افسانےعائشہ حنیفلکھاری

عائشہ حنیف کا افسانچہ : زحمت کون ؟

بیٹی تو رحمت ہوتی ہے پھر اس کو زحمت کیوں سمجھا جاتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟اس سوال کا اسے نہیں ملا ۔۔
یہ کہانی ایک ایسی عورت کی ہے جس کو اس وجہ سے گھر سے نکالا جاتا ہے کہ پانچویں بار بھی اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ۔۔ اس وجہ سے سکینہ کو پانچ بچیوں کے ساتھاس کے سسرال نے گھر سے نکال دیا تھا ۔ وہ روتی رہی منتیں کرتی رہی کہ اس میں اس کا کیا قصور ہے مگر یہ دنیا عورت کا قصور کہا ں دیکھتی ہے ؟ وہ تو بس بہانہ تلاش کرتی ہے
سکینہ پانچ بچیوں کے ہمراہ رات کے اندھیرے میں کسی ٹھکانے کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی ہوتی ہے پانچ بچیوں کا ساتھ اور رات کے اندھیرے میں بادلوں کی گرج چمک سے خوف ز دہ ہو کر چھوٹی معصوم بچیاں بار بار ماں کے پاس چھپنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔
ان کا قصور کیا تھا وہ تو دنیا میں آنے کے بعد در بدر ہوگئی تھیں نا باپ کی محبت ملی نا گھر کا آنگن۔ پھر ان کا بچپن مختلف گھروں کی ٹھوکریں کھاتے گزر گیا ۔باپ نے بیٹے کی خاطر دوسری شادی کر لی ۔ اکلوتا بیٹا تھا ماں باپ کے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا ۔ جیسے بڑا ہوتا گیا اس کی عادتیں بگڑتی گئیں اب تو وہ ماں باپ سے بدتمیزی کرنے لگا تھا بات بات پہ گالیاں دیتا گھر سے نکل جانے کا کہتا ۔ جس گھر سے بیوی اور بچیوں کو نکالا تھا اسی گھر سے ایک دن بیٹے نے اسے بھی نکال دیا ، اب اسے احساس ہوا کہ کیا کر دیا اس نے مگر اب کیا ہو سکتا تھا جب وقت ہی گزر گیا اب اس کی یہی سزا تھی کہ وہ بھی در در کی ٹھوکریں کھا کر اپنی زندگی کے باقی دن گزار دے ۔ اور یہ سوچے کہ زحمت بیٹی ہوتی ہے یا بیٹا ؟ شائد اسے کوئی جواب مل جائے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker