عمار غضنفرکالملکھاری

اپوزیشن کی شرانگیزی ، شاہ محمود کی ترجمانی اوروزیر اعظم کی سادگی ۔۔ عمار غضنفر

وزیرِاعظم کے انتخاب کا مرحلہ پایہء تکمیل کو پہنچا۔ حسبِ توقع عمران خان صاحب وزیرِاعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کی یہ کامیابی اپوزیشن جماعتوں سے اب تک ہضم نہیں ہو پارہی۔ نتیجتاً ان کی تقریر کے دوران ایسا ہنگامہ برپا کیا کہ خان صاحب کو صبروتحمّل کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہی بنی۔ یہ یقیناً ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ ایک زمانے کو علم ہے کہ نومنتخب وزیرِاعظم ایک سادہ طبیعت انسان ہیں۔ مکر و فریب اور ریاکاری، جو کہ اہلِ سیاست کا خاصہ ہے، ان کا اس سب سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ موقع شناسی اور مصلحت اندیشی کی سیاست سے ان کو خدا واسطے کا بیر ہے۔ سو اس ہنگامہ خیزی سے اس قدر برفرواختہ ہوئے کہ جو تقریر تیار کر کے آئے تھے، وہ تو دماغ کے کسی نہاں خانے میں دھری رہ گئی اور شرانگیزوں کے وہ لتے لیے کہ انہیں چاروں شانے چت کر کے دم لیا۔ وہ تو بھلا ہو مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران اپوزیشن کو احساس دلایا کہ وہ اپنی کم حوصلگی اور کوتاہ بینی کے باعث وزیرِ اعظم پاکستان کے کیسے کیسے بیش قیمت فرمودات سننے سے محروم رہ گئے ہیں۔ اپنی اس غلطی کا احساس ہونے پر اپوزیشن اراکین بارے ندامت کے زمین میں گڑے جاتے تھے۔ خدا سب لیڈرانِ کرام کو مخدوم صاحب جیسا مخلص اور بے لوث ساتھی عطا کرے، کہ انہوں خان صاحب کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا۔ خان صاحب کی جذباتیت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے امید کی جاتی ہے کہ انہیں اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کے لیے اکثراوقات شاہ محمود قریشی صاحب کے زورِ بیاں پر تکیہ کرنا ہو گا۔ کیونکہ اپوزیشن کا تو کام ہی شور مچانا ہے، اور الیکشن کے متنازعہ ہونے کے باعث ان کو شرانگیزی کا مزید بہانہ مل گیا ہے۔ ایسے میں نہ تو انہوں نے باز آنا ہے، اور نہ ہی خان صاحب اپنی شخصیت پر تحمّل مزاجی اور برداشت کا داغ لگوانے کے متحّمل ہو سکتے ہیں۔
خان صاحب نے سیاستدانوں کی کرپشن سے متعلق کڑے احتساب کی نوید سنائی اور کسی این۔آر۔او کے امکان کو رد کیا تو مخدوم صاحب بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے بھی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے اراکین کی جانب رخ کر کے اسی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کے کسی منتخب نمائندے کے کرپشن میں ملوّث نہ ہونے پر فخر کا اظہار کیا۔ اس معاملے میں ہم خود شاہ محمود صاحب کی پاک دامنی کے قائل ہیں۔ مریدین کے نذرانے اور حکومتِ انگلشیہ کی برکات سے ملے وسیع زرعی رقبے سے حاصل شدہ آمدنی پاکستان کی کسی بھی عدالت میں لائقِ تعزیز نہیں، ماسوائے ضمیر کی عدالت کے۔ اور ضمیر کو جگائے رکھنے کے لیے اپنی محنت سے کمائے گئے لقمے سے شکم سیری ضروری ہے۔ مخدوم صاحب نے کیونکہ کبھی ایسا روگ پالا ہی نہیں اس لیے ان کے ضمیر کے جاگ جانے کا مستقبل قریب و بعید میں کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
بلاول بھٹو زرداری کی آج ممبر پارلیمنٹ کے طور پر پہلی تقریر تھی۔ ان کے متوازن، نپے تلے اورمتاثر کن خطاب کے سب ہی متعرف نظر آئے۔ اگرچہ ان کی تقریرکا بیشتر حصّہ انگریزی میں تھا۔ شاید ولایت میں پرورش و تعلیم کے باعث انگلش میں اپنے خیالات کو اظہار کرنا ان کے لیے زیادہ سہل ہے۔ مگر مسئلہ یہ کہ وطنِ عزیزکی بیشتر آبادی یا تو انگریزی زبان سے مکمل نابلد ہے ، یا پھر راقم کی طرح اس زبان میں معمولی شد بد کی حامل ہے۔ ِایسے میں ابلاغ کے لیے قومی زبان کا انتخاب خطاب میں مزید خوبصورتی پیدا کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ خبر ہے کہ نو منتخب وزیرِ اعظم نے اپنی رہائش کے لیے ملٹری سیکریٹری کے لیے مختص رہائش گاہ کا نتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے، یہ حسنِ انتخاب وزیرِ اعظم کی افواجِ پاکستان سے عقیدت کا مظہر ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ قومی اسمبلی کے منتخب اسپیکر صاحب ایّامِ جوانی میں جہادِ افغانستان میں بنفسِ نفیس شمولیت کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ہم تحریکِ انصاف کی جانب سے ایسے مردِ مجاہد اسپیکر کے تحفے پر شکرگزار ہیں اور نئے پاکستان کی نئی حکومت اور بکھری بکھری اپوزیشن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

عمار غضنفر

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker