علی نقویکالملکھاری

ایک پی ٹی آئی کارکن کا وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط

خان صاحب آپ میرے ہیرو ہیں میں اس جنریشن سے ہوں کہ جس کو بانوے کا ورلڈ کپ اچھی طرح یاد ہے میں اس وقت آٹھ برس کا تھا جب پاکستان نے آپکی قیادت میں ورلڈ کپ جیتا میں آپ کو کیا بتاؤں کہ کس کس طرح سے میری جنریش نے آپ کو فالو کیا ہے، ساری زندگی اس کوشش میں لگے رہے کہ کسی طرح سے آپ کا باؤلنگ ایکشن کاپی کر لیں، آپ نے شوکت خانم بنانے کا اعلان کیا تو ہم نے دیکھا کہ پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہم نے آپ کو بازاروں میں دیکھا، سکولوں میں دیکھا، اور آپ پر نہال ہوتے رہے، وارفتگی کا عالم یہ ہے کہ آج بھی کہیں شوکت خانم کا ڈونیشن باکس نظر آ جائے تو ہاتھ جیب میں جانے سے روکنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
آپ نے تحریک انصاف بنائی اس وقت ہمیں یہ سمجھ بھی نہیں تھی کہ سیاست کیا ہوتی ہے اور ووٹ کس بنیاد پر دینا چاہیے لیکن چونکہ ہمیں صرف آپ نظر آتے تھے ہم نے کہا کہ ہاں یہ جو بھی کہہ رہا ہے سچ ہے اور ہم اس آدمی کے ساتھ ہیں کیونکہ ہم جسے ہیرو مانتے ہیں اس کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتے آج کی یوتھ سے میں اکثر یہ سوال پوچھتا ہوں کہ ستانوے کے الیکشن میں عمران خان کا انتخابی نشان کیا تھا؟ تو وہ جواب نہیں دے پاتے پھر میں انہیں بتاتا ہوں کہ اس وقت تحریک انصاف کا نشان چراغ تھا کیونکہ میرے دماغ میں پی ٹی وی پر چلنے والی وہ ویڈیو آج بھی نقش ہے جس میں آپ نے پٹھانوں والی گرم ٹوپی پہنی ہوئی تھی اور آپ کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس نہ تو سواریاں ہیں نہ ہی پیسے ہیں آپ خود کسی بھی طرح سے الیکشن بوتھ تک پہنچیں اور چراغ پر مہر لگائیں، 2002 کے الیکشن ہوئے تو مجھے یاد ہے کہ میں آپ کے ایک پولنگ کیمپ میں جاکر بیٹھا رہا وہاں پر لوگ تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے اور جو سامنے سے گزر رہا تھا آپ پر جملے کستا تھا اور ہم جو اس کیمپ میں بیٹھے ہوئے تھے ہمیں پاگل کہتا تھا لیکن ہم نے جب آپ کو سنا تو آپ کہہ رہے تھے کہ ابھی میرا ووٹر چھوٹا ہے بڑا ہونے دو تو ہمیں یہ سن کر حوصلہ ہوا کہ ہاں یہ تو خان میری بات کر رہا ہے ذرا ہمیں بڑا ہونے دو ۔
2011 میں وہ وقت بھی آ گیا کہ جب میں 31 اکتوبر کی دوپہر بارہ بجے مینار پاکستان پہنچا تو نوجوان لڑکے لڑکیوں کا ایک ہجوم تاحدنگاہ نظر آیا lums, NCA کے سٹوڈنٹس اور وہ کلاس کہ جو دوپہر تو چھوڑیے سہہ پہر میں بھی اس لیے گھروں سے نہیں نکلتی کہ رنگ خراب ہوجائے گا مینار پاکستان کے سبزہ زاروں میں گھاس پر آپ کے انتظار میں بیٹھی تھی جبکہ آپ نے وہاں رات کو خطاب کرنا تھا یہ منظر دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں جیت گیا اس دن میرا دل کیا کہ میں ان لوگوں کو پکڑ کر دکھاؤں کہ جو اس کیمپ میں بیٹھے لوگوں پر پھپتی کستے تھے کہ آؤ دیکھو میرے عمران خان نے وہ کر دکھایا کہ جس کا تذکرہ وہ بار بار کیا کرتا تھا رات کو آپکی تقریر نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی کہ جب آپ نے کہا کہ “تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے” مجھے لگا کہ جیسے اس ایک لمحے میں سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے…
اس کے بعد کا آپکا ہر ایک جلسہ میرے اندر نئی روح بھرتا گیا نئی امید جگاتا گیا، نواز شریف اور زرداری مجھے فرعون اور نمرود لگنے لگے میں صرف یہی انتظار کر رہا تھا کہ کب خان کی حکومت آئے کب ہمارے دن بدلیں اور کب ان چوروں اور ڈاکوؤں کو پھانسی پر لٹکایا جائے کہ الیکشن سے چند دن پہلے آپ کرین سے گر کر زخمی ہوگئے اس خبر کے ملتے ہی صرف ایک بات سوجھی کہ کسی بھی طرح جلد از جلد شوکت خانم پہنچا جائے وہاں پر ایک جم غفیر صرف آپکی ایک جھلک دیکھنے کو، آپکی خیریت کی خبر سننے کو بےتاب تھا لوگ رورو کر دعائیں مانگ رہے تھے کچھ گھنٹوں کے بعد آپکی خطرے سے باہر ہونے کی اطلاعات آنی شروع ہوئیں تو سانس بحال ہوا 2013 کے الیکشن شروع ہوئے الیکشن کا پورا دن پولنگ اسٹیشنز پر گزر گیا عجیب عجیب باتیں سنیں کہ کوئی انگلینڈ سے خان کو ووٹ ڈالنے آیا ہے تو کوئی دبئی سے ایسی ایسی فیملیز کو لائنز میں لگ کر ووٹ ڈالتے دیکھا کہ جن کو کبھی روڈ پر سے گزرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا۔۔
رزلٹ آنے شروع ہوئے تو حیرت کی انتہا نہ رہی ہم ہار رہے تھے اور برُی طرح ہار رہے تھے آخرکار حتمی نتائج کے مطابق ن لیگ جیت گئی اور پی ٹی آئی دوسرے نمبر پر بھی نہ آ سکی ظاہر ہے دھاندلی کی گئی تھی… اس سب ناامیدی کے ماحول میں ایک اچھی خبر یہ تھی کہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی تھی آپ نے دھاندلی کا الزام عائد کیا تو ہم نے سوشل میڈیا پر اس کو کیمپین بنا دیا آپ نے چار حلقے کھلوانے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی آپ نے کہا کہ ایک طرف دھاندلی کے خلاف یہ احتجاج چلتا رہے گا لیکن دوسری طرف ہم کے پی کے کو ایک ماڈل صوبہ بنائیں گے، لیکن یہ نہیں ہوا آپ کا کل فوکس احتجاج پر مرکوز ہوگیا یہ بات تھوڑی عجیب لگی لیکن ہم نے یہ سوچا کہ واقعی اصل مسئلہ تو کرپشن ہی ہے اگر الیکٹورل پراسس کو ٹھیک نہ کیا گیا تو یہاں کبھی حقیقی معنوں میں تبدیلی نہیں آئے گی آپ دھرنے کے لیے نکلے قوم ایک مرتبہ پھر آپکے پیچھے چل پڑی آپ نے کہا کہ ہم اس پارلیمنٹ کو نہیں مانتے ہم نے کہا ٹھیک، آپ نے کہا کہ ہم اس حکومت کو نہیں مانتے ہم نے کہا کہ ٹھیک، آپ نے کہا کہ ہم پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی مک مکا کی سیاست کو نہیں مانتے ہم نے کہا کہ بلکل ٹھیک لیکن جب آپ نے کہا کہ امپائر کی انگلی کھڑی ہونے والی ہے تو یہ بات بہت عجیب لگی کیونکہ ہمیں آپ نے یقین دلایا تھا کہ امپائر تو ہم ہیں فیصلہ تو ہمارا مانا جانا جائے گا، سوچا کہ چلو کوئی بات نہیں ہوسکتا ہے کہ خان نے استعارۃ یہ لفظ استعمال کیا ہوگا لیکن حیرت تب ہوئی کہ جب ہم نے ٹی وی پر یہ دیکھا کہ آپ اور علامہ طاہر القادری جو کہ اس وقت کسی کی نہیں مان رہے تھے آرمی چیف کے بلانے پر کنٹینر چھوڑ کر بے پناہ خوشگوار موڈ میں وکٹری سائن بناتے ہوئے راحیل شریف صاحب سے ملنے کے لیے روانہ ہوئے اور لوگوں نے کہا کہ بس اب حکومت گرنے لگی ہے تو ہمارے دماغ میں یہ آیا کہ کیا اس بار بھی امپائر آرمی چیف ہیں؟ کیونکہ بچپن سے یہی بات سن رہے تھے کہ اس ملک میں وہی ہوتا ہے جو آرمی چاہتی ہے اور یہاں ہر کوئی آرمی کے اشاروں پر ناچتا ہے لیکن ہمارا خان تو ایسا نہیں تھا، لوگ پہلے ہی یہ طعنے دے رہے تھے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر باہر نکلا ہے آپکی اس حرکت کے بعد اس سب کو ڈیفنڈ کرنا بہت مشکل ہوگیا

آپ نے بجلی کا بل جلایا تو یہ بات مجھے بہت عجیب لگی کہ اگر نواز شریف نے دھاندلی کی بھی ہے تو اس میں واپڈا کا کیا قصور ہے وہ تو میرے ملک کا ایک ادارہ ہے ہم اسکو نقصان کیوں پہنچائیں؟ ہم کیوں ٹول ٹیکس نہ دیں؟ ہم کیوں اپنے ملک کے بینکوں کے بجائے ہنڈی سے پیسے منگوائیں…. بہر حال ہم ڈٹے رہے آہستہ آہستہ ہوا یہ کہ دھرنے میں سے جان نکلتی رہی یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ تقریر کر رہے ہوتے تھے اور سامنے سو یا دو سو لوگ بھی نہیں ہوتے تھے اس سب کو دیکھ کر بہت ساری کیفیات ایک ساتھ جمع ہوجاتیں تھیں جہاں ایک طرف غصہ آتا تھا وہیں دوسری طرف کوفت ہوتی تھی کہ خان کو چاہیے کہ کے پی کے میں جاکر بیٹھ جائے اور خاموشی سے اس صوبے کے لیے کام کرے اس کو ماڈل صوبہ بنائے تاکہ اگلے الیکشن میں ہم اس کو ایک مثال کے طور پر پیش کر سکیں لیکن ہمیں ایسا محسوس ہونا شروع ہوگیا کہ آپ نے اس مسئلے کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور آپ کو اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں ہے کہ جس صوبے کے لوگوں نے آپ پر اعتماد کر کے آپکو ووٹ دیے ہیں ان کی فلاح کی ذمہ داری بھی آپ پر ہے سانحہ اے پی ایس کے بعد آپ نے دھرنا کال آف کر دیا وقت گزرتا رہا لیکن دو کام نہیں ہوئے ایک کے پی کے میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا اور دوسرا آپکی احتجاجی سیاست میں کمی نہ آئی، چار حلقے بھی کھلے وہاں فوج کی نگرانی میں الیکشن بھی ہوئے لیکن پی ٹی آئی ایک بار پھر نہ جیت سکی سوچا کہ شاید اب آپ کے پی کے پر توجہ کریں لیکن سوائے بلین ٹری پراجیکٹ کے آپکے پاس گنوانے کو بھی کچھ نہیں تھا اور اس بلین ٹری پراجیکٹ کو آپکے حالیہ بیانات نے ویسے ہی بےپناہ مشکوک بنا دیا ہے..
پانامہ سکینڈل آیا تو آپ کے ہاتھ ایک اور ڈگڈگی بجانے کو آ گئی اور اسی سکینڈل میں نواز شریف نا اہل ہوگیا اور ساتھ ہی 2018 کے الیکشنز کی تیاریاں بھی شروع ہو گئیں اور ہم ایک بار پھر آپکی کیمپین میں جتُ گئے ساری دنیا کہہ رہی تھی کہ عمران خان کے پیچھے آئی ایس آئی ہے اور فوج اس کی حمایت کر رہی ہے اس پر ہم اس بار ڈھیٹ ہوگئے کہ اگر ایسا ہے تو ایسے ہی سہی ہم نے سلوگنز بنائے کہ “اگر خان اکیلا ہے تو ووٹ حاضر ہے اور اگر اس کے پیچھے فوج ہے تو جان بھی حاضر ہے” کبھی ہم نے اس سب کا جواب یوں دیا کہ “اگر عمران خان کے پیچھے آئی ایس آئی ہے تو نواز شریف کے پیچھے را ہے اب چوائس آپکی” یہاں تک کہ HRCP جیسے شاندار شہرت کے حامل ادارے نے ہونے والے الیکشنز کی شفافیت پر سوال اٹھایا تو ہم نے انکے خلاف سوشل میڈیا پر محاذ کھول دیا آج شرمندگی بھی ہوتی ہے کہ آئی اے رحمان جیسی شخصیت کے خلاف ہمارے ساتھیوں نے وہ مغلظات بکیں کہ کیا بتائیں آپ کے یو ٹرنز پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے جاہل ورکرز نے ہماری مسلسل بینڈ بجائی چاہے وہ الیکٹینلز کا معاملہ ہو یا آزاد امیدواروں کا… بہرحال یہ سب آپکی محبت میں برداشت کرتے رہے، الیکشنز ہوئے اور ہم مارجن پر جیت گئے اور جب آپ نے حکومت بنانی شروع کی تو ایک عجیب منظر دکھائی دینے لگا کہ ہر وہ اصول جو آپ نے ہمیں سکھایا تھا اسکی نفی آپ خود کر رہے تھے سب سے پہلے آپ نے یو ٹرنز کو بڑے لیڈروں کی پہچان بتا کر ہمارے لیے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کر دیا کل تک جو ایم کیو ایم زہرا آپا کی قاتل تھی وہ ایکدم سے اس لیے ٹھیک ہوگئی کیونکہ آپکو انکی حمایت حکومت بنانے کے لیے درکار تھی کس بنا پر آپ نے یہ کہا کہ ہمارا اور ایم کیو ایم کا نظریہ ملتا ہے؟ خان صاحب آپکا یہ بیان مجھے گالی لگا لیکن میں پی گیا، وہ لوگ کہ جو کل تک پرویز مشرف کو سو بار وردی میں منتخب کرانے پر تُلے ہوئے آج آپ کی حکومت کا حصہ بن رہے تھے میں نے دیکھا کہ جہانگیر ترین کہ جن کو سپریم کورٹ نے تا حیات نا اہل قرار دے رکھا تھا جی ہاں اسی سپریم کورٹ نے کہ جس نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا آپکی حکومت پنجاب میں بنا رہے تھے اور آزاد امیدواروں کی خرید فروخت کر رہے تھے کیا ہم نہیں پوچھ سکتے کہ کس حیثیت سے وہ یہ سب کر رہے تھے؟
ہم 2013 کے الیکشنز سے پہلے سے دو باتیں جانتے تھے کہ اگر ہماری حکومت آئی تو آپ وزیر اعظم ہوں گے اور اسد عمر وزیر خزانہ ہوں گے لیکن یہ کیا ہوا کہ وہ آدمی کہ جس کے بارے میں آپ نے کہا تھا کہ یہ پاکستانی معیشت کو مشکلات سے نکال لائے گا وہی سب سے پہلے آپکی کابینہ سے باہر ہوگیا آج آپکی حکومت کو نو مہینے ہونے کو آئے آپکے اور آپکے وزارا کے پاس سوائے گزشتہ حکومتوں پر ملبہ ڈالنے کے کوئی اور بات کرنے کو نہیں ہے سوال یہ ہے کہ اگر آپ کو اس ملک کے حالات معلوم نہیں تھے تو کیوں آپ نے قوم سے وعدے کیے؟ آپ کہا کرتے تھے کہ میں ہمیشہ اپنی قوم سے سچ بولوں گا تو کیوں آپ نے قوم کو اصل بات نہیں بتائی کیوں آپ کہتے تھے نوے دن میں بڑی اور ایک سال میں چھوٹی سے چھوٹی کرپشن ہم ختم کر دیں گے؟ کہاں گیا آپکا پہلے سو دن کا منشور؟ آپ کیوں کہتے تھے کہ کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے نہ آئی ایم ایف نہ ہی کسی اور ملک سے؟ اگر سب کچھ پچھلی حکومتوں کا کیا دھرا ہے تو کیوں آپ نے اپنی کابینہ انہی لوگوں سے بھر لی کہ جو ان حکومتوں کا اہم حصہ تھے؟ کس قابلیت کی بنیاد پر آپ نے شیخ رشید کہ جو آپکا چپڑاسی لگنے کے قابل نہیں تھا آپ نے منسٹر بنا دیا؟ فواد چوہدری، فیاض الحسن چوہان ،فیصل واڈا، زرتاج گل کون لوگ ہیں یہ کیا قابلیت ہے انکی؟ کس بنیاد پر آپ مسلسل عثمان بزدار جیسے واضح نااہل کو وسیم اکرم پلس بنانے پر مصر ہیں؟ آپ جو کہ ہر وقت قومی وقار کی باتیں کیا کرتے تھے کبھی کسی شیخ کی گاڑی چلاتے نظر آتے ہیں تو کبھی محمد بن سلمان جیسے جلاد کی کیا آپکو ذرا احساس نہیں ہے کہ پرائم منسٹر کیا ہوتا ہے؟ کوئی ایک وعدہ جو پورا ہوتا نظر آتا ہو شہباز شریف کہ جو کل تک ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کا قاتل تھا آج ہر کیس سے بری ہوکر ملک سے باہر بیٹھا ہے نواز شریف کی قید ایک مذ اق بن کر رہ گئی ہے، زرداری کو ہر بار توسیع مل جاتی ہے، ڈالر آج 148 روپے کا ہو کر ہر روز ریکارڈ پر ریکارڈ توڑ رہا ہے؟ نہ کوئی کاروبار ہے نہ نوکری لوگوں کے لیے چولہا جلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے لیکن آپ اور آپکے وزرا ہر روز جھوٹ بولتے ہیں کہ معیشت کی سمت ہم نے درست کر دی ہے اور یہاں نوکریوں کی بارش ہونے والی ہے؟
آپ جو کہ اپوزیشن اور میڈیا کو کچھ نہیں سمجھتے نہ ہی انکی تنقید کی پرواہ کرتے ہیں ایک حسن نثار جیسے بدزبان کے گھر اس کو منانے کے لیے صرف اس لیے پہنچ گئے کہ اس نے دو ٹاک شوز میں آپکی اور آپکی حکومت کی درگت بنائی تھی؟ خان صاحب کیا آپکو احساس ہے کہ آپ کی حمایت نے آپکے فولووز کو وہاں لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں وہ ایک طرف معاشرے سے کٹ گئے ہیں دوسری طرف شدید مایوسی کا شکار ہیں ہم اس انتظار میں تھے کہ ہمیں کام کرنے کے مواقع ملیں گے لیکن یہاں جو تھوڑا بہت کام چل بھی رہا تھا بند ہوگیا ہے ہمارے لیے لوگوں کا سامنا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے لوگ ہنستے ہیں، مزاق اڑاتے ہیں، طعنے مارتے ہیں مہنگائی کا وہ عالم ہیں کہ کھانا کھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے

خان صاحب میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اچھا لیڈر قوم کو یکجا کرتا ہے لیکن آج میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے قوم کو تقسیم کردیا ہے ہمارے آپس کے تعلقات آپکی بے جا حمایت کی وجہ سے بہت خراب ہوئے ہیں آخر میں صرف اتنا کہ اگر آپ سے معاملات نہیں سنبھل رہے تو قوم کو اعتماد میں لے کر انہیں اصل بات سے آگاہ کر دیں اور اگر حکومت آپ سے نہیں چل رہی تو عزت بچائیں اور گھر چلے جائیں کیونکہ یہ جو لوگ آپ کے اردگرد اکھٹا ہوگئے ہیں آپ کو وہیں پہنچائیں گے جہاں انہوں نے پرویز مشرف کو پہنچایا تھا اس کے پیچھے تو پورا ادارہ تھا جس نے اسکو نکال دیا آپ کو یہی یوتھیے کل گز گز بھر کی گالیاں بکیں گے جس کا آغاز ہو چکا ہے….

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker