چند برس قبل اپنے انتہائی محترم دوستوں سے یہ گزارش کی تھی کہ مذہب پر چاہے اندر سے گفتگو کی جائے یا باہر سے۔۔۔ یعنی آپ مذہب پر ایک مذہبی ذہن کے ساتھ گفتگو کریں یا مذہب پر ایک آوٹ سائیڈر کی حیثیت سے۔۔۔۔ یہ بالاخر ایک دائروں کا کھیل بن جاتا ہے۔ آپ مذہب یا مذہبی متن پر ہونے والی گفتگو کا ذرا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیجئے۔ آپ نہ تو کوئی اعتراض نیا پائیں گے اور نہ کسی اعتراض کا جواب نیا ہوگا۔۔۔۔ صدیوں سے وہی اعتراض ہیں اور وہی ان کے جواب۔
کیا یہ معاملہ صرف اسلام کے ساتھ ہے؟ جی نہیں۔۔۔ دنیا بھر کے تمام مذاہب اسی طرح کے اعتراضات کا سامنا کرتے ہوئے آج یہاں تک پہنچے ہیں۔
مذہب پر گفتگو کوئی سائنسی گفتگو نہیں ہے کہ جس میں آپ اپنے سامنے موجود حقائق کا معروضی انداز میں جائزہ لیتے ہوئے کچھ تجربات کرنے کے بعد معروضی نتائج تک پہنچ جاتے ہیں۔ ( آپ کو یاد ہوگا کہ ایک صاحب مذہب پر ہونے والی گفتگو کے لیے امپیریکل ایویڈنس مانگ رہے تھے) یہ صدیوں پرانی داستانوں پر مبنی عقائد اور نظریات کا مطالعہ ہے۔ ان داستانوں کو دیکھنے کے ہزار ہا زاویے ہو سکتے ہیں اور نتیجے میں عقائد کی بے تحاشہ ڈائمنشنز تشکیل پا سکتی ہیں۔ مذہب چونکہ بنیادی طور پر ایک جذباتی مقدمہ ہے ( یہاں جذباتی سے مراد بے عقلی نہیں غیر عقلی ہے ) خدا کے ساتھ ہر فرد کا تعلق انتہائی ذاتی اور دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ اسی لیے اس کو فرد کے ذاتی تجربے کے حوالے سے دیکھا جاتا اور جانا چاہیے۔ اسی لیے مذہب کا مطالعہ بنیادی طور پر phenomenological مطالعہ ہے نہ کہ rational.
مذہبی لوگوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے سامنے پھیلے ہوئے مذہبی متون میں سے کس کو خدا کے ساتھ تعلق استوار کرنے کے لیے استعمال کریں اور کس کو رد کر دیں۔ فیصلہ سازی کا یہ سارا عمل rational نہیں بلکہ فرد کے تجربات کی تاریخ کی روشنی میں تشکیل پاتا ہے۔
ایڈورڈ سعید مرحوم نے مستشرقین کی جس کوشش کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس میں مستشرق کسی بھی مذہب پر اعتراض کرتے ہوئے اس متن کا انتخاب کرتا ہے کہ جو کمزور ہیں اور جس پر اس مذہب کے ماننے والا یقین نہیں رکھتا۔ اور بعض صورتوں میں حکومتوں اور پاور سینٹرز نے اپنی مرضی کے عقائد تشکیل دے کر ان کو بزور شمشیر منوایا اور بعد میں ان عقائد کے ماننے والوں کو انہی عقائد کے حوالے سے مطعون بھی کیا۔
قران پر زیر بحث اعتراضات نہ تو نئے ہیں اور نہ ان کے جواب نئے ہو سکتے ہیں۔ اور نہ یہ کوشش نئی ہے کہ مذہبی متن پر یقین رکھنے والے کودن، جاہل اور بے عقل لوگ ہیں۔
ایسی کوشش کو ایک خالص علمی کوشش مانا جا سکتا تھا اگر یہ خالص علمی حوالوں سے کوئی نئی کوشش ہوتی۔ اس میں بحث کی کوئی نئی جہتیں ہوتی اور اعتراض کے کچھ نئے پہلو۔۔۔۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اعتراض کے جن حوالوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے ان کو خود مسلمان مفسرین نے اپنے ہاں جگہ دی ہے۔ مختلف تفاسیر میں ایسے بے تحاشہ حوالے دیکھنے اور پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔
قران پر دو طرح کے اعتراضات بالعموم کیے جاتے رہے ہیں۔ ایک ظاہر ہے اس سارے عمل پر ہے کہ جس طرح مختلف آیات کو اکٹھا کر کے اس کو ایک کتاب کی شکل دی گئی۔ اور دوسرے اس کے متن اور اس کی اصابت پر۔
پہلا معاملہ تو بالکل تاریخی ہے۔ اس تاریخ کو مسلمانوں نے بھی لکھا ہے اور غیر مسلموں نے بھی اور اس میں ہر دو طرح کا استدلال موجود ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ اب آپ کس بات کو درست سمجھتے ہیں اور کس کو غلط۔ کوئی نہ آپ کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے اور نہ آپ پر اعتراض کر سکتا ہے۔
متن کے معاملے میں مذہبی علماء کا یہ مطالبہ بالکل بجا ہے کہ آپ کو اس زبان سے اس قدر واقفیت ہونی چاہیے کہ آپ اس متن کو سمجھ سکیں اور اس کے مختلف اسلوب سے وہ معنی نکالنے کے اہل ہوں جن پر آپ اعتراض کر رہے ہیں۔ یہاں پر مختلف متون کی کلیکشن کا نہیں بلکہ متن کی تفہیم کا ہے جس کے لیے عربی زبان پر گرفت از حد ضروری ہے۔
مذہب کا بنیادی مقدمہ خدا کے ساتھ انسان کے تعلق پر استوار ہوتا ہے جس کی بنیاد انسان کی جذباتی ضرورتوں پر رکھی جاتی ہے۔ یہ نہ تو کوئی معروضی مقدمہ ہے اور نہ اس پر دلیل Reason کا اطلاق ہوتا ہے۔ جس دلیل کو آج مذہب پر اعتراض کرنے والے اور ان کا دفاع کرنے والے استعمال کر رہے ہیں وہ عہد جدید Modernism میں حقیقت اور سچائی تک پہنچنے کے لیے استعمال ہونے والا واحد طریقہ تھا جس کو اب ما بعد جدیدیت نے ایک واحد طریقے کے طور پر رد کر دیا ہے۔ حادثہ یہ ہے کہ مذہب کی حمایت اور مخالفت کرنے والے دونوں اب اس reason کو استعمال کر رہے ہیں جو اب دنیا رد کر چکی ہے۔
مذہب اور خدا پر عقیدہ فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔یہ فرد کے ذاتی تجربات کی روشنی میں تشکیل پاتا ہے۔ مذہب پر عقیدہ یا مذہب کے خلاف نظریات، ان کے پس منظر میں آپ کو خالص ذاتی حوالے بہت آسانی سے دیکھنے کو مل جائیں گے۔ ہمارے ہاں مذہب پر ہونے والے تسلسل کے ساتھ اعتراضات کے پس منظر میں مذہبی طبقے کا وہ استبداد موجود ہے جس نے معاشرے کی فکری اور تہذیبی ترقی کو عشروں سے مفلوج کر رکھا ہے۔ اور تا دم تحریر اس سے نجات کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں مناسب بات کیا ہے؟ مذہب پر اعتراض؟ یا مذہبی طبقے اور پاور سینٹر کے تعاون سے معاشرے پر مسلط استبداد پر اعتراض؟
فیس بک کمینٹ

