عمار غضنفرکالملکھاری

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد ۔۔ عمار غضنفر

عمارت  کی مضبوطی اور تعمیر کا انحصار بڑی حد تک اس کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ اگر بنیاد مضبوط نہ اٹھائی جائے تو عمارت کمزور ہوا کرتی ہے۔اگر بنیاد ہی میں کجی ہو تو اس پر تعمیر کردہ عمارت کی اٹھان کا سیدھا ہونا محال ہے۔ ایسے ہی کسی تحریک کی ابتدا میں پسِ پردہ سوچ اور عوامل اس کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ آج جب کہ ہم قیامِ پاکستان کے ستر برس مکمل ہو جانے کا جشن منا رہے ہیں، آئیے ہم چند لمحات کے لیے ٹھہر کر یہ جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس عمارت کی بنیاد میں وہ ٹیڑھ کہاں سے آئی جس کی وجہ سے اپنے وطن سے محبت کے باوجود، آج ہم جشنِ آزادی کی خوشیاں مناتے ہوئے اپنے اندر کہیں ایک کھوکھلا پن محسوس کرتے ہیں۔ اس وطن کی بنیادوں میں کون سے آنسو دفن ہیں کہ ستر برس کے اس سفر میں ہماری آنکھیں ایک تسلسل کے ساتھ خون کے آنسو بہاتی چلی آ رہی ہیں۔
ہم پڑھتے چلے آئے ہیں کہ قیامِ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ پر ہے۔ یعنی برّ ِصغیر کے مسلمانوں میں یہ ادراک کہ ہم ایک الگ قوم ہیں، اور ایک جداگانہ شناخت کے حصول کی جدوجہد۔ تحریکِ پاکستان کے دنوں میں یہ یقیناً وقت کا تقاضہ تھا۔ اور ایک اکثریت کے مقابلے میں ایک نسبتاً اقلیت میں موجود آبادی کی بقا کا سوال تھا۔ مگر ستم یہ ہوا کہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی ہم یہ دو قومی نظریہ اپنے سینے سے جدا کرنے کو تیار نہ ہوئے۔ ہم یہ تسلیم نہ کر پائے کہ دو قومی نظریہ، جس کی بنیاد تقسیم پر رکھی گئی تھی، متحدہ ہندوستان کے حالات کی پیداوار تھا اور نئے قائم شدہ ملک میں صرف ایک ہی قوم بستی تھی یعنی پاکستانی قوم۔ مگر شائد ہمارا اس نظریے سے جذباتی لگاؤ اس قدر شدت اختیار کر چکا تھا کہ ہم نےاسی سوچ کے ِ زیرِ اثر پاکستان میں بھی تقسیم در تقسیم کا آغاز کر دیا۔ مقامی اور مہاجر کی تقسیم۔ علاقائی تقسیم۔ نسلی اور لسانی تقسیم۔ مذہبی تقسیم۔ فرقہ وارانہ تقسیم۔ طبقاتی تقسیم۔ نظریاتی تقسیم۔ اور پھر اس تقسیم میں مزید تقسیم۔ اس طرح تقسیم کی سوچ لیے ہم کبھی ایک قوم بن ہی نہیں پائے۔ اور آج ستر برس گزر جانے کے باوجود تقسیم کا یہ نظریہ، اپنی الگ پہچان کی یہ سوچ، اس خلیج کو مزید وسیع کرتی چلی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وطنِ عزیز کی اس کہانی کی ابتدا ہی خون اور آنسوؤں سے ہوئی۔ قیامِ پاکستان کےبعد مہاجرین کی نقل وحمل کے انتظامات کو اس برے طریقے سے نظرانداز کیا گیا کہ ایک آنسوؤں اور خون کی داستان رقم ہوئی۔ آگ اور خون کا ایک ایسا کھیل کھیلا گیا جس کی یاد اب بھی آنکھوں کو نمناک کر ڈالتی ہے۔ شاید انہی آنسوؤں کا اثر تھا کہ ہم اپنی سترسالہ تاریخ میں آنسو ہی بہائے چلے آتے ہیں۔ کبھی لیاقت علی خان کے قتل پر آنسو۔ کبھی سقوطِ ڈھاکہ پر آنسو، کبھی جمہوریت کی بساط لپٹنے پر آنسو، کبھی بھٹو کی پھانسی پر آنسو، کبھی بے نظیر کے قتل پر آنسو۔ کبھی حکیم محمد سعید کے قتل پر تو کبھی امجد صابری کے قتل پر آنسو۔ کبھی بم دھماکوں میں شہید ہونے والوں کے غم میں آنسو۔ تو کبھی مذہبی منافرت اور تقدس کے نام پر قتل ہونے والوں کے نام پر آنسو۔ کبھی لاپتہ افراد پر آنسو۔ تو کبھی ہجوم کی درندگی کا نشانہ بننے والوں کی بے بسی پر آنسو۔ آنسو ہیں کہ تھمنے کانام ہی نہیں لیتے۔ خون ہے کہ بہے جاتا ہے۔
کبھی ہماری تاریخ میں ایسا موڑ بھی آئے گا کہ ہم بحیثیتِ قوم اس نفرت اور تقسیم کی سوچ کو خیرباد کہتے ہوئے ایک خود کو صرف ایک پاکستانی شہری کے طور پر شناخت کرنا شروع کریں گے۔ دو۔قومی نظریہ صرف ہماری تاریخ بن کر رہ جائے گا، اور ہم فخر سے کہہ پائیں گے کہ پاکستان میں صرف ایک پاکستانی قوم ہی آباد ہے۔ کیا بھی اس آنسوؤں سے بھیگی لہو رنگ داستان کا اختتام بھی ہو گا۔ اور ہم قیامِ پاکستان کے موقع پر وحشت و درندگی کا نشانہ بننے والے لاکھوں افراد کے خون کی حرمت دلوں میں بسائے، ایک نئی صبح کا آغاز کر پائیں گے جس کا اجالا بے داغ ہو گا اور جس کا آنچل نہ تو آنسوؤں سےبھیگا ہو گا اور نہ ہی اس پر خون کے دھبے ہوں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker