تجزیےعلی نقویلکھاری

یونان کا افلاطون ، پشاور کا پوپلزئی اور خیبر پختون خوا والوں کا سیاسی شعور ۔۔ علی نقوی

یونانی فلسفے کے علماء کا خیال ہے کہ آج کی ماڈرن دنیا میں جو بھی علوم ہیں وہ یونان کے عظیم فلسفیوں کی مہربانی ہے چاہے وہ علمِ ریاضی ہو، فزکس، کیمسٹری، بائیو ہوں، ڈرامہ نگاری ہو، سوشل سائسز کی کوئی فیلڈ ہو یا پھر سیاست، یونانیوں نے ہر شعبہ علم میں جہاں اپنی برتری ثابت کی وہیں علوم کے پھیلاؤ میں بے پناہ اضافہ کیا، ابھی کچھ دن پہلے میں سقراط کے زمانے کے ڈراموں کے سکرپٹس پر ایک مضمون پڑھ رہا تھا، اس مضمون کو پڑھنے سے پہلے میں صرف “سوفوکلیز” کو جانتا تھا (جس نے “ایڈیپس ریکس” جیسا مشہورِ زمانہ ڈرامہ لکھا جو 429 سال قبلِ مسیح میں پہلی بار سٹیج سے پیش کیا گیا اور آج تقریباً پچیس سو سال گزر جانے کے باوجود بھی یورپ کے بیشمار تھیٹرز میں پرفارم کیا جاتا ہے، اس کہانی کی شہرت کا عالم یہ ہے کہ جب دنیا کے مشہور ترین ماہرِ نفسیات “سگمنڈ فرائیڈ” نے انسانی جبلت میں فرد کے اپنے ماں کے ساتھ تعلق کو لیکر ایک پہلو کی تشریح کی تو اس کا نام ایڈیپس کمپلیکس رکھا)
لیکن مضمون پڑھ کر معلوم یہ ہوا کہ اسُ زمانے کے بتیس سکرپٹ رائٹرز تو وہ ہیں کہ جن کا اوریجنل ٹیکسٹ آج بھی موجود ہے، ارسطو وہ پہلا آدمی تھا کہ جس نے سکرپٹ میں “ٹریجڈی” کی تشریح کی اسی طرح پہلی صدی عیسوی میں “لوسیئن” نامی ایک ڈرامہ نگار نے ان سب پرانے یونانی ڈراموں کا مذ اق اڑایا اور اس طرح سے کامیڈی اور طنز کی ابتداء ہوئی…
یونان میں سیاست پر موثر ترین بات سقراط نے شروع کی سقراط نے کبھی ایک لفظ بھی نہیں لکھا، وہ بازار میں لوگوں سے خطاب کیا کرتا تھا اس کے خیالات اسکے شاگردِ عظیم افلاطون کی تحریروں کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں، افلاطون فرد کی سماجی ترقی کے پانچ مدارج بیان کرتا ہے جس میں سب پہلا فرد کی اپنی ذات ہے کہ ایک فرد کو درپیش سب سے پہلا معاملہ اس کی اپنی ذات سے ہے، دوسرا اسکا خاندان ہے، تیسرا سماج ہے افلاطون کے بقول معاشرے کے بیشتر افراد ان تین میں بھی کامیاب نہیں ہو پاتے وہ کہتا ہے کہ کئی لوگوں سے اپنا آپ بھی نہیں سنبھل پاتا، کئی خاندان سے نہیں نبھا پاتے اور کئی معاشرے سے جُڑ نہیں پاتے یہاں سے وہ آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ جو ان تین مدارج سے گزر جائے اسکی اگلی منزل تجارت ہے اور کسی بھی انسان کی سماجی کامیابی کی آخری حد یہ ہے کہ وہ سیاست کے شعبے کا کامیاب شہسوار ہو، یعنی سقراط اور افلاطون کے مطابق انسان کے کرنے کا سب سے ارفع کام سیاست ہے، افلاطون کے بقول سیاسی بصیرت ہی اصل بصیرت ہے، افلاطون کے بقول سیاست وہ واحد راستہ ہے جو سماج میں حقیقی اور دیر پا تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، اس لیے اس نے حاکم اور سیاسی کارکن کے خدوخال تفصیل سے بیان کیے ہیں، اس میں سے صرف دو باتوں کا تذکرہ کر کے میں آگے بڑھوں گا ایک افلاطون نے کہا کہ جمہوریت میں سیاسی کارکنوں کی تربیت سب سے پہلا کام ہے اور یہ کام لیڈر کرے گا لیڈر کا لفظ لیڈ سے ہے جس کے معنی آ گے چلنے کے ہیں افلاطون کے بقول تربیت وہ پہلا کام ہے جو لیڈر کو کرنا ہے راہبری کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ لیڈر خود راستہ جانتا ہو یعنی علم رکھنے والا ہو، اس کے لیے اس نے دو خوبیاں وہ بتائیں کہ جو لیڈر میں ہونا ضروری ہیں ایک وہ عالم ہو اور دوسرے وہ شجاع ہو، یہی بات قرآن مجید نے حضرت شموئیل علیہ السلام کے ضمن میں بیان ہونے والے واقعہ جالوت و طالوت میں بیان فرمائی کہ جب حضرت شموئیل علیہ السلام کے پاس قوم آئی اور کہنے لگی کہ ہم پر کسی کو حاکم مقرر فرما دیں تو آپ نے طالوت کو حاکم مقرر کیا جس پر قوم نے کہا کہ وہ کیسے حاکم ہو سکتا ہے کہ نہ اس کے پاس مال و دولت ہے نہ ہی لاؤ لشکر؟؟ تو اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک حق حاکمیت وہ رکھتا ہے کہ جو تم میں سب سے بڑا عالم ہو اور جو تم میں سب سے زیادہ شجاع ہو، علماء نے اس کی تشریح یوں کی کہ عالم ہونا اس لیے ضروری ہے کہ وہ جب فیصلہ لے تو حکمت و دانائی کے ساتھ لے اور بہادر ہونا اس لیے ضروری ہے کہ جب کوئی کھٹن معاملہ درپیش ہو وہ تو اپنی قوم کے لیے ان کھٹن حالات میں بھی وہ فیصلہ کرنے کی ہمت رکھتا ہو جو قوم کے لیے ضروری ہے…. آئیے اس سب کے تناظر میں اپنے ملک کی سیاست کی روش کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں…
ہم اپنے معاشرے میں عام طور پر یہ سنتے ہیں کہ سیاست تو ہے ہی پست کام گندے اور کرپٹ لوگ ہی سیاست کرتے ہیں جبکہ جمہوریت جیسے عظیم تصور کے خالقین کا کہنا ہے کہ سیاست انسانی سماج میں انسانی ترقی کی آخری حد ہے، مثال کے طور پر ہم اس ملک میں ایک عرصے سے یہ سن رہے ہیں کہ خیبر پختون خواہ کے عوام کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتے پہلی بار کسی نے وہاں مسلسل دوسری بار حکومت بنائی ہے اور اس بات کو ہمارے یہاں سیاسی شعور کی علامت سمجھا جاتا ہے، میں اکثر پوچھتا ہوں کہ وہ لوگ کہ جن کو آج تک پولیو کے قطروں کی افادیت سمجھ نہ آسکی ہو؟؟ جو کسی سیاسی جماعت کو تو دوبارہ نہ آنے دیتے ہوں لیکن کئی سالوں سے مفتی پوپلزئی کے پیچھے لگے ہوں؟؟ جو اپنے علاقے میں ہونے والے صوفی محمد اور حکیم اللہ محسود کے جلسوں میں شرکت کرتے ہوں؟؟ جن لوگوں نے آج تک افغانستان اور پاکستان کے درمیان بارڈر کو تسلیم نہ کیا ہو؟؟ ان لوگوں کو سیاسی شعور کی علامت صرف اس بنیاد پر سمجھ لینا کہ وہ کسی پارٹی کو دوبارہ منتخب نہیں کرتے صرف اور صرف کم علمی اور کج فہمی ہے، اور اگر اس طرح کے لوگوں میں کسی کو سیاسی شعور نظر آ جائے تو اس کی بصارت پر رشک کرنا چاہیے، کیونکہ بابِ بصیرت تو یہ ممکن نہیں، سوال تو یہ بھی ہے کہ اس شفلنگ نے وہاں کتنی دودھ اور شہد کی نہریں بہائی ہیں؟؟ ہر بار نئی آنے والی پارٹی نے وہاں کتنی یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنائے؟؟ کیا کوئی ایک ایسا کام ہے کہ جو وہاں سے شروع ہوا اور باقی صوبوں نے اس کی تقلید کی ہو؟؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لیڈر انکو سیاسی شعور کی مبارک بادیں دیتا ہے وہی لیڈر ان لوگوں کو جانور اور زندہ لاشیں کہتا ہے کہ جو ہر بار ایک ہی پارٹی کو ووٹ دیتے ہوں؟؟ کیا لیڈ کرنا اس کو کہتے ہیں کہ آپ کسی سیاسی طور پر مخالف نظریات رکھنے والوں کو اس طرح کے القابات سے نوازے؟؟ کیا ایک ایسا شخص راستہ دکھا سکتا ہے کہ جو کئی مہینے لگا کر ایک بیانیہ ترتیب دے اور ہر بار اپنی ہر بات پہ “یوٹرن” لے لے؟؟ ہر وہ کام کرے کہ جس پر کل تک وہ شدید تنقید کیا کرتا تھا؟؟ ہر وہ راستہ اختیار کرے کہ جس کے راہی اس کے لیے لٹکا دینے کے قابل تھے؟؟ کیا ایک ایسا آدمی کہ جو کہتا ہو کہ اس نے بائیس سال جدوجہد کی ہے لیکن جب ڈلیور کرنے کی بات آئے تو کہے کہ مجھے ٹھیک ٹیم نہیں ملی اس قابل ہے کہ اسُ کے ہاتھ میں اپنے آنے والے بچوں کی تقدیر دی جائے؟؟
عالم کی تعریف تو ہم کسی حد تک جانتے ہیں، لیکن بہادر حکمران کی تعریف کیا ہے؟؟ آئیے اس کا جواب نیلسن منڈیلا سے پوچھتے ہیں کہ جب ان سے کسی نے پوچھا آپ کے نزدیک بہادر حکمران کون ہوتا ہے؟؟ تو انہوں نے کہا کہ بہادر حکمران وہ ہے کہ جو کسی بھی قسم کے دباؤ کو رد کر کے وہ فیصلہ کرے کہ جو سماج کے کمزور طبقات کے لیے فائدہ مند ہو اور نہ صرف اس فیصلے کی قیمت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو بلکہ اس کی پوری ذمہ داری بھی اپنے اوپر لے سکتا ہو…. اگر آپ سچ پوچھیں تو مجھے آج کی اس دنیا میں نوے فیصد حکمران نیم خواندہ اور خوفزدہ محسوس ہوتے ہیں کہ جو اپنے سے کم تر پر رحم نہیں کرتے اور اپنے سے برتر کے سامنے انکی آواز نہیں نکلتی، آج کل بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر ہمارے وزیروں کی ایسی تصویریں آ رہی ہیں کہ جس میں انکا فوجی بھائیوں اور سول لوگوں کے سامنے بیٹھنے کے انداز کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جب یہ لوگ فوجی افسران سے ملتے ہیں تو انکی باڈی لینگویج کیا ہوتی ہے اور جب کسی سول آدمی سے ملتے ہیں تو انکی باڈی لینگویج کیا ہوتی ہے؟؟ ہم نے دیکھا کہ جس آدمی نے سابق آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو اپنے یوتھ سے بھرے جلسے میں ذلیل آدمی کہا تھا وہی جب وزیر اعظم بنا تو عربی بدوؤں کی گاڑیاں چلا رہا تھا؟؟ وہی کہ جو کل تک کے وزرائے اعظم کو امریکیوں کے بے دام کے غلام کہا کرتا تھا ٹرمپ کے سامنے صرف تسبیح گھماتا رہا جبکہ ٹرمپ ریاستِ پاکستان پر بہتان باندھتا رہا؟؟
میں آج کی اس مہذب دنیا سے یہ پوچھتا ہوں کہ آج اتنی سائینسی ترقی کے باوجود آپ کو کیا ہو گیا کہ ٹرمپ، بورس جانسن ،مودی، طیب اردگان، محمد بن سلمان، پوٹن ،شی پنگ اور عمران خان جیسے لوگ آپ نے اپنے اوپر مسلط کر لیے جبکہ الہامی اور دنیاوی صحیفے آپ کو مسلسل یہ بتاتے رہے کہ حکمران چنتے وقت فیصلہ اس کے حق میں کرنا کہ جس نے اپنے دلائل کی بنیاد علم کو بنایا ہو؟؟ اس ملک نے چار مارشل لاز بھگتے، پہلے مارشل لاء نے ہی ہمیں بنگلہ دیش تحفے میں دیا، لیکن لوگوں کو کیا ہو گیا کہ جب بھی کسی بندوق والے نے حکمرانی کا سوچا تو لوگوں نے اسکو کندھے پر اٹھایا؟؟ کیوں ہر بار اپنے ووٹوں سے منتخب ہونے والے کو ذلیل ہوتا دیکھ کر لوگ خوش ہوئے؟؟ ہر روز ہونے والے اپنے استحصال کے باوجود ایسا کیا ہے کہ آج بھی اس ملک کے لوگ اپنے مسائل کا واحد حل بندوق بردار کو ہی سمجھتے ہیں؟؟ دسیوں استادوں کے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑیاں اور پیروں کی بیڑیاں جن کی توجہ حاصل نہ کر سکی ہوں وہ قوم ایک سابق جنرل کے خلاف آنے والے فیصلے پر آخر کیوں جل کر کباب ہو جاتی ہے؟؟ آخر یہ کیسے حکمران ہیں کہ جن کو حکیم اللہ محسود کی موت سوگوار کر دیتی ہے؟؟ آخر ایسا کیا ہے کہ ایک قوم اسُ لواطت باز مولوی پر تو کوئی بات نہ کرے جو قرآن پڑھنے آنے والے بچے کو اپنے حجرے میں جنسی درندگی کا نشانہ بنائے، لیکن ایک شوٹنگ اس کے ایمان کے لیے خطرہ بن جاتی ہو؟؟ جہاں کفن میں لپٹی، قبر میں پڑی عورت کا ریپ ہوجاتا ہو لیکن اگر اس پر بات کی جائے تو “اوریے” سارا الزام عورتوں کے کپڑوں پر لگا دیں؟؟ جہاں کلرک کی نوکری کے لیے تعلیمی قابلیت درکار ہو لیکن وزیراعظم اور صدر اس سے مبُرا ہوں تو وہ معاشرے اسی قسم کی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں جیسے کہ آج ہم ہیں کیونکہ یہ طرزِ عمل اس شعور کی ضد ہے کہ جو اعلٰی و ارفع دماغوں سے نور کی صورت پھوٹا تھا….

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker