تجزیےلکھاری

مسلمانوں کے خلاف نفرت کی نئی لہر : تلاشِ گم شدہ / علی سخن ور

پاکستان میں ویلنٹائین ڈے منانے کی حکومتی حوصلہ شکنی پر آزردہ آزاد خیالوں کے لیے اطلاعا عرض ہے کہ اس سال 3،اپریل کا سورج، مغرب میں مسلمانوں کے لیے ایک نئی بدنیتی، ایک نئی سختی اور نفرت کی ایک نئی لہر کے ساتھ طلوع ہوگا۔امریکا سے لے کر برطانیہ تک اس دن کو مسلمانوں کے خلاف یوم نفرت کے طور پر منانے کی تحریک چلائی جارہی ہے۔اس حوالے سے ایک ہینڈ بل مغربی ممالک میں نہایت شدت سے گردش کر رہا ہے۔ اس ہینڈ بل پر ایک نہایت مختصر لیکن انتہائی زہریلی عبارت درج ہے۔عبارت کا عنوان ہے، ’Punish a Muslim Day‘۔ اس ہینڈبل یا پمفلٹ میں دنیا بھر کے غیر مسلموں کو مخاطب کرتے ہوئے تاکید کی گئی ہے کہ اس سال بھی اور آئندہ ہر برس 3 ،اپریل کو مسلمانوں کو سزا دینے کے عالمی دن یعنی یوم نفرت کے طور پر منایا جائے۔اس پمفلٹ کے مندرجات کے باعث شکاگو سے لندن تک تمام مسلمان ایک عجیب سی اضطرابی کیفیت کا شکار ہیں۔مسلمان تنظیموں نے مغرب میں بسنے والے مسلمانوں کو کسی بھی قسم کے ممکنہ خوفناک نتائج سے بچنے کے لیے خصوصی ہدایات پر مشتمل کتابچوں کی تقسیم کا کام بھی شروع کردیا ہے۔ مزیدیہ کہ سوشل میڈیا اور پرائیویٹ ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے ذریعے بھی ایک منظم خبرداری مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ 3،اپریل کو اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے گریز کریں، خواتین شاپنگ مالز وغیرہ میں جانے سے اجتناب کریں اور حضرات اپنے روزگار کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلتے ہوئے بہت زیادہ چوکس اور محتاط رہیں۔پمفلٹ میں غیر مسلموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے ، ’ مسلمانوں نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے۔ہمارے پیاروں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ہمارے ہر درد اور ہر دکھ کا سبب صرف اور صرف مسلمان ہیں۔ہم اکثریت میں ہوکر بھیڑوں کی طرح سہمے ہوئے ہیں۔یورپ اور نارتھ امریکا کے لوگ ان مسلمانوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔اگر ہم یونہی بھیڑوں کی طرح ان مسلمانوں کے پیچھے پیچھے چلتے رہے تو ہمارے مثالی جمہوری معاشرے مسلمانوں کی شریعت کی روشنی میں چلنے والی پولیس سٹیٹس Police Statesمیں بدل جائیں گے۔آگے بڑھیئے، قدم اٹھائیں،ہمارے پاس طاقت ہے،ہمیں بھیڑ بن کر نہیں جینا۔‘ مذکورہ پمفلٹ میں کچھ انعامی پوائینٹس کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جتنے پوائینٹ زیادہ اتنا بڑا انعام۔کسی بھی مسلمان کو گالی دینے پر 10پوائینٹ ملیں گے۔کسی پردے دار مسلم عورت کا حجاب کھینچ کر اتارنے پر 25پوائنٹ دیے جائیں گے۔کسی بھی مسلمان کے چہرے پر تیزاب پھینکنے کے عوض 30پوائنٹ کا انعام ہے۔کسی بھی مسلمان کو سرعام بلاوجہ زدوکوب کرنے کے بدلے 100پوائینٹ دیے جائیں گے۔برقی آلات سے اذیت دے کر نقصان پہنچانے کے 250پوائینٹ، کسی بھی مسلمان کو بندوق، چھری یا چاقو سے ذبح کرنے کے یا پھر گاڑی کے نیچے دے کر موت کے گھاٹ اتارنے کے 500پوائینٹ ملیں گے۔ کسی بھی مسجد کو بارودی مواد سے تباہ کرنے یا پھر نذر آتش کرنے کے عوض 1000پوائینٹ اور (نعوذباللہ) مکہ مکرمہ پر ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کرنے پر2500پوائینٹ دیے جائیں گے۔ اس پمفلٹ کے آخر میں مزید معلومات کے لیے پتہ بھی درج ہے،HM COURTS & TRIBUNALS SERVICEؑٓٓٓٓٓٓ
102 PETTY FRANCE LONDON.SWIH9AJ
ہزار فکری اور سیاسی اختلافا ت کے باوجود ہمیں اس اعتراف میں کسی قسم کا کوئی بھی تاءمل نہیں ہونا چاہیے کہ امریکا اور برطانیہ جیسے معاشرے بہر حال انتہائی مہذب اور تعلیم یافتہ معاشروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انفرادی طور پر یا پھر کسی محدود گروہ کی حد تک انتہا پسندی ان معاشروں میں اسی طرح موجود ہے جس طرح مسلمان معاشروں میں ہوسکتی ہے۔ یقینا یہی وجہ ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں مقامی باشندے بھرپور انداز میں کوشش کر رہے ہیں کہ وہاں کسی مسلمان کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ بالخصوص چھوٹے بچوں کے سکولوں میں مسلمان بچوں کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ برطانیہ کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے ایک فوری مفت ہیلپ لائین نمبر بھی جاری کیا ہے تاکہ کسی بھی خطرے کی صورت میں اس نمبر پر رابطہ کرکے مدد حاصل کی جاسکے۔ برطانیہ اور امریکا میں رہنے والے اعتدال پسند غیر مسلموں کو یقین ہے کہ مذکورہ ’ یوم نفرت‘ کا خیال صرف اور صرف مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے پھیلایا گیا ہے اور اس خیال کی کوئی ٹھوس حقیقت نہیں۔تاہم کچھ سمجھدار لوگ اس خیال میں پوشیدہ اس امکان پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کہیں یہ گمنام مہم مغربی ممالک میںمسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو گھٹانے کی کوئی شعوری کاوش تو نہیں۔ہم نے بھارت کے حوالے سے اکثر دیکھا ہے کہ مسلمان اکثریتی علاقوں میں ہندو انتہا پسند خود ہی گائے کاٹ کر اس کی باقیات کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں اور پھر گائے کاٹنے کے جرم میں مسلمانوں کی بستیوں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ لیکن ہم بے چارے مسلمان کریں تو کیا کریں، ہماری تو آپس کی جنگیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں، ایران، عراق، ترکی، شام، مصر، افغانستان، مالدیپ، بنگلہ دیش، بحرین اور سعودی عرب، سب کے سب آپس میں لڑنے کو بے چین،باہمی مقابلے کو تیار۔کہاں نیٹو اور یورپی یونین جیسی طاقتور آرگنائیزیشنز اور کہاں بے چاری او آئی سی جیسی اسلامی ممالک کی کمزور و ناتواںنمائندہ تنظیم۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نیوکلئیر پاور پاکستان کی قیادت میں اسلامی ممالک کا ایک ایسا بلاک قائم کیا جاتا کہ جس کی ہیبت سے غیر مسلم دنیا دہل جاتی مگر ہوا اس کے برعکس ہم مسلمان بحیثیت مسلم امہ یا پھر انفرادی قومی سطح پر خود کو کہیں بھی تسلیم نہیں کروا سکے۔اس سے بڑی بد نصیبی اور کیا ہوگی کہ ہماری بہنوں بیٹیوں کے چہروں سے نقاب کھینچنے کو ایک انعامی مقابلے کا روپ دے دیا جائے۔ہمیں خود کو سمجھانا پڑے گا کہ ہم ہارنے کے لیے نہیں بنے، ہم تو وہ ہیں کہ جن کے آباﺅ اجداد بازو اور سر کٹا لیتے تھے، پرچم کو گرنے نہیں دیتے تھے۔آخر ہم خود کو بھولتے کیوں جارہے ہیں؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker