنیشنل کرکٹ کے پریشر کو ہینڈل کرنا آ جاتا ہے اور آپ کے اعتماد میں اضافہ اور کارکردگی میں نکھار آ جاتا ہے۔‘
شاہین شاہ آفریدی کا بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے ’یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں سے پاکستان کی کرکٹ میں باصلاحیت کرکٹرز آئے ہیں۔ بڑے شہروں میں تو کرکٹرز کو سہولتیں میسر ہوتی ہیں لیکن دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کے باوجود کرکٹرز کا پاکستانی ٹیم میں آنا خوش آئند ہے۔‘
شاہین شاہ آفریدی اپنے بارے میں کہتے ہیں ʹایک نوجوان کرکٹر کی حیثیت سے مجھے جو موقع درکار تھا وہ لاہور قلندرز نے فراہم کیا حالانکہ میں اس سے قبل انڈر 19 اور فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکا تھا لیکن پاکستان سپر لیگ نے مجھے پرفارمنس دینے کا اچھا موقع دیا اور میری کارکردگی کو بہتر بنانے میں پی ایس ایل کا کردار اہم ہے۔‘
شاہنواز دھانی کا سفر بھی خاصا چیلنجنگ اور دلچسپ رہا ہے۔ بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ʹمیں اپنی کرکٹ کا سہرا ملتان سلطانز کے سر باندھتا ہوں جنھوں نے مجھے ایمرجنگ کیٹگری میں موقع دیا اور میری کارکردگی اتنی اچھی رہی کہ میں ٹورنامنٹ کا بہترین بولر بنا اور یہ کارکردگی مجھے پاکستانی ٹیم میں لے آئی۔‘
شاہنواز دھانی ان لمحات کو نہیں بھولتے جب وہ امرود کے باغ اور گندم اور چاول کی فصل میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتے تھے لیکن کرکٹ کا شوق بھی جنون کی حد تک موجود تھا۔ انھیں صرف ٹیپ بال کرکٹ کھیلنے کی اجازت تھی۔ ان کے والد انھیں تعلیم دلا کر سرکاری افسر کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے لیکن کرکٹ کا شوق غالب آ گیا اور آج شاہنواز دھانی بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
پلیئرز ڈیویلپمنٹ پروگرام
پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی فرنچائز ٹیموں کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی کہ وہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے بھی کام کریں گے۔ اس ضمن میں لاہور قلندرز دوسروں سے بہت آگے نکل گئی ہے جس نےاپنے پلیئرز ڈیویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے ملک کے دور دراز علاقوں سے بھی باصلاحیت کرکٹرز تلاش کیے اور انھیں ملک اور ملک سے باہر بھی کھیلنے کے مواقع فراہم کیے۔
لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر ثمین رانا بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹلاہور قلندرز نے صرف اس خیال کو پیش نظر نہیں رکھا کہ یہ صرف ایک ماہ کا ایونٹ ہے بلکہ اس نے شائقین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے پورے سال اپنی سرگرمیاں دکھائی ہیں۔‘
’ہم نے کرکٹ کے فروغ اور نوجوان نسل کی امیدوں کو برقرار رکھنے کے لیے کام کیا۔ ہمارے لیے قابل فخر لمحات تھے جب ہمارے دو کھلاڑی شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دو میچوں میں مین آف دی میچ رہے۔‘
ثمین رانا کہتے ہیں ʹجب ہم نے پلیئرز ڈیویلپمنٹ پروگرام شروع کیا تھا تو کچھ لوگوں نے اسے مارکیٹنگ قرار دیا تھا جو کچھ دیر چلنے کے بعد ختم ہو جائے گی لیکن ہمارے ذہنوں میں اس بارے میں واضح سوچ موجود تھی کہ ہم گراس روٹ سطح سے ٹیلنٹ سامنے لائیں گے۔‘
وہ کہتے ہیں ’ہم نے لاکھوں نوجوان کرکٹرز کے ٹرائلز لیے ان میں سے بہترین ٹیلنٹ کا انتخاب کر کے ان کے میچز کرائے گئے اور پھر ان کرکٹرز کو آسٹریلیا کھیلنے کے لیے بھی بھیجا۔ ہمارے متعدد کرکٹرز آسٹریلوی بگ بیش بھی کھیلے۔
بڑے نام آہستہ آہستہ غائب
ایک عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان سپر لیگ میں اب بڑے ناموں والے کرکٹرز شامل نہیں ہیں۔
ماضی میں کیون پیٹرسن، شین واٹسن، کرس گیل، کمار سنگاکارا، اے بی ڈی ویلیئرز، کائرن پولارڈ، آندرے رسل اور سنیل نارائن جیسے بڑے نام اس لیگ کا حصہ رہے ہیں لیکن اس سال قابل ذکر کرکٹرز میں افغانستان کے راشد خان اور انگلینڈ کے جیسن روئے شامل ہیں۔
راشد خان آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی عالمی رینکنگ میں اس وقت پانچویں نمبر پر ہیں۔ آئی سی سی کی آل راؤنڈرز کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر موجود افغانستان کے محمد نبی اور تیسرے نمبر کے کھلاڑی انگلینڈ کے لیئم ِلونگ سٹون بھی پی ایس ایل میں ایکشن میں نظر آئیں گے البتہ جیسن روئے پورے ٹورنامنٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔
انگلینڈ کے الیکس ہیلز 2019 کے بعد سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلے۔ اسی طرح نیوزی لینڈ کے کالن منرو بھی آخری بار انٹرنیشنل کرکٹ دو سال قبل کھیلے تھے۔
پاکستان سپر لیگ کے ڈائریکٹر سلمان نصیر کہتے ہیں ʹیہ لیگ اب عالمی برانڈ بن چکی ہے، یہ کھیل کے معیار اور مقبولیت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین لیگز میں سے ایک ہے۔ اس سال سپانسرز اور رائٹس ہولڈرز نے پچھلے برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دلچسپی ظاہر کی ہے اسی وجہ سے رائٹس ویلیو میں اس بار دو سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔‘
سلمان نصیر کہتے ہیں ʹانٹرنیشنل کرکٹ کا کیلنڈر بہت زیادہ مصروف ہو چکا ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کووڈ کی وجہ سے نہ صرف پاکستان سپر لیگ بلکہ پوری کرکٹ پر اس کا اثر پڑا ہے۔ کھلاڑیوں کو آئسولیشن میں وقت گزارنا پڑتا ہے، ان کی ذہنی صحت کا مسئلہ بھی رہتا ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس ایونٹ کے اصل ہیرو اور سٹارز ہمارے پاکستانی کرکٹرز ہی ہیں۔‘
لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر ثمین رانا کہتے ہیں ʹبڑے ناموں کی یقیناً اہمیت ہوتی ہے۔ ان سے آپ کا ایونٹ ضرور شروع ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ نوجوان ٹیلنٹ ہوتا ہے جو کسی بھی ایونٹ کی کامیابی میں دیرپا ثابت ہوتا ہے۔‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker