میں فطرتاً ایک خاموش طبع انسان ہوں۔ میرے دوست احباب زیادہ نہیں، تقریبات میں شاذ و نادر ہی جاتا ہوں اور نہ ہی مجھے ایسی محفلوں میں مدعو کیا جاتا ہے۔ میرے بیٹے کا خیال ہے کہ یہ ایک منفی طرزِ زندگی ہے۔ اس کے برعکس میری بیوی اور بچے، بہن بھائی اور والدہ سبھی سماجی طور پر فعال ہیں، دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ یہ بے شک ایک اچھی بات ہے، کیونکہ انسان سماجی جاندار ہے اور اسے دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک رہنا چاہیے۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ میرے والد، جو ایک معروف سماجی شخصیت ہیں، وہ بھی میری طرح زیادہ تر گھر پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے بارے میں عمومی رائے زیادہ تر منفی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے میل ملاقات کا رواج ختم کر دیا ہے، چائے خانے اور کافی ہاؤس ویران کر دیے ہیں، حتیٰ کہ لوگ جسمانی طور پر اکٹھے ہو کر بھی ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں۔ اب خط لکھنے اور عید کارڈ بھیجنے کی روایت دم توڑ چکی ہے۔ ہماری خوشیاں، غم اور تقریبات اب زیادہ تر اسکرین کے ذریعے بانٹی جاتی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ قریب کر دیا ہے۔
میرے جیسے تخلیق کاروں کے لیے یہ ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔ سن 2010 میں جب یہ سلسلہ پاکستان میں زور پکڑ رہا تھا، تو مجھے میرے شاعر دوست ارشد عباس ذکی کا ایک شعر پہلی بار فیس بک پر پڑھنے کو ملا تھا:
شاید اگلے برس ملے وہ ہمیں
جو ملا دو ہزار دس میں نہیں
ایک سچا تخلیق کار عوام کے لیے نہیں لکھتا؛ وہ اپنی ذات کے اظہار کے لیے لکھتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہار کے دروازے آسان ضرور کیے ہیں، مگر بہت سے افراد کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ اگر مجید امجد آج کے دور میں ہوتے تو وہ گمنام شاعر کی طرح نہ مرتے، بلکہ زیادہ پذیرائی حاصل کرتے۔ لیکن طبقاتی نظام میں تخلیق کار ہمیشہ مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ میں بطور کنسلٹنٹ ڈاکٹر پیشہ ورانہ شناخت رکھتا ہوں، مگر سوشل میڈیا پر میری پہچان زیادہ تر میری شاعری اور نثرنگاری کے سبب ہے، اور یہی بات میرے ہم پیشہ افراد کو کھٹکتی ہے۔
ڈاکٹروں کو بچپن سے ہی مقابلے بازی کی دوڑ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ دوڑ ناگزیر ہے، لیکن تخلیق کار کے لیے یہ عذابِ جان بن جاتی ہے۔ کیونکہ تخلیق کار روزانہ سوچتا اور لکھتا ہے، اس کی موجودگی دوسروں سے زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں پچھلی دہائی میں اشرافیہ کے عتاب کا نشانہ بھی رہا اور بیروزگاری کی تلخ گھڑیاں بھی دیکھیں۔
اب میں فیس بک کو مکمل طور پر خیرباد کہہ چکا ہوں اور صرف لنکڈ اِن پر اپنی پیشہ ورانہ پوسٹس شیئر کرتا ہوں۔ کچھ خبر رساں اور ادبی ویب سائٹس میری تحریریں شائع کرتی ہیں جنہیں میں محدود حلقے میں شیئر کرتا ہوں۔ لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ مجھے یہ مشورہ دیتے ہیں:
"بھائی، اپنا پروفائل لو رکھیں۔”
وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ نمایاں ہونا میرے لیے رکاوٹیں پیدا کرے گا۔ میں ان کی رائے کا احترام کرتا ہوں، مگر پھر سوچتا ہوں کہ میری راہ میں کانٹے بچھانے والے بھی تو یہی لوگ ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا تخلیق کار کو واقعی اپنا پروفائل "لو” رکھنا چاہیے؟ اگر وہ ایسا کرے تو وہ تخلیق کار ہی نہیں رہے گا۔ تخلیق کار کی پہچان اس کے اظہار میں ہے، اور اظہار پر قدغن دراصل اس کی ذات کی نفی
فیس بک کمینٹ

