سرائیکی وسیبعلی نقویکالملکھاری

قندیل بلوچ کا چیف جسٹس کے نام خط ۔۔ علی نقوی

عزت مآب چیف جسٹس صاحب
آداب!
مدعا بیان کرنے سے پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ مجھے اپنی زندگی کی روداد سنانے میں دلچسپی نہیں ہے نہ ہی وہ اتنی پر کشش ہے کہ اس کا تذکرہ کیا جائے لیکن آپ شاید مجھ سے بالکل بے خبر ہوں اس لیے تھوڑا بہت اپنا تعارف کرا دیتی ہوں۔ میرا اصلی نام فوزیہ عظیم تھا لیکن لوگ مجھے قندیل بلوچ کے نام سے جانتے ہیں ۔ میں ڈیرہ غازی خان کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی ۔سترہ سال کی عمر میں میری شادی عاشق حسین نامی ایک شخص سے کر دی گئی اور اُس سے میرا ایک بیٹا پیدا ہوا کچھ عرصے بعد میں نے اس شخص سے طلاق لے لی کیونکہ وہ مجھے بہت مارتا اور گالیاں بکتا تھا۔ اس کے بعد اپنا خرچہ چلانے کے لیے ایک نجی کمپنی میں بس ہوسٹس کی نوکری کرلی اور اس طرح باہر کی دنیا سے میرا واسطہ پڑا اور مجھے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہونے لگا۔ جنابِ عالی میں آپ کو کیا بتاؤں کہ یہ کیسا معاشرہ ہے شاید آپ کے لیے یہ ویسا نہ ہو جیسا میرے اور میری جیسی لڑکیوں کے لئے ہے ۔کیا بتاؤں کہ جب بھی میں بس میں سروس کرنے کے لیے اپنی نشست سے اٹھتی تھی تو مسافروں کی سیٹوں سے کئی کہنیاں باہر کی جانب نکل آتی تھیں کہ جب میں گزروں تو وہ اپنی کہنی سے مجھے چھو سکیں، نہ جانے وہ کون سی لذت تھی جو ان کی کہنیوں کو میرے وسطی دھڑ سے چھو کر ملا کرتی تھی اگر آپ کے منصب کا احترام مانع نہ ہو تو میں آپکو بتاؤں کہ کس کس طرح کا بھیڑیا یہاں انسانی کھال میں پھر رہا ہے اور معاشرہ اسکو معزز گنتا ہے،


ایک بار ایک پچاس پچپن سالہ چیچک زدہ چہرے والے صاحب کو میں کولڈ ڈرنک پیش کر رہی تھی تو انہوں نے فرمائش کی کہ ذرا مزید جھک کر کولڈ ڈرنک گلاس میں ڈالیں اور ساتھ ہی میرے بند گریباں کو دیکھتے دیکھتے نہ جانے وہ کس دنیا میں کھو گئے اور ایسا کھوئے کہ گلاس میں موجود کولڈ ڈرنک انہی کے اوپر گر گئی۔ اس پر انہوں نے مجھے بازاری عورت قرار دے کر ہنگامہ کھڑا کر دیا اس کے بعد بس ڈرائیور ان سے معافی مانگتا رہا اور انسپیکشن بھی میری کال ہوگئی، مجھ سے کئی بار نمبر مانگا گیا اور کئی بار دیا گیا، میں نے کئی بار سنا کہ چلو موبائل نمبر نہ سہی برا کا سائز ہی بتا دو، ہمارے ملک کے مرد حضرات پر یہ واجب ہے کوئی بھی چیز پکڑتے ہوئے لڑکی کے ہاتھ کو پورے اہتمام کے ساتھ مس کیا جائے چاہے وہ گلاس ہو، ٹکٹ ہو، کشن ہو یا اخبار ۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ وہ کونسی لذت ہے جو یہ مرد اس عمل سے حاصل کرتے ہیں؟ شاید اس سوال کا جواب مرد حضرات خود بھی نہیں دے سکتے۔ ہر آدمی چاہے وہ مسافر ہو، بس کا ڈرائیور ہو، گارڈ ہو، ٹکٹ کاؤنٹر والا ہو، سپروائزر ہو یا ٹرمنل مینجر اسکی یہی خواہش ہوتی تھی کہ وہ مجھے اکیلے کمرے میں لے جائے اور مجھے بغیر کپڑوں کے دیکھے کئی بار سوچا کہ یہ نوکری چھوڑ دوں لیکن گھر کا چولہا جلانے کے لیے کچھ تو کرنا ہی تھا ۔گھروں میں جھاڑو پوچے سے بہتر یہ نوکری تھی لیکن ہر سفر اذیت بنتا گیا ۔کئی بار نوجوان لڑکوں کی باتیں سنیں کہ شکل سے ہی کرپٹ لگتی ہے، ایک بار ایک لڑکی میرے ساتھ باتیں کر رہی تھی تو اسکی ماں نے اسکو میرے پاس سے یہ کہہ کر اٹھایا کہ اس طرح کی لڑکیوں سے بات نہیں کرتے۔ جب میری طلاق کے بارے میں ایک گارڈ کو پتہ چلا تو میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ یہ تو تجربہ کار بھی ہے، یہ سب کچھ اتنے تواتر کے ساتھ ہوتا رہا کہ میں آخرکار اس نتیجے پر پہنچی کہ اگر کامیابی میری قمیض کے بٹن کے اندر ہے تو کیوں نہ اس بٹن کو کھول دیا جائے لہذا میں نے ماڈلنگ کا فیصلہ کیا اور لاہور شفٹ ہوگئی، میں نے یہ ٹھان لیا کہ ایک کامیاب ماڈل بن کر دکھاؤں گی چاہے اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے ۔


میں جان گئی تھی کہ عورت کے کپڑے اترتے دیکھ کر ہر مرد کی سانسوں کی رفتار بے قابو ہوجاتی ہے اور امیر بڈھوں کی تو جان پر بن آتی ہے تو کیوں نہ کپڑے اتارے جائیں ۔مجھے میڈیا میں آنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا میرے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ میں سوشل میڈیا وڈیوز کے ذریعے میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کروں لہذا میں نے آدھے آدھے کپڑوں میں سوشل میڈیا وڈیوز بنانی اور اپ لوڈ کرنی شروع کیں ۔زیادہ وقت نہیں لگا اور مجھے توجہ ملنی شروع ہوگئی ۔تماش بینوں کے فون آنے شروع ہو گئے اسکے بعد لمبی لمبی چمچماتی گاڑیوں میں باوردی ڈرائیور آنے لگے، میرا اور میرے گھر والوں کا خرچہ اچھا چلنے لگا ہوتے ہوتے میں معززین شہر کے بیڈ رومز تک پہنچ گئی۔ ان میں کچھ ایسے معززین کے گھر بھی تھے کہ جن کے باہر میڈیا کی او بی وینز ہر وقت اس انتظار میں کھڑی رہتیں تھیں کہ شاید کوئی خبر مل جائے۔ کبھی ان گھروں کے اندر دادِ عیش وصول کر کے اور کبھی ان گھروں کے باہر میڈیا کے سامنے سین کرِیٹ کرکے میں نے میڈیا کی توجہ حاصل کر ہی لی۔ اب مجھے مارننگ شوز میں بلایا جانے لگا، چھوٹے چینل مجھے اور میری جیسی دیگر شوقین مزاجوں کو بلا کر ہماری فحش گوئی سے ریٹنگز حاصل کرنے لگے ۔اپنی بیمار، ٹھنڈی بیویوں اور بے قابو جوانیوں کے ہاتھوں مجبور امراء مجھے نجی پارٹیوں میں بلانے لگے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ واٹر بیڈ پر سونا کیا ہوتا ہے، جیکوزی میں نہانے سے کتنا مزہ آتا ہے، ایمرٹس کی فرسٹ کلاس میں سفر سفر نہیں عیش بن جاتا ہے، فائیو سٹار ہوٹل کے سویئٹ میں اگر آپ ایک نامرد بڈھے کے ساتھ بھی ہوں تو شام رنگین ہی ہوتی ہے ۔زندگی کے ان دنوں میں مجھے معلوم ہوا کہ برج خلیفہ کے کمرے میں بیٹھ کر آپ دنیا کے ہر غم سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اب میں اپنے بوڑھے ماں باپ کو بھی اچھا خرچہ بھیج رہی تھی اور خود کی تو وہ حالت تھی کہ پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں، کئی طاقتوروں نے شراب اور (کوکین) کے نشے میں دھُت ہوکر میرے سرہانے لیٹے ہوئے مجھے یہ یقین دلایا تھا کہ میں اس ملک کی ایک اہم شخصیت بن سکتی ہوں اور اگر اس کو خوش کردوں تو بہت اوپر جاؤں گی، پھر یہ ہوا کہ میری سلیکشن انڈین ریئلٹی شو بگ باس کے لیے ہوگئی اب تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی میرے سامنے بالی وڈ تھا اور میں اس میں کام کرنے کے خواب کو پورا ہوتا دیکھ رہی تھی۔ میں نے اپنے ماں باپ اور چھوٹے بھائی کو ملتان میں ایک نسبتاً بہتر گھر میں شفٹ کرالیا تھا اور انکا خرچہ میں چلایا کرتی تھی ۔بگ باس کی تیاری سے پہلے عید کے موقع پر میں نے سوچاکہ کچھ دن اماں ابا کے ساتھ گزار آؤں پھر ٹائم نہیں ملے گا لہذا میں ملتان آگئی اور ایک رات میرے اسُ چھوٹے بھائی جس کو میں ہفتہ وار خرچہ بھیجا کرتی تھی نے مجھے غیرت کے نام پر قتل کردیا وہ پولیس کے ہاتھوں پکڑا گیا، کیس انٹرنیشنل میڈیا میں آیا اور معاملہ عدالت میں پہنچ گیا،


اب میں نے سنا کہ میرے ماں باپ نے اسکو معاف کر دیا اور عدالت سے وہ بری ہو گیا ہے، میں خوش ہوں کہ چلو ماں باپ کو انکی ایک اولاد تو واپس ملی لیکن میں نے آپکے بارے میں بہت سنا ہے کہ جب سے آپ چیف جسٹس بنے ملک میں انقلاب کی ایک لہر ہے ہر وہ کام شروع ہو گیا ہے کہ جس کی اس ملک میں شدید ضرورت تھی (سنا ہے آپ ڈیم بنا رہے ہیں کاش میں ہوتی تو آپکے اس فنڈ میں لاکھوں روپے جمع کراتی) آپکو یہ خط لکھنے کی وجہ یہ نہیں کہ میرے بھائی کو سزا دی جائے، لیکن چند سوالات پوچھنا چاہتی ہوں پوچھنا یہ ہے کہ مجھے یہ بتایا جائے کہ کیا میرا قتل ٹھیک تھا؟ کیا ایک ایسا بھائی کہ جو کچھ نہ کرتا ہو کسی طرح کی ذمہ داری لینے کو تیار نہ ہو جس نے آج تک بہن کا حال نہ پوچھا ہو، کیا اسکو وہ بہن قتل کرنے کا حق ہے کہ جس کی حرام کی کمائی وہ کھاتا رہا ہو؟ اور وہ ماں باپ جنہوں نے اپنی لڑکی کی شادی پیسے لے کر کی ہو اور اسکے بعد اسکی زندگی سے بے خبر رہے ہوں تو کیا انکو اسکے قاتل کو معاف کرنے کا حق ہے؟ کیا وہ معاشرہ جو آج بھی میری ننگی وڈیوز ریوائنڈ کر کر کے دیکھتا اور حظ اٹھاتا ہے کیا اس معاشرے کو میرے کردار پر بات کرنے کا حق ہے؟ حضورِ والا لوگ مجھے ویشیا کہتے تھے میں پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن میں پھر بھی اس لفظ پر غور کیا کرتی تھی کہ چلو مان لیتے ہیں کہ میں ویشیا ہوں کیونکہ میں کپڑے اتار کر اپنا ننگا بدن لوگوں کو دکھاتی تھی لیکن میرے اس شوہر کو آج تک کسی نے وحشی نہیں کہا کہ جس نے مجھے کئی بار مارا، مجھے سگریٹ سے جلایا، وہ مسافر جو مجھے نمبر دیتا تھا، مجھے آنکھیں مارتا تھا وہ معزز اور میں رنڈی، وہ باس کہ جس نے جاب انٹرویو کے دوران مجھے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا وہ افسر اور میں کرپٹ، وہ ٹی وی کا مشہور اینکر کہ جس نے اپنے عید شو کی ریٹنگز بڑھانے کے لئے مجھے تقریباً زبردستی سوئمنگ پول میں اتارا وہ دانشور اور میں بازاری عورت، ان تمام بے کار باتوں کے بعد آخر میں صرف ایک سوال کہ کیا آپکی عدلیہ میں کوئی ایک ایسی عدالت بھی ہے جو کسی فوزیہ عظیم کو قندیل بلوچ بننے سے بچا سکے؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker