عبدالرشید شکورکھیللکھاری

عبدالرشید شکورکا کالم:پی ایس ایل 7: لاہور قلندرز کی خراب فیلڈنگ بھی پشاور زلمی کے کام نہ آ سکی، فخر زمان 66 رنز، زمان خان تین وکٹوں کے ساتھ نمایاں

پشاور زلمی کی ٹیم لاہور قلندرز کی خراب فیلڈنگ کے باوجود 200 رنز کے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکی اور اسے 29 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
لاہور قلندرز نے اس میچ میں ایک سٹمپ اور پانچ کیچز ڈراپ کیے۔ لاہور قلندرز کی یہ اپنے تیسرے میچ میں دوسری فتح ہے۔ پشاور زلمی تین میچوں میں یہ دوسری مرتبہ شکست سے دوچار ہوئی ہے۔
فخرزمان کی فارم کا کیا کہنا
فخرزمان اور عبداللہ شفیق پشاور زلمی کے بولنگ اٹیک کے سامنے جارحانہ موڈ میں نظر آئے ۔ عبداللہ شفیق نے عارش علی خان کے ایک اوور میں ایک چھکا اور دو چوکے لگائے تو دوسری جانب بھرپور فارم میں موجود فخرزمان نے بھی کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ انھوں نے عارش علی خان کے ایک اوور میں دو چوکے لگائے۔ شعیب ملک کا تجربہ بھی رنز کی رفتار پر قابو نہ پا سکا۔
فخر اور عبداللہ شفیق نے پاور پلے میں 61 رنز سکور کیے۔ یہ شراکت دس اوورز میں 94 رنز پر اس وقت ختم ہوئی جب عبداللہ شفیق تین چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 41 رنز بنا کر عثمان قادر کی گیند پر حضرت اللہ ززئی کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔
فخر زمان کی اننگز 13ویں اوور میں پشاور زلمی کے قابو میں آ گئی۔ وہ 66 رنز بنا کر حسین طلعت کی گیند پر بین کٹنگ کو کیچ دے گئے۔ 38 گیندوں کی اس اننگز میں تین چھکے اور چھ چوکے شامل تھے۔
فخر زمان اس پی ایس ایل میں سب سے زیادہ 248 رنز بنانےوالے بیٹسمین ہیں۔ شان مسعود 240 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ان دونوں جارحانہ مزاج کے بیٹسمینوں کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد حفیظ اور کامران غلام نے رنز کی رفتار کو معمول پر رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔
کامران غلام نے عارش علی خان کو ایک چھکے اور حسین طلعت کو لگاتار دو چوکے لگائے تو محمد حفیظ نے وہاب ریاض کو چوکا اور عثمان قادر کو ایک چھکا لگایا تاہم 45 رنز کی یہ شراکت کامران غلام کے 30 رنز پر سلمان ارشاد کی گیند پر آؤٹ ہونے پر ختم ہوئی۔
ڈیوڈ ویزا اسی اوور میں بغیر کوئی رن بنائے کامران اکمل کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔
امپائر علیم ڈار کے فیصلے پر انھوں نے ریویو لیا جس پر ٹی وی امپائر احسن رضا کا فیصلہ فیلڈ امپائر کے حق میں گیا جس پر ڈیوڈ ویزا واپس جاتے ہوئے اس فیصلے پر مطمئن دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
محمد حفیظ نے 19 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 37 رنز سکور کیے جس میں ایک چھکا اور تین چوکے شامل تھے۔
راشد خان نے صرف آٹھ گیندیں کھیلیں اور تین چھکے لگاتے ہوئے بائیس رنز بنائے۔ ان دونوں نے صرف چودہ گیندوں پر انتالیس رنز کا اضافہ کیا۔
فخر زمان کے آؤٹ ہونے کے بعد ایسا دکھائی دیتا تھا کہ لاہور قلندرز کی ٹیم بڑے سکور تک نہیں پہنچ پائے گی لیکن کامران غلام، محمد حفیظ اور راشد خان کی کوششوں کے نتیجے میں لاہور قلندرز کی ٹیم چار وکٹوں پر 199 رنز تک جا پہنچی۔
آخری پانچ اوورز میں 63 رنز بنے
پشاور زلمی کی بولنگ میں حسین طلعت تین اوورز میں انیس رنز کے عوض ایک وکٹ لے کر کفایتی ثابت ہوئے ۔سلمان ارشاد اگرچہ دو وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے لیکن ان کے چار اوورز میں سنتالیس رنز دیے۔
کپتان وہاب ریاض نے اپنے تین اوورز میں صرف سترہ رنز دیے تھے لیکن ان کے آخری اوور میں 16 رنز بن گئے۔
ڈراپ کیچز لیکن وکٹیں بھی
پشاور زلمی نے اننگز شروع کی تو سب کا یہی خیال تھا کہ حضرت اللہ ززئی اور کامران اکمل کی شکل میں جارحانہ انداز کے ان دو بیٹسمینوں کی جانب سے اٹیکنگ کرکٹ دیکھنے کو ملے گی یہ دونوں اس پی ایس ایل میں پہلی بار میدان میں اترے ہیں لیکن شاہین شاہ آفریدی نے پہلے ہی اوور میں حضرت اللہ ززئی کو صفر پر بولڈ کر دیا۔
کامران اکمل کیٹگری کی تبدیلی پر پشاور زلمی سے ناراض تھے لیکن وہ آج قلندرز کے بولرز پر غصہ اتارنے کے موڈ میں تھے تاہم زمان خان نے انھیں 41 رنز پر بولڈ کر دیا۔
ایک گیند پہلے زمان خان حسین طلعت کو فخر زمان کے کیچ کی مدد سے ڈگ آؤٹ میں بھیج چکے تھے۔ حسین طلعت 24 گیندیں کھیل کر صرف 15 رنز بنا پائے۔ وہ تین کیچز ڈراپ ہونے کا بھی فائدہ نہ اٹھا سکے۔
لاہور قلندرز کی فیلڈنگ انتہائی خراب رہی۔ حیدر علی کا کیچ چھ رنز پر ڈراپ ہوا اور بیس رنز پر وہ سٹمپ ہونے سے بھی بچے لیکن اس کے باوجود قلندرز کے بولرز وکٹیں بھی لیتے رہے۔
قلندرز نے ایک بڑی کامیابی شعیب ملک کی وکٹ کی صورت میں حاصل کی جو صرف سات رنز بنا کر راشد خان کی گیند پر حارث رؤف کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔
راشد خان نے چار اوورز کا اختتام 38 رنز پر ایک وکٹ کے ساتھ کیا حالانکہ ان کے پہلے ہی اوور میں 15 رنز بنے تھے۔
لستھ مالنگا کے انداز میں بولنگ کرنے والے زمان خان نے اننگز میں اپنی تیسری کامیابی ردرفرڈ کو 21 رنز پر بولڈ کر کے حاصل کی۔ پشاور زلمی کو آخری پانچ اوورز میں جیت کے لیے79 رنز درکار تھے۔
بین کٹنگ اور حیدر علی ٹیم کو منزل تک پہنچانے سے پہلے ہی بالترتیب 10 اور 49 رنز پر آوٹ ہو گئے۔
اننگز کے آخری اوور میں اس وقت دلچسپی پیدا ہوگئی جب ڈیوڈ ویزا نے لگاتار گیندوں پر وہاب ریاض اور عارش علی خان کو آؤٹ کر دیا۔
ہیٹ ٹرک بال پر سلمان ارشاد کو امپائر شوزیب رضا نے ایل بی ڈبلیو دے دیا جس پر سلمان ارشاد نے ریویو لے لیا جس پر ٹی وی امپائر احسن رضا کا فیصلہ بیٹسمین کے حق میں گیا اور یوں ڈیوڈ ویزا ہیٹ ٹرک نہ کر سکے۔
ٹی وی امپائر کے اس فیصلے پر لاہور قلندرز کی ٹیم کی حیرانی اور مایوسی دیکھنے کے قابل تھی۔
امپائر فیصل آفریدی کی معطلی
پی ایس ایل کے امپائرنگ پینل میں شامل فیصل آفریدی کو حفاظتی پروٹوکولز کی خلاف ورزی پر پانچ میچوں کے لیے معطل کردیا گیا ہے۔ ان پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ کووڈ میں مبتلا ہونے کے بعد وہ روم آئسولیشن میں تھے جہاں ان کا پہلا ٹیسٹ منفی آیا تھا لیکن وہ دوسرے ٹیسٹ کا انتظار کیے بغیر آئسولیشن سے باہر نکل گئے تھے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker