افسانےزعیم ارشدلکھاری

پریم دیوانی میرا درد نہ جانے کوئی ۔۔ زعیم ارشد

وہ ایک درمیانی عمر کی نہایت پروقار اور خوشحال نظر آنے والی خاتون تھی، جو دفتروں کی بغلی گلی میں ایک دیوار کا سہار ا لئے کھڑی تھی، اس کا سیل فون اس کے کان پر لگا تھا اور وہ مسلسل رو رہی تھی، وہ دوسری طرف موجود شخص کو مسلسل کچھ سمجھانا چاہ رہی تھی مگر الفاظ اس کے حلق میں جیسے پھنس سے گئے تھے اور بس ہچکیوں کی گھٹی گھٹی آواز اس کے منہ سے نکل رہی تھی۔ وہ ایک نہایت حسین دراز قامت اور جاذ ب نظر خاتون تھی۔ گلی کے نکڑ پر کھڑے کچھ ریڑھی بان حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے وہ یہ جانتے تھے کہ بی بی صاحبہ روز ایک بڑی سی گاڑی خود چلا کر قریب کے ایک دفتر میں آتی تھیں، آج انہیں کیا ہوا جو یہ یہاں ویرانے میں پریشان کھڑی ہیں۔ مگر وہ بس حیرت سے دیکھ سکتے تھے۔ کچھ کہنے سننے کی ہمت ان میں نہیں تھی۔
ملیحہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی، بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ والدین نے اپنے سارے بچوں کو نہایت محنت سے اعلی تعلیم دلوائی تھی۔ پورے خاندان میں تعلیم کے معاملے میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ وہ ایک زبردست طالبہ تھی کہ جس پر اسکول بھی فخر کیا کرتا تھا، فل اسکالرشپ لے لینا جیسے اس کا مستقل مشغلہ تھا۔ تعلیم کا میدان ہو یا کھیل کا میدان، مشاعروں کی محفل ہوں یا تقریری مقابلے یا پھر فکری مباحثے وہ ہر محفل کی جان ہوا کرتی تھی۔ بڑے بڑوں کو چت کردینا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔
وہ ایک دلنشیں خدوخال والی اعتماد سے بھرپور لڑکی تھی۔ اس کے بیضوی چہرے پر گالوں کی ابھری ہوئی ہڈیاں اس کے چہرے کی دلکشی میں چار چاند لگایا کرتی تھیں، اس کی کالی سیاہ آنکھیں اس کی شخصیت کو کچھ اور مسحور کن اور جاذب نظر بنا دیتی تھیں۔ وہ اپنے اسکول میں کسی سیلیبریٹی کی طرح مشہور تھی۔ لڑکے لڑکیاں اس سے دوستی کے شائق رہتے تھے۔ طبیعتاً نہایت سادہ اور ملنسار تھی تو ہر ایک سے دعا سلام اور ہلو ہائے رہتی تھی۔ اسکول کے دن جانے کب ختم ہوگئے۔ وہ کالج میں آ گئی زندگی اک نئی ڈگر پر چل پڑی۔ صارم سے اس کی ملاقات محض اتفاق ہی تھی وہ کالج کوریڈور میں لگی اسکالرشپ کی لسٹ میں اپنا نام دیکھ رہی تھی، وہ جلد ہی مطمئن ہوکر وہاں سے ہٹ گئی، مگر اس نے محسوس کیا کہ ایک پیارا سا مگر نہایت گھبرایا ہوا لڑکا اس سے بھی پہلے سے لسٹ میں کچھ تلاش کر رہا ہے۔ آخر اس نے خود ہی کہا کہ وہ اس کی کیا مدد کر سکتی ہے۔ صارم کو جیسے کرنٹ سا لگا، وہ چونک کر ملیحہ کو دیکھنے لگا۔ ملیحہ نے اپنا سوال دہرایا تو اس نے بتایا کہ اس کا نام صارم ہے جو اس لسٹ میں مل نہیں رہا۔ ملیحہ زور سے ہنسی اور کہا کہ جناب جب نام لسٹ میں ہوگا ہی نہیں تو ملے گا کیسے۔ آپ اس دوسری لسٹ میں دیکھیں شاید وہاں درج ہو۔ وہ سٹپٹا سا گیا اور ذ را ہٹ کر اس لسٹ میں اپنا نام تلاش کرنے لگا، ذ را دیر میں ہی اس نے اپنا نام پالیا، وہ جھٹ سے مڑا اور کہا کہ یہاں میرا نام تو درج ہے مگر مجھے اسکالرشپ نہیں ملی، ملیحہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرائی اور کہا کہ آپ کی پرسنٹیج اسکالرشپ کے حصول کی حد سے کم رہی ہوگی۔ وہ مایوسی سے باہر گراؤنڈ کی جانب دیکھنے لگا اور آہستہ سے بولا کہ ہاں ایسا ہی ہے۔
بریک میں کالج کی کینٹین طلباء و طالبات سے بھری ہوئی تھی سب اپنی اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھے ساتھ ساتھ کچھ کھا پی بھی رہے تھے پہلا شور اس وقت ہوا جب ملیحہ ہال میں داخل ہوئی تو اس کے گروپ کے طلباء نے بڑی گرمجوشی سے اس کا استقبال کیا، ابھی وہ بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ ایک بار پھر شور اٹھا اس بار شور میں شرارت بھی شامل تھی، لوگ ہلکے ہلکے فقرے بھی کس رہے تھے اس بار صارم ہال میں داخل ہوا تھا، نہایت ہینڈسم تھا مگر شدید ترین خوداعتمادی کی کمی کا شکار تھا اور لوگ اس کی خوب کلاس لیا کرتے تھے۔ جانے کیوں ملیحہ کو یہ اچھا نہ لگا، اور اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا، وہ جھٹ سے اسی طرف چلا آیا۔ ابھی تک اس کی ٹھیک سے کسی کے ساتھ دوستی بھی نہیں ہو سکی تھی یہ ایک نادر موقع تھا خود کو دیگر طلباء کے جملوں سے خود کو محفوظ رکھنے کا۔
یہ آج ان کی دوسری ملاقات تھی، اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا، اور آخر کار وہ کالج کے رومیو جیولیٹ مشہور ہو گئے، یہ سب کیسے ہوا ان دونوں کو یا شاید ملیحہ کو شروع شروع میں اس بات کا بالکل ادراک نہ تھا، وہ اپنی طبیعت کی نرمی کی وجہ سے اس کی مدد اور سپورٹ کردیا کرتی تھی، مگر اب آہستہ آہستہ اسے بھی صارم اچھا لگنے لگا تھا۔ وہ ایک اچھے اطوار والا شریف سا لڑکا تھا۔
ملیحہ نے جب ماسٹرز کیلئے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو صارم بھی ساتھ تھا، کیفیت اب بھی وہی تھی وہ صف اول کی طالبہ اور صارم ایک درمیانہ درجہ کا غیر معروف طالب علم۔ وہ دونوں اکثر لائیبریری میں بیٹھ کر مطالعہ کیا کرتے تھے، کہ ایک دن صارم نے ایک پرچی آہستہ سے اس کی کتاب میں پھنسا دی۔ اس نے نکال کر دیکھی تو اس پر لکھا تھا I LOVE YOU وہ سکتے میں آگئی، پہلی بار اسے اپنے لڑکی ہونے کا شدید احساس ہوا، اب جو اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو پایا کہ صارم ٹکٹکی باندھ کر اسے ہی دیکھ رہا ہے، جانے کہاں سے اس میں اتنی ہمت آگئی تھی کہ اس حرکت کے بعد نہ صرف وہ قریب بیٹھا تھا بلکہ پرشوق نظروں سے اسے دیکھ بھی رہا تھا۔ اتنی دیر میں ملیحہ اپنے حواس سنبھال چکی تھی، جھٹ سے کہا یہ کیا بیہودگی ہے، تو صارم نے تر کہ بہ ترکہ جواب دیا کہ یہ بیہودگی نہیں حقیقت ہے، جو میں تم سے کتنے سالوں سے کہنا چاہ رہا تھا۔
یونیورسٹی کی تعلیم بھی مکمل ہوگئی ملیحہ بہت ہی اعلی درجے پر پاس ہوگئی تھی اور صارم بمشکل پاس کر پایا تھا، ملیحہ کو فوراً ہی ایک ملٹی نیشنل کمپنی مین زبردست آفر ہوگئی اور وہ ایک اچھی پوزیشن سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے میں کامیاب ہوگئی جبکہ صارم ابھی نوکری کے حصول کی کوششوں میں ہی لگا ہوا تھا۔ اور سال بعد اسے ایک بالکل ہی بنیادی حیثیت کی آفر ہوئی جو اس نے قبول کرنے میں ہی عافیت جانی۔ ملیحہ اپنی زبردست محنت اور کارکردگی کی وجہ سے بہت تیزی سے ترقی کی طرف گامزن تھی اور صارم اتنی ہی سست روی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ ایک شام جب وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں کافی پی رہے تھے صارم نے کہا کہ اب انہیں شادی کرلینا چاہئے۔ اس بار بھی ملیحہ نے کوئی مزاحمت نہ کی اور کہا کہ اپنے گھر والوں کو ہمارے گھر بھیجو، صارم شہر کے ایک بڑے رئیس کا بیٹا تھا، لہذا جب رشتے کی بات کی گئی تو ملیحہ کے گھر والوں نے ہاں کرنے میں دیر نہ لگائی کیوں کہ وہ صارم کو گذشتہ کئی سالوں سے اچھی طرح جانتے تھے۔
بڑے دھوم دھام سے شادی ہوئی اور ملیحہ بیاہ کر صارم کے گھر آگئی، زندگی کے یہ دن بہت ہی حسین اور پرکیف تھے وہ دونوں اپنی دنیا میں مگن تھے اور ایک دوسرے کی موجودگی کو بہت انجوائے کرتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کا بڑا احترام بھی کرتے تھے اور پیار بھی، ملیحہ کی ترقی کو تو جیسے پر لگ چکے تھے وہ محض چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے ایک اعلی عہدے پر جا پہنچی تھی، عہدے کی مناسبت سے ملیحہ کو نئے ماڈل کی بڑی سی کار اور بہت ساری مراعات حاصل تھیں
وہ ہر سال صارم کو لے کر چھٹیاں گزارنے بیرون ملک جانے لگی، ہر دن خوشیوں سے بھرا اور ہر رات امنگوں سے بھرپور تھی۔ ایسے میں چند سال اور نکل گئے، شروع شروع میں تو صارم کے والدین نے کچھ نہ کہا مگر اب وہ آہستہ آہستہ پوتے پوتی کی بات کرنے لگے تھے۔ کچھ وقت کہتے سنتے اور گزر گیا اور پھر انہیں اپنے میڈیکل ٹیسٹ کرانے ہی پڑے، آج ان کی رپورٹس آئیں تھیں جن کے مطابق ملیحہ کبھی بھی ماں نہیں بن سکتی تھی۔ صارم کے علاوہ گھر کے ہر فرد کا رویہ بدل چکا تھا، ساس اب بالکل روایتی ساس کے روپ میں سامنے آچکی تھیں۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اسے مختلف طعنے دینے لگیں، وہ ایک بڑی افسر گھر میں عجیب بے وقعتی کا شکار ہو چکی تھی، اب جب کبھی وہ ان باتوں کا تذکرہ صارم سے کرتی تو وہ بھی جھنجھلا جاتا اور اپنی والدہ کی حمایت کرنے لگتا، ایک بے نام سی خلش اور ایک انجان سی خلیج ان دونوں کے درمیان حائل ہونے لگی تھی۔ وہ چاہ کر بھی ایک دوسرے سے پرانی والی خوش مذاقی قائم رکھنے میں ناکام ہوتے جا رہے تھے۔
اب ان کی شادی کو ایک اچھا بڑا عرصہ گزر چکا تھا کہ ملیحہ کو محسوس ہوا صارم اس سے کچھ زیادہ ہی لا تعلقی برتنے لگا ہے، کھوج لگانے پر معلوم ہوا کہ حضرت کسی لڑکی کے ساتھ چکر چلا رہے ہیں، جب ملیحہ کو یقین ہوگیا تو اس نے ایک روز صارم سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے تو وہ یک دم ہتھے سے ہی اکھڑ گیا، اس نے کہا کہ یہ میری زندگی ہے اور تم اس میں دخل اندازی کی بالکل حقدار نہیں ہو، ملیحہ نے کہا کہ میں تمہاری بیوی ہوں تم بھلا ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو، تو وہ مز ید سیخ پا ہوگیا اور تشدد پر اتر آیا۔ آج پہلی بار ملیحہ کو ان سب خبروں اور کہانیوں پر یقین آگیا تھا جس میں شوہر بیویوں پر جسمانی تشدد کیا کرتے تھے۔ ملیحہ پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی جب اس نے یہ ساری روداد اپنے ساس سسر کو سنائی تو بجائے انصاف دلانے کے وہ یکسر اپنے بیٹے کی طرفداری میں لگ گئے اور ملیحہ کو ہی مورد الزام اور خطاکار ٹھہرا دیا۔ وہ بہت اکیلا پن محسوس کر رہی تھی، بڑی بے بسی کی کیفیت سے گزر رہی تھی۔ اب ساس کو خوب کھل کر کھیلنے کا موقع ہاتھ آگیا تھا۔ وہ ملیحہ کو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی تھی، اسی دوران ایک دن ایک بہت ہی معمولی بات پر اس کی ساس نے اسے بہت برا بھلا کہا، جب اس نے صارم سے اس بات کی شکایت کی تو اس نے کہا کہ وہ اپنی ماں کیلئے ایک لفظ بھی نہیں سن سکتا۔ تو ملیحہ نے کہا کہ وہ بھی تو اس کی بیوی ہے، بس بات بڑھ کئی اور صارم نے آج ہاتھ اٹھانے کی حد ہی کردی، وہ مجبور ہو کر اپنے میکے آگئی۔
ملیحہ صارم سے بے انتہا پیار کرتی تھی اور اس کی خاطر کسی حد تک بھی جاسکتی تھی۔ اور آج وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ جو کچھ ہوا اسے بھول کر ہم پھر سے ایک خوشگوار زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ مگر صارم اس کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہ تھا، وہ تو بدگمانی کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔ وہ کسی صورت ملیحہ کو اپنے گھر لاکر بسانے کے حق میں نہ تھا، اب وہ روز اسے فون پر منانے کی کوشش کرتی تھی اور وہ نہایت بے رخی سے اسے جھڑک دیا کرتا تھا۔ آج صارم نے اسے اپنا آخری فیصلہ سنا دیا تھا کہ وہ اب اس کے ساتھ کسی صورت نہیں رہ سکتا اور وہ اس کے طلاق کے کاغذات بھیج رہا ہے۔ یہ لمحہ ملیحہ کے لئے قیامت سے کم نہ تھا ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker