علی نقویکالملکھاری

اساتذہ کے ساتھ دم توڑتی موسیقی ۔۔ علی نقوی

میرے گزشتہ آرٹیکل “کوک سٹوڈیو، چوری کی دھنیں اور اسٹیبلشمنٹ کے گلوکار” پر دوستوں کا اعتراض یہ ہے کہ کس طرح آپ نے یہ لکھا کہ نصرت فتح علی خان کے فن میں مسائل تھے؟ اس سوال کا جواب عرض کرنے سے پہلے ایک بات واضح کیے دیتا ہوں کہ میں جب چھٹی جماعت میں تھا تو “سونک” نامی ایک کمپنی نے نصرت صاحب کے کیسٹس ریلیز کرنے شروع کیے سونک کے والیم نمبر دو میں مشہور زمانہ قوالی “تم اک گورکھ دھندہ ہو” ریلیز ہوئی میں نے وہ کیسٹ اپنی کئی دن کی پاکٹ منی جمع کر کے خریدی تھی اس کے بعد میں نے شاید ہی کوئی کیسٹ نصرت صاحب کی چھوڑی ہو اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ نصرت صاحب کا اصل کام فیصل آباد کی ایک کمپنی رحمت گراموفون نے ریکارڈ کیا تھا اور ستر سے زائد والیم اس کمپنی نے نصرت فتح علی خان کے ریلیز کیے آپ میں سے زیادہ تر شاید یقین نہ کریں لیکن میں نے تقریباً وہ تمام البمز میٹرک سے پہلے سن لیے تھے جب یو ٹیوب آئی تو مجھے چند ہی نئی چیزیں مل سکیں باقی میں نے سن رکھا تھا یا میں مانوس ضرور تھا ۔کیا شک ہے کہ نصرت فتح علی خان ایک عہد کا نام ہے ایک بھرپور قوال ۔۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ان کی برسی کے موقع پر میں نصرت صاحب پر ریڈیو شو کر رہا تھا تو میں نے کہا تھا کہ ا گر آج نصرت صاحب زندہ ہوتے تو دنیا کے میوزک سین پر شاید کوئی اور نظر ہی نہ آتا جس طرح کے تجربات وہ کرنے جا رہے تھے ان سے شاید گلوبل میوزک کا رخ ہی بدل جاتا..
اس اقرار کے بعد بات کرتے ہیں جنابِ راحت فتح علی خان کی، ذاتی تجربہ بتاتا ہوں ایک بار میں خان صاحب کو ان کے گھر پر ریڈیو اور میگزین کے لئے انٹرویو کر رہا تھا سوال پوچھا کہ آپ نصرت فتح علی خان کے جانشین ہیں نصرت صاحب کی پہچان قوالی تھی، وہ قوالی کہاں ہے آپ ایک (فلاپ) قوالی البم لائے اسکے بعد آپ نے اپنی قوالی نہیں کی (جہاں قوالی کرتے ہیں نصرت کی قوالی کی ٹانگیں توڑتے ہیں) کیوں؟ جواب آیا کہ اگلا سوال….
میں نے اپنے آرٹیکل میں بات کی تھی آفریں آفریں کی تو ساتھ ہی ساتھ اس کا ایک ثبوت بھی پیش کیا تھا کہ یہ دھن ایک پرانی قوالی “اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا” سے لی گئی ہے لیکن کسی بھی ناقد نے یہ زحمت نہیں کی ہوگی کہ یو ٹیوب پر سرچ کر کے یہ قوالی سن ہی لے میری ریکمنڈیشن پر ایک بار یہ قوالی یو ٹیوب پر سرچ کیجیے سنیے اور سر دھنیے تاکہ پتہ چل سکے کہ کیا معیار ہے کمپوزیشن کا، کلام کا اور عقیدت کا جو قوالی سے چھلکتی ہے، اسکے بعد نصرت صاحب کا گایا ہوا آفریں آفریں بھی سن لیجیے اسکے دو ورژنز ہیں ایک آفریں آفریں قوالی ہے اور دوسرا ریمکس ہے اور اسکے بعد راحت اور مومنہ مستحسن والا آفریں آفریں بھی سن لیجیے جو کہ یقیناً آپ سب نے سنا ہی ہوگا مجھے یاد ہے جب یہ آیا تھا تو میں نے لکھا تھا کہ راحت فتح علی خان نے آفریں آفریں کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو قندیل بلوچ کے بھائی نے اسکے ساتھ کیا تھا، کہ ساری زندگی اسکی کمائی کھاتا رہا اور آخر میں اسی کو قتل کر دیا بالکل ایسے ہی راحت فتح علی خان ساری زندگی نصرت کے گانے گا گا کر کمائے گا اور اسی نصرت کا میوزک قتل بھی کرے گا…. بات کو کھول دیتے ہیں یہ حال صرف ہمارے پیارے راحت فتح علی خان کا ہی نہیں ہے بلکہ ہر بڑے گلوکار اور قوال کی اولاد کا تقریباً یہی حال رہا ہے مرحوم امجد صابری میرے لیے مظلومیت کی علامت ہیں ایک نہایت شاندار انسان لیکن ایمانداری سے اگر فن کا جائزہ لیں تو ذاتی قوالی ڈھونڈے سے نہیں ملے گی کہ جس کا کلام نیا ہو اور دھن خود بنائی ہو اگر ہے بھی تو گمنام ہے.. مرحوم کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے میں آپ کو والد کی آواز میں “تاجدارِ حرم” سناتا ہوں اسکے بعد میں آپکو چچا کی آواز “بھر دو جھولی” سناؤں گا تو بھائی یہ تو ببو برال اور امان اللہ بھی کر لیا کرتے ہیں آپ قوال ہیں اپنی قوالی اگر ہے تو سنائیں، عزیر میاں قوال کا اپنا ہاتھ بھی سرُ کی طرف تھوڑا تنگ تھا لیکن عمران عزیز میاں اور تبریز میاں کا ہاتھ بہت ہی تنگ ہے…
مہدی حسن خان سے بڑا کوئی کیا پیدا ہوگا آصف مہدی انکے فرزند ہیں گانے کی کوشش کی لیکن ایک چیز اپنی تو دور والد کی چیزیں ٹھیک سے نہیں گا سکے، مادام نور جہاں کے فن پر بات کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے لیکن اولاد کی پرفارمنس سامنے ہے ان بہنوں کو یہی لگتا رہا کہ ہیرے کی انگوٹھیاں اور قیمتی ساڑھیاں انسان کو نور جہاں بنا دیتیں ہیں..
آپ کی توجہ پٹیالہ خاندان کے دو بھائیوں کی طرف دلاتا ہوں اسد امانت علی خان اور شفقت امانت علی خان، اسد امانت نے باپ امانت علی خان کا سایہ کچھ دیر کے لیے دیکھا باپ کے بعد فتح علی خان جیسا عظیم الشان چچا دیکھا اور جب سنگت کی تو حامد علی خان جیسے سنجیدہ گلوکار کے ساتھ،جب یہ ساری ریاضت انکے کام میں نظر آتی تھی شفقت امانت نے بہت نام کمایا لیکن بہت جلد سیریس کام سے منہ موڑ گئے۔ انڈیا جاکر فلموں کے کمرشل گانے گانا آسان بھی ہے اور منافع بخش بھی لہذا ہوا یہ کہ حضرت سے ایک سیریس کلاسیکل چیز نہیں گائی جاتی (کلاسیکل چھوڑیں قومی ترانہ تک نہیں گایا جاتا) جبکہ اسی خاندان میں حامد علی خان کے بچے نایاب اور انعام پوری پوری کلاسیکل کی محفل کرتے ہیں اور لاہور میں ہونے والی آل پاکستان موسیقی کانفرنس میں اساتذہ کو کلاسیکل گا کر سناتے ہیں ہاں معیار پر ضرور بات کی جاسکتی ہے، شفقت امانت علی کی عمر کے ایک اور گلوکار شفقت سلامت علی خان بھی ہیں (شاید زیادہ لوگوں نے نام بھی نہ سنا ہو کیونکہ ہمارے اپنے ملکی گلوکار تب تک مستند نہیں گنے جاتے جب تک انکے پاس انڈین سرٹیفکیٹ نہ ہو) فرزند ہیں استاد سلامت علی خان کے تعلق ہے شام چوراسی گھرانے سے کلاسیکل سننا ہو تو انکو سنیے تاکہ سیدھے سیدھے انڈین مشین میڈ کمرشل گانے اور ہارڈکور کلاسیکل گانے کا فرق پتہ چل سکے،
ہمارے ہاں یہ رواج ہی نہیں کہ کوئی اچھا شاگرد چھوڑ کر جایا جائے ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی ہٹ ہوگیا تو اسکے بعد اسکی اولاد آگے آ جاتی ہے اور جیسی بھی ہو ہاتھوں ہاتھ لے لی جاتی ہے (چاہے وہ مولوی کی اولاد ہو یا گلوکار کی) اتنے بڑے بڑے نام اس ملک میں رہے کیا کسی نے کوئی شاگرد کیا؟ مہدی حسن شہنشاہِ غزل کہلائے شاگرد کتنے؟ دو کو میں جانتا ہوں ایک پرویز مہدی اور دوسرے ہمارے پیارے غلام عباس، نور جہاں کی شاگرد انکی اپنی بیٹیاں بھی نہیں بن سکیں، کوئی بڑا نام ایسا بتائیے کہ جس نے اپنے بعد کوئی ایسا جانشین یا شاگرد چھوڑا ہو کہ جس نے ایک تو استاد کے کام میں کوئی جدت پیدا کی ہو یا اپنا ہی کوئی ڈھنگ کا کام کر لیا ہو،
ان سب سے اچھے تو عطاء اللہ خاں عیسیٰ خیلوی رہے بچوں کی بھرپور تربیت کی کہ بیٹا (سانول) بھی ٹھیک گا لیتا ہے اور بیٹی (لاریب) ہالی وڈ میں اینی میٹر ہے “گاڈزلا، پرنس آف پرشیا، ایکس مین ڈیز آف فیوچر پاسٹ، مشن امپوسیبل، ” جیسی بڑی فلموں کی ٹیم میں شامل رہی ہے ایک شاندار کیرییر بھی ہے اور باپ کا نام بھی اونچا رہتا ہے..
میرے گزشتہ آرٹیکل پر یہ بھی اعتراض ہوا کہ آپ کو کتنا میوزک آتا ہے خود کتنا گا لیتے ہو تو بھائی اس کا سیدھا سیدھا جواب یہ ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ سڑک میں گڑھا ہے تو اس اعتراض کو کرنے سے پہلے مجھے سڑک بنانی سیکھنی چاہیے ورنہ میرا اعتراض نہیں مانا جائے گا؟ اگر میں یہ کہوں کہ درزی نے قمیض اچھی نہیں سی تو اس اعتراض سے پہلے مجھے ٹیلرنگ آنی چاہیے؟ جب میں یہ کہتا ہوں کہ فن میں مسائل تھے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود کو گانا نہیں آتا تھا میں یہ کہہ رہا ہوں کہ فن ٹرانسفر نہیں کر سکے یہ بات ماننے میں کیا قباحت ہے کہ نصرت فتح علی خان کو دنیا سے گئے اکیس سال ہونے کو آئے اور انکے جانشین راحت فتح علی خان نے اپنی ذاتی ایک کام کی قوالی نہیں سنائی اس میں کسی کو کیا شک ہے کہ فریدہ خانم، اقبال بانو، غلام علی، ٹینا ثانی نیرہ نور، عابدہ پروین اپنے اپنے فن کے بادشاہ لوگ ہیں لیکن ان کے کسی شاگرد کو بھی آپ یا دنیاجانتی ہے؟ میرے نزدیک اگر آپ سے اپنا ہنر ٹرانسفر نہیں کیا جاتا تو اس ہنر میں یا آپ کی اپنی شخصیت اور مزاج میں کوئی نہ کوئی سقم موجود ہے.. اور مزیدار بات یہ ہے کہ یہ معاملہ بارڈر کر اسُ پار بھی اسی طرح کا ہے لتا اور آشا کے درمیان جو معاملات رہے سب کو معلوم ہے، بیشتر ایکٹرز کے بیٹے، بیٹیاں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے اور وہ نام نہیں بنا سکے جو انکے باپ یا ماں کا تھا چاہے وہ ابھیشیک بچن ہو، ریتھک روشن ہو، ٹائیگر شروف ہو یا ہیما مالنی کی بیٹی ایشا دیول ہو، لیکن جن لوگوں نے اپنے بچوں پر توجہ دی انکے بچوں نے نام بنایا چاہے وہ خود اتنے بڑے اداکار نہ رہے ہوں جیسے رنبیر کپور پر پراپر کام کیا گیا، اس کی تعلیم پر، اس کی ایکٹنگ پر ہر ایک چیز پر اسی طرح کی ایک مثال سنجے دت کی ہے کہ جس نے نہ صرف باپ کے نام کو آگے بڑھایا بلکہ تمام تر شخصی کوتاہیوں کے باوجود اپنی گرومنگ پر بھی توجہ دی اور انڈسٹری میں جگہ بنائی..
آخر میں صرف یہ کہ اس آرٹیکل کا مقصد اپنے لیجنڈز کی تضحیک نہیں ہے صرف یہ ادراک کرنے کی سعی ہے کہ یہ ہمارے خطے کا المیہ ہے کہ جانے والے اپنے بعد آنے والوں کی تربیت اس طرح سے نہیں کر پائے کہ جو انکا اپنا معیار تھا یا آنے والوں میں وہ صبر، سیکھنے کا شوق، جنون اور لگن نہیں تھی جو اپنے بڑوں سے وہ انکا فن لے پاتے معاملہ کہیں نہ کہیں خراب ضرور ہے….

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker