تجزیے

پاکستان، ایرک فرام اور پروفیسر خالد سعید (قسط نمبر 1) ۔۔ ڈاکٹر اختر علی سید

علم کا ہر شعبہ اور اس میں ہونے والی تمام ترقی انسانی جدوجہد کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ انسانی ترقی کی تاریخ رات اور چراغ بنانے اور اسے جلائے رکھنے والے کے مابین موجود تعلق کو بیان کرنے کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ میں جہاں رات کی مستقل مزاجی کا قصہ بیان ہوتا ہے وہی سرشام چراغ روشن کرنے والوں کے نام بھی درج ہیں۔ نہ ہر روز رات کی واپسی رکی ہے اور نہ چراغ جلانے والے کسی دن چوکے ہیں۔ ان دیا روشن کرنے والوں نے ہر شام نہ صرف نئے دیے روشن کیے ہیں بلکہ ان کو ہوا سے بچا کر بھی رکھا ہے۔ یہ انہیں دریا دل اور دیالو لوگوں کا فیض ہے کہ عہد تار اب آنے سے پہلے ہی دن کی روشنی میں دیکھ لیا جاتا ہے۔
میں نے 2002 میں وطن چھوڑا تھا۔ 9 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد کا زمانہ تھا۔ مغربی میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف بالعموم اور پاکستانیوں کے خلاف بالخصوص شدت کے ساتھ بولا جا رہا تھا۔ عراق پر ہونے والے 2003 کے حملوں کیلئے باندھی جانے والی تمہید کو میں نے مغرب میں بیٹھ کر دیکھا۔ سکائی نیوز دیگر کئی اور ٹی وی چینلز اور اخبارات روزانہ مسلم دہشت گردی کے حوالے سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ نائن الیون کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ دنیا کے سارے مسلمان بالعموم دہشتگرد ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ یہ مغرب سے عناد رکھتے ہیں۔ صدام حسین بھی مسلمان ہے۔ پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مغرب کے خلاف ہے اور مغرب پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔ ایسے میں اس نظرئیے کا رد بالعموم وہ افراد کرتے تھے جن کو ہم بائیں بازو کے لوگ کہتے ہیں۔ مغربی میڈیا میں اس نظریے کی تردید انگلستان کے جارج گیلووے اور ٹونی بین (مرحوم) امریکہ کے نوم چومسکی, ایڈورڈ سعید اور ہاورڈ زن اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے لیکن برطانیہ میں مقیم طارق علی جیسے لوگ کیا کرتے تھے۔ ایسے میں شدت سے خیال آتا تھا کہ سارے قضیہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے اسباب کیا تھے۔ پاکستان نے اس معاملے میں شرکت سے کیا حاصل کیا۔ پاکستانی حکمران ان اس صورتحال کو قبل از وقت کیوں نہ دیکھ سکے۔ اگر امریکہ میں ایرک فرام، الجیریا میں مینونی اور فرانز فینون، برطانیہ میں آ ر ڈی لینگ، ہندوستان میں سدھیر کاکڑ اور اشیش نندی، اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے مگر پاکستان سے باہر مقیم اقبال احمد آنے والے وقتوں اور پیدا ہونے والی صورتحال کی نشاندہی کرسکتے ہیں تو پاکستان میں مقیم ماہرین تعلیم، دانشور اور ماہرین نفسیات یہ کام کیوں نہ کر سکے۔ کوئی ہمارے حکمرانوں بالخصوص پاکستانی فوج کو یہ بات کیوں نہ بتلا سکا کہ وہ جس آگ سے کھیلنے جا رہے ہیں وہ ایک دن اپنا ہی نشیمن خاکستر کر دے گی۔ کئی سال گزر گئے ہمیں آگ سے کھیلتے ہوئے۔ نفرتیں بوتے اور بولتے ہوئے۔ سڑکوں گلیوں میں خون دیکھتے ہوئے۔ بم دھماکوں، ایمبولنس کی آوازوں اور ٹی وی پر گریہ و زاری سنتے ہوئے لیکن کسی نے آج تک یہ نہ بتایا کہ کیا ہوا، کیوں ہوا، کیا کرنا چاہیے تھا اور آج کیا کرنا چاہیے۔
دس برس ہوتے ہیں میں پاکستان میں اپنے استاد خالد سعید صاحب سے ملنے گیا۔ انہوں نے اپنی ایک تازہ شائع ہونے والی کتاب عنایت فرمائی۔ اس میں ان کے وہ مضامین شامل تھے جو انہوں نے اسی کی دہائی کے اوائل میں تحریر فرمائے تھے۔ میں نے یہ مضامین غیرمطبوعہ صورت میں 1984 یا 1985 کے آس پاس پڑھے تھے (شاید اس لیے کہ وہ اس وقت شائع نہیں ہوسکتے تھے). ان میں سے ایک مضمون ایرک فرام پر تھا ایک ولہلم رائش (رایخ) پر اور ایک مضمون آر ڈی لینگ پر تھا۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ ان مضامین کو پڑھنے کے بعد پاکستانی دانش کی بابت جس مایوسی کا شکار ہوا تھا وہ مایوسی قدرے کم ہوئی اور اس بات کا احساس ہوا کہ دامن گل اب بھی موتیوں سے بھرا ہوا ہے۔
میری درخواست ہے کہ ان مضامین کو دوبارہ دیکھیے۔ میں نے بھی جب ان مضامین کو زمانہ طالب علمی میں پڑھا تھا یہ نہیں سمجھ سکا تھا کہ یہ مضمون 1980 کی دہائی میں اس طرح کیوں لکھے گئے ہیں۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ مضامین فرام، رایخ اور لینگ کی تقریبا تمام کتابوں کا خلاصہ ہیں۔ اور خالد صاحب نے یہ اپنے طالبعلموں کے لیے لکھے ہیں تاکہ جنہوں نے ان اہم مصنفین کو نہیں پڑھا وہ ان کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کرلیں اور اگر بعد میں من چاہے تو ان کو تفصیل سے پڑھ سکیں۔ لیکن آج ان مضامین کو پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ انیس سو اسی کی دہائی میں بات کرنے کا شاید یہی راستہ باقی رہ گیا تھا۔
خالد سعید صاحب نے پاکستان کی صورتحال کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کے لئے جن ماہرین نفسیات کی مدد لی ایرک فرام ان میں سے ایک تھا۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ خالد صاحب آج بھی فرائیڈ کے نظریات کو سماج کی تفہیم کے لئے مفید اور کارآمد خیال کرتے ہیں۔ مگر انیس سو اسی کی دہائی میں انہوں نے ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناطے جس نظریہ ساز کا انتخاب کیا وہ فرام تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ فرام نے فرائیڈ سے انسانی کردار کو متعین کرنے والے عوامل کے ضمن میں اہم اختلافات کیے ہیں۔ گو مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ پاکستان کی صورتحال کے نفسیاتی تجزیہ کے لیے خالد صاحب نے فقط ایک مضمون لکھا۔ میری رائے میں فرام کے اخذ کردہ نتائج ہمیں آج بھی تجزیہ کے لئے مدد اور راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔لیکن یہ بات بہرحال درست ہے کہ ایک ہی مضمون میں خالد صاحب بہت کچھ کہہ گئے ہیں۔ خالد صاحب کے ایک ادنیٰ طالب علم کے طور پر ہم پر یہ لازم ہے کہ ہم ان کے اس مضمون کی تشریح و تفسیر کریں اور یہ دکھائیں کہ فرام کا انتخاب نہ صرف درست تھا بلک وہ وقت کی اہم ضرورت تھا اور آج بھی ہے۔
اس مضمون میں جو ضیاء الحق کے بدترین مارشل لاء کے تاریک ترین دور میں لکھا گیا خالد صاحب نے شروع میں ایرک فرام کا ایک مختصر تعارف کرایا ہے۔ غالبا انہوں نے یہ تعارف مضمون کو ایک درسی رنگ دینے کے لئے لکھا ہوگا۔ اس تاثر کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ ایرک فرام کی کتابوں کی جو فہرست شروع میں فراہم کی گئی ہے مضمون میں ان میں سے صرف ان دو سے استفادہ کیا گیا ہے۔
1. The anatomy of human destructiveness
2. Fear of freedom.
فرام کے کام پر نظر رکھنے والے اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جن حالات کا تجزیہ کرنے کے لیے یہ مضمون لکھا گیا تھا ان پر بات کرنے کے لیے غالباً یہ دو اہم ترین کتابیں تھیں جو خالد صاحب نے منتخب کیں۔ تاہم ایک اور کتاب The Heart of Man میرے خیال میں آج بھی اہم ہے اور پاکستانی صورتحال کے تجزیے کے لیے مدد فراہم کرتی ہے۔
سردست ایرک فرام کی کتاب The Anatomy of Human Destructiveness سے خالد سعید صاحب کے اخذ کرتا نتائج اور 1980 کے پاکستان کی صورتحال پر ان کے اطلاقات کا جائزہ لیجیے۔ یہ کتاب 1973 میں شائع ہوئی تھی اور اس وقت اس کا پہلا ایڈیشن میرے سامنے ہے۔ اس کتاب کے چند حصے Psychology Today میں پہلے ہی چھپ چکے تھے۔ اگر آپ اس تجزیے پر آج نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ایرک فرام نے جوکچھ انیس سو ستر کی دہائی کے آغاز میں لکھا تھا انیس سو ستر کی دہائی کے اختتام پر اور بعد ازاں وہی کچھ پاکستان میں حرف بحرف سچ ثابت ہوا۔ اب وجہ یاد نہیں ہے مگر کبھی اس کتاب کو پڑھتے ہوئے کچھ اور سطروں کے ساتھ ساتھ اس جملے کو بھی قلم زد کیا تھا۔ پہلے یہ جملہ پڑھیں۔
Only dogmatic thinking, the result of the laziness of mind and heart, tries to construct simplistic schemes of the either-or type that block any real understanding. (The Anatomy of Human Destructiveness. p. 265)
جس مذہبی فسطائیت کا اس وقت (اور آج تک) ملک اور پاکستانی معاشرے کو سامنا تھا اس کی اہم ترین پیداوار وہ سوچ تھی جو افراد کو صرف ایک جیسا سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایسے معاشرے مختلف سوچنے والوں کو دیس نکالا دے دیتے ہیں۔ افراد کو معاملات کی سادہ ترین over simplified توضیحات راس آتی ہیں۔ سطحی باتیں کرنے والے افراد، دانشور اور قائدین مقبول ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں معاملات کی حقیقی تفہیم قریباً قریباً ناممکن ہوجاتی ہے اور انسانی سوچ انتہاؤں Binaries کی جانب سفر شروع کر دیتی ہے۔ من وتو کا امتیاز اپنی آخری حدوں کو چھونا شروع کر دیتا ہے۔ اس تمام کا سبب قلب ونظر کی وہ کاہلی ہے جس کو فسطائیت پیدا کرتی ہے۔ قلب و نظر کی اس کاہلی کو فرام نے دائمی بوریت chronic boredom کہا ہے اور اس کو فسطائیت سے پیدا ہونے والی اہم ترین نفسیاتی بیماریوں میں شمار کیا ہے۔ یہی وہ بوریت ہے جس سے آج کا انسان ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی مدد سے نمٹنے کی ایک ناکام کوشش کر رہا ہے۔ فرام کے اس قول کو یہاں دہرانے کا مقصد اس کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ یہ کتاب نہ صرف فسطائیت کے ان اثرات کا احاطہ کرتی ہے جو فوری طور پر پیدا ہوتے ہیں بلکہ ان دوررس نتائج کو بھی کامیابی سے دکھاتی ہے جو ہم ایسے معاشرے کئی دہائیوں سے جھیل رہے ہیں۔ لگے ہاتھوں دوسری کتاب Fear of Freedom سے ایک اقتباس دیکھتے چلیے۔
The more the drive towards life is thawtred, the stronger is the drive toward destruction, the more life is realized the less is the strength of destructiveness. Destructiveness is the outcome of unlived life.
خالد سعید صاحب نے آر ڈی لینگ پر بھی ایک مفصل مضمون تحریر کیا تھا۔ Politics of experience لینگ کی ایک اہم ترین کتاب ہے۔ 1967 میں شائع ہونے والی اس کتاب میں سکیزوفرینیا کو لینگ نے فسطائیت اور سرمایہ دارانہ معاشرے کے اثرات بیان کرنے کے لئے کم و بیش اسی پیرائے میں استعمال کیا ہے جس طرح فرام نے نیکروفیلیا کو۔ لینگ نے سکیزوفرینیا کے بارے میں کہا تھا
The experience and behavior that get labelled schizophrenic is a special strategy that a person invents in order to live in an unlivable situation.
ان دونوں ماہرین نے فسطائیت اور سرمایہ دارانہ نظام میں زندگی کے امکانات کو معدوم ہوتے ہوئے دکھایا ہے نہ صرف یہ بتایا کہ زندگی سے ان کی مراد کیا ہے بلکہ اس ساری صورتحال کو بہت تفصیل سے بیان بھی کیا ہے۔
خالد سعید صاحب نے ایرک فرام کے تصورحیات کو ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔ “حیوانوں کے برعکس انسان محض روٹی پر زندہ نہیں رہ سکتا وہ محبت، اقتدار، مذہب یا سیاسی مقاصد کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ موجودی تضادات انسان کو اپنے اور فطرت میں وحدت کے حصول کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ اسی وحدت کی تلاش میں انسان اپنی قوتوں کا تخلیقی اظہار مادی اشیا آرٹ اور نظام افکار کی تخلیق میں کرتا ہے۔ مگر اس کی سب سے اہم تخلیق وہ خود ہے”
حیات کے اس تصور کا انہدام نیکرو فیلیا کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 2013 میں شائع ہونے والے نفسیاتی امراض کے جدید ترین تشخیصی نظام DSM-5 میں نیکرو فیلیا ایک نفسیاتی مرض کے طور پر آج بھی موجود ہے۔ بنیادی طور پر یہ اصطلاح مردہ اجسام سے جنسی حظ اٹھانے کی ایک بے قابو خواہش رکھنے اور کچھ صورتوں میں اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے والوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ غالبا ً ایرک فرام کے بعد اس موضوع پر کام کرنے والا پہلا محقق جوناتھن روسمین Jonathan Rosman تھا۔ 1989 میں شائع ہونے والے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں اس نے دو اہم باتیں تحریر کیں۔ ایک تو اس نے نیکروفیلیا کو کو سائیکوسس psychoses، ذہنی پسماندگی mental retardation اور سادیت sadism سے الگ کر کے دکھایا۔ اور رد نہ کرسکنے اور مزاحمت نہ کرسکنے والے جسم سے تعلق قائم کرنے کی خواہش کو نیکر وفیلیا کا بنیادی محرک قرار دیا۔ روسمین کی یہ تعریف فرام کی وسیع تعریف کا ایک خالصتاً کلینکل اظہار تھا۔ دوسرے روسمین نے نیکروفیلیا کی تین حالتوں کو الگ الگ کرکے بیان کیا۔ ایک وہ حالت جس میں مریض نیکروفیلیا کی وجہ سے قتل کا ارتکاب کرتا ہے۔ دوسرے ریگولر نیکروفیلیا جس میں مریض مردہ اجسام کے ساتھ جنسی اختلاط کرتا ہے۔ اور تیسرے نیکروفیلک تصورات و خیالات اور دن سپنے fantasies۔۔۔۔ فرام نے نیکروفیلیا کے تصور کو جو وسعت دی ہے وہ روسمین کی بیان کردہ درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر آتی ہے۔
( جاری ہے)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker