تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : بین الافغان مذاکرات اور امن معاہدہ کے امکانات

پاکستان کے لئے افغانستان کے حوالے سے یہ اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ طالبان کے ترجمان نے افغان حکومت کے نمائیندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی و اتحادی افواج کے انخلا کے بعد اگر افغانستان میں امن کی کوئی امید کی جاسکتی ہے تو اس کا راستہ بین الافغان مذاکرات سے ہوکر ہی گزرتا ہے۔ یہ بات بھی مستحسن ہے کہ مذاکرات کا از سر نو آغاز کرنے کا اشارہ پاکستان یا امریکی حکام کی بجائے طالبان کے ترجمان ذبیح المجاہد نے دیا ہے۔
نیوز ایجنسی رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے ذیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ’آنے والے دنوں میں امن مذاکرات میں سرعت دیکھنے میں آئے گی۔ توقع ہے کہ یہ مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہوں گے۔ فطری طور سے یہ مذاکرات افغانستان میں امن کے بارے میں ہوں گے۔ ممکنہ طور پر طرفین کو امن کے لئے تحریری تجاویز پیش کرنے میں ایک ماہ تک کا وقت لگ جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ طالبان ایک ماہ کے اندر امن کے لئے اپنی تحریری تجاویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ ہمیں عسکری لحاظ سے افغانستان میں برتری حاصل ہے لیکن ہم امن مذاکرات کے لئے بہت سنجیدہ ہیں۔ امریکہ اور افغان طالبان معاہدہ کے مطابق بین الافغان مذاکرات میں ہی ملک میں عبوری حکومت اور ممکنہ آئینی ڈھانچہ پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے دوحہ میں یہ مذاکرات تعطل کا شکار تھے اور افغانستان میں طالبان کی عسکری سرگرمیوں میں تیزی اور متعدد نئے اضلاع پر قبضہ کی خبریں مل رہی تھیں۔ ان حالات میں اتحادی افواج کے انخلا کے بعد جنگ زدہ ملک میں امن کا مستقبل مخدوش دکھائی دینے لگا تھا۔
افغانستان میں خانہ جنگی سے پاکستان براہ راست متاثر ہوگا۔ اندیشہ ہے کہ جنگ پھیلنے سے افغانستان سے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد جان و مال بچانے کے لئے پاکستان کا رخ کرے گی جو پہلے ہی تیس لاکھ افغان شہریوں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکومت کا اصرار ہے افغان پناہ گزینوں نے طویل عرصہ تک پاکستان میں قیام کیا ہے اور انہیں بھائیوں کی طرح احترام اور تحفظ فراہم کیا گیا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی سرحدی علاقوں میں ان کی موجودگی کی وجہ سے دہشت گرد عناصر بھی وہاں چھپ جاتے ہیں اور تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس کا تازہ ترین ثبوت 23 جون کی صبح جوہر ٹاؤن لاہور میں ہونے والے دھماکہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ دو روز قبل وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیاتھا کہ اس دہشت گردی کی منصوبہ بندی بھارت میں کی گئی تھی اور را سے تعلق رکھنے والا ایک بھارتی شہری اس میں ملوث تھا۔ لیکن پاکستان میں اس حملہ کی نگرانی کرنے والا پاکستان میں مقیم ایک افغان نژاد شخص تھا جس نے حملہ میں استعمال ہونے والی کار بھی فراہم کی اور اس میں بم کی تنصیب کا کام بھی سرانجام دیا ۔ جوہر ٹاؤن دہشت گردی کی تفصیلات بتاتے ہوئے معید یوسف کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغان پناہ گزین باوقار طریقے سے واپس چلے جائیں کیوں کہ ان کی صفوں میں دہشت گرد اور ناپسندیدہ عناصر بھی پناہ لیتے ہیں۔پاکستان کے مشیر برائے سلامتی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ملک کا وزیر داخلہ اور دیگر حکام پاکستان میں تخریب کاری کی بھارتی منصوبہ بندی اور دہشت گردی کی ’بین الاقوامی اسکیم‘ کے بارے میں متنبہ کررہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہمسایہ ملک پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کررہا ہے اور اس مقصد کے لئے بیرون ملک سے لوگوں کو رہا کرواکے پاکستان بھیجا گیا ہے اور انہیں دہشت گردی کے ٹاسک دیے گئے ہیں۔ یکم جولائی کو پارلیمانی لیڈروں کو علاقے کی سیکورٹی صورت حال کے بارے میں بریف کرتے ہوئے پاک فوج کی لیڈر شپ نے یہ اعتراف کیا تھا کہ ’افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان دراصل ایک ہی ہیں‘۔ یہ بیان اس
بات کا اشارہ تھا کہ اگر افغانستان میں طالبان کو عسکری برتری حاصل رہی اور وہاں انتقال اقتدار کے لئے کوئی امن معاہدہ نہ ہوسکا تو پاکستان ایک بار پھر طالبان کے نشانے پر ہوسکتا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ نگار افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور بین الافغان مذاکرات میں تعطل کی صورت میں خوں ریزی کے ایک نئے دور کا اندیشہ ظاہر کرتے رہے ہیں۔ پاکستان اس نئی افغان خانہ جنگی کا سب سے پہلے نشانہ بنے گا۔
اسی پس منظر میں ملک میں دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں کا سراغ لگانے کے لئے سرگرمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ وزیروں کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اور ایجنسیاں ملک دشمن سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ۔ وزیر داخلہ شیخ رشید اور مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے تخریب کاروں کا سراغ لگانے کے لئے اپنی استعداد میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ معید یوسف نے دو روز قبل ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ جوہر ٹاؤن دھماکہ کے بعد ملک کے نظام پر سینکڑوں منظم سائیبر حملے کئے گئے تھے تاکہ اس جرم میں ملوث عناصر بچ کر نکل جائیں۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی بہتر استعداد اور سائیبر وار فئیر کا مقابلہ کرنے کی اعلیٰ صلاحیت ہی کی وجہ سے پاکستانی حکام جوہر ٹاؤن دھماکہ کے اصل ذمہ داروں کی شناخت کرنےاور درجن بھر افراد کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
تخریب کاری کے اندیشوں کی روشنی میں حکومت اور فوج خاص طور سے بلوچستان کی صورت حال پر نگاہ رکھنے کی بات کررہی ہے۔ یہ صوبہ خاص طور سے افغانستان سے آنےوالے حملہ آوروں کے نشانے پر رہتا ہے۔ پاکستان کا خیال ہے کہ بھارتی ایجنسیاں افغانستان میں قوم پرست بلوچ عناصر کو پاکستان میں حملے کرنےاور امن و امان خراب کرنے کے لئے وسائل اور تربیت فراہم کرتی ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ روز وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کوئٹہ کے دورہ کےدوران ناراض بلوچ عناصر سے بات چیت کا عندیہ دیا تھا۔ آج وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا ہے کہ حکومت ناراض قوم پرست بلوچ عناصر کے ساتھ مذاکرات کی منصوبہ بندی کررہی ہے کیوں کہ حکومت بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتی ہے۔دوسری طرف پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بلوچستان میں حالات بہتر بنانے کے لئے صوبائی اور قومی قیادت کے منصوبہ کو کامیاب بنانے اور تمام ریاستی اداروں میں معاونت کے لئے کام کرنے کی بات کی ہے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں بلوچستان کے بارے میں ساتویں قومی ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی ترقی کے لئے بلوچستان میں امن و خوشحالی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے عوام دوست حکمت عملی کے ذریعے سماجی و معاشی ترقی کے لئے کام کرنا اہم ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ مسلح افواج بلوچستان میں امن و خوشحالی کے دشمنوں کو شکست دینے کے لئے پرعزم رہیں گی‘۔
ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے بلوچستان کو فوکس کرنے کا مقصد دہشت گردی کے امکانات کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ کاوشیں پاکستانی لیڈروں کی اس بے چینی کو بھی ظاہر کرتی ہیں جو انہیں افغانستان کی صورت حال کے بارے میں لاحق ہے۔ وزیر اعظم عمران خان متعدد مواقع پر بلوچستان میں امن کو پاکستان کی معاشی ترقی اور تجارتی فروغ کے لئے اہم قرار دے چکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے طالبان پر پاکستان کے سکڑتے ہوئے اثر و رسوخ کا بھی ذکر کیا تھا جو ان کے خیال میں امریکی افواج کے اچانک انخلا کی وجہ سے متاثر ہؤا تھا۔ اس تناظر میں افغانستان کے علاوہ پاکستان کے لئے بھی دوحہ مذاکرات کی کامیابی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ طالبان اور اشرف غنی کی حکومت کے درمیان امن معاہدہ ہی مستقبل قریب میں افغانستان میں امن کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک یہ واضح کرچکے ہیں کہ کابل پر طاقت سے قبضہ کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت قابل قبول نہیں ہوگی۔ پاکستانی قیادت کابل میں باہمی افہام و تفہیم سے عوام کی نمائیندہ حکومت چاہتی ہے اگرچہ پاکستان پر درپردہ افغان طالبان کی سرپرستی کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ تاہم پاکستانی لیڈر بھی اب یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی کوئی حکمت عملی اگر کامیاب ہو بھی گئی تو طاقت کے بل پر قائم ہونے والی طالبان حکومت میں افغانستان مکمل طور سے تنہا رہ جائے گا۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اس کی امداد بند کردیں گے اور اس پر متعدد اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی جاسکیں گی۔ یہ صورت حال پاکستان کے لئے ایک نئے درد سر کا سبب بنے گی۔ امریکی حکومت اس حوالے سے اپنی پوزیشن بار بار واضح کرچکی ہے۔ طالبان کے تازہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سنجیدہ مذاکرات میں ہی افغانستان کے مستقبل کا سیاسی روڈ میپ طے ہوسکتا ہے جو منصفانہ اور پائیدار تصفیہ کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ دنیا افغانستان میں طاقت کی بنیاد پر قائم حکومت کو قبول نہیں کرے گی۔ کسی بھی افغان حکومت کے لیے قانونی حیثیت اور امداد اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ حکومت انسانی حقوق کے احترام کی ضمانت دے‘۔اس پس منظر میں دوحہ سے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مواصلت و مفاہمت کی خبریں صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ پاکستان اور باقی ماندہ دنیا کے لئے بھی دلچسپی اور اہمیت کا سبب ہیں۔ پاکستان نے اگر اس مصالحت میں کردار ادا نہیں بھی کیا تو بھی اب اس کے پاس موقع ہے کہ وہ فریقین کو کسی بامقصد معاہدہ تک پہنچنے میں حوصلہ افزائی کرے۔ اسی طریقہ سے پاکستان ان اندیشوں اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرسکتا ہے جو موجودہ حالات میں اس کی سلامتی اور خوشحالی کو لاحق ہیں۔ کسی نئی افغان حکومت میں طالبان کی شمولیت تو نوشتہ دیوار ہے لیکن یہ اسی صورت ممکن ہوگا اگر طالبان بعض مسلمہ انسانی قدروں کی ضمانت فراہم کریں گے اور بطور خاص خواتین کو حاصل حقوق ختم کرنے پر اصرار نہیں کریں گے۔ ملک کی سیاست میں بامقصد کردار ادا کرنے کے لئے طالبان کو کچھ رعایات دینا ہوں گی۔ طالبان کے رویہ سے ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ وہاں امن کی کوئی صورت پیدا ہوتی ہے یا کسی نئی خانہ جنگی کا آغاز ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker