اختصارئےسرائیکی وسیبعلی جانلکھاری

سرائیکیوں کے محسن ، عاشق ظفر بھٹی ۔۔ علی جان

کچھ لوگ کو دیکھ کے ہی دل میں آتا ہے کہ کاش میں انکی طرح بنوں کیونکہ ہرکسی کا کوئی نہ کوئی آئیڈل شخصیت ہوتی ہے اور ہرشخص اپنے آئیڈل انسان کی طرح بننے کی کوشش کرتا ہے آج مجھے جس عظیم شخصیت کے بارے میں لکھنے کا موقع ملا ان کے بارے میں بچپن سے سنتا آرہا ہوں وہ ایک شخصیت نہیں بلکہ خود میں ایک ادارہ ہے آپ کاخاندان 17ویں صدی میں اس وقت ہجرت کرنے پرمجبورہواجب دُلابھٹی کو انگریزوں نے سزاکے بعد بھٹی خاندان کومٹانے لگے اوران کا جیناحرام کردیا اور یہ خاندان وہاں سے ہجرت کرکے کئی قربانیاں دے کربالآخرراجن پور میں آبادہوگیا۔ ڈاکٹرعاشق ظفربھٹی نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ سے حاصل کی اور گریجویشن اسلامیہ یونیورسٹی سے کی 1977 میں سرائیکی ادبی سنگت بنائی ۔ کوڑاخان جتوئی مرحوم کی خدمات کو پیش نظر ان کے نام سے تنظیم بنائی (سردار کوڑاخان دوم ہے )جس نے 1892میں 92ہزار کنال رقبہ ملکی صحت اور تعلیم کیلئے وقف کردیا لیکن اس رقبہ سے لاکھوں روپے ضلع کونسل کے افسران اور اہلکار کھاگئے جس کے خلاف آپ نے جدوجہدشروع کردی۔آپ نے اپنی سیاسی قومی شعور کے مطابق سرائیکی قوم کی تکالیف کوپہچانا اور سرائیکی کانفرنسز کا انعقاد کرایا 1984میں جب’’ سرائیکی صوبہ محاذ‘‘ بنا تو آپ بنیادی لوگوں میں شمار کیے جاتے تھے 80کی دہائی میں وڈیرہ اور جاگیردارہ نظام چلتا تھا جس وجہ سے جاگیردار مزدوروں پرظلم کے پہاڑتوڑتے تھے جیساکہ مزدوری نہ دینا زمینوں اور گھروں پرقبضہ کرلینا یہاں تک کے زندہ جلا دیا جاتا تھا اسی ظلم کے خلاف آپ صف آرا ہوگئے اور باضابطہ سوشلسٹ پارٹی انجمن اصلاح معاشرہ بنائی جو کسی فنڈروپے کے عوض مزدوروں کی خاطرSTANDلے لیتی تھی کیونکہ ڈاکٹرعاشق ظفربھٹی ایک نڈرصحافی بھی تھے جس وجہ سے جاگیرداراور وڈیرے ان سے کتراتے تھے۔ آپ نے پرنٹ میڈیا میں قدم رکھا اور بے باک صحافت کو40سال سے بڑاعرصہ بیت چکا ہے اور تحصیل پریس کلب جتوئی میں ساتویں مرتبہ صدرکے فرائض سرانجام دے رہے ہیں آپ نے اپنی قلم کے زور پر قومی اخبارات میں سرائیکی کالم نگاری کرکے سرائیکی نوجوانوں کو بیدارکرتے رہے 90کی دہائی میں آپ نے اپنے دوستوں کے ہمراہ مل کر اپنے علاقے میں کئی سرائیکی میلے کرائے ۔آپ نے سیاسی وسماجی کاموں کے علاوہ کبھی بھی سرائیکی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹے اور آپ نے پاکستان سرائیکی پارٹی غوث بخش بزنجو،خان عبدالولی خان اورشہاب خٹک کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں سرائیکی تحریک کے تاج محمدلنگاہ جیسے رہنماؤں لیڈرز کیساتھ کام کیاآپ نے سرائیکستان قومی انقلابی پارٹی کے نام سے فرائض انجام دیے اور سرائیکی تحریک کیلئے خوب محنت کی 15سال کے عرصہ تک آپ نے اس پارٹی کالوہا منوایا مگرزیادہ سرائیکی پارٹیاں ہونے کی وجہ سے تحریک کو نقصان پہنچ رہا ہے اس نظریے کی وجہ سے آپ نے سرائیکستان قومی انقلابی پارٹی کو ساؤتھ پنجاب کی FAMOUSپارٹی میں ضم کردیا جسمیں آپکو صوبائی کوآرڈینیٹرپنجاب بنا دیا گیا تو آپ نے انتھک محنت اور اچھے ٹیم ورک کے ساتھ پارٹی میں نئی روح پھونک دی جس وجہ سے اب سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان کی جانی مانی پارٹی ہے ۔ آپ نے سینکڑوں لوگوں کے ہمراہ سرائیکستان لانگ مارچ میں شرکت کی اور لانگ مارچ میں اہم کردارادا کیاآپ کی تحریک سے محبت کی وجہ سے آپ کا پورا خاندان سرائیکستان سے محبت کرنے والا ہے ۔ہم امیدکرتے ہیں کہ جب الگ صوبہ بنے گا تو آپ کا نام صف اول کے بانیوں میں لیا جائے گا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker