امر جلیلکالملکھاری

امر جلیل کا کالم : باقی رہ گئے ڈھائی برس

ہرحکومت کے لیے سماجی اصلاحات کو پس پشت ڈالنا، نظر انداز کرنا، خاطر میں نہ لانا سیاسی جرم ہے۔ گریبان میں جھانک کر آپ نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ آپ صحت مند معاشرے کے حکمران کہلوانا پسند کریں گے یا ایک بیمار مفلوج معاشرے کا حکمراں؟یہ سوال بہتر برس سے کسی حاکم وقت نے اپنے آپ سے آج تک نہیں پوچھا۔ بہتر برس سے ایک ہی مولڈ یعنی سانچے سے نکلے ہوئے حکمراں ملک پر حکومت کرتے آئے ہیں۔ کسی کو پروا نہیں ہوتی کہ معاشرہ کتنے امراض میں جکڑا ہوا ہے۔ حاکموں کو قطعی پروا نہیں ہوتی کہ ملک بھرمیں جرگوں میں ہونے والے فیصلوں کے تحت جرمانے کے طور پرمجرم کے کنبے کی چار سالہ بچی کا بیاہ فریادی کنبے کے کسی ساٹھ برس کے بڈھے سے کروا دیا جاتا ہے۔ اس گھنائونی روایت کو جائز سمجھا جاتا ہے۔
جنسی جرم کے مرتکب شخص کی بیوی، بیٹی یا بہن کو جرگوں میں اجتماعی بے حرمتی کی سزا سنائی جاتی ہے اور اس پر عمل کو حتمی بنایا جاتا ہے۔ ہر حکومت کے دور میں انسانیت کو شرمندہ کرنے جیسے جرائم ہوتے رہتے ہیں۔عدالتوں میں آسمانی کتابوں پرہاتھ رکھ کر جھوٹی گواہی دینے والے دندناتے پھرتے ہیں، اور بےگناہ موت کے گھاٹ اتار دئیے جاتے ہیں۔ یہ بہتر برس سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ سرکار، یہ سب کچھ آپ کے دور حکومت میں بھی ہورہا ہے۔ہم تو آس لگائے بیٹھے تھے۔سرکار کہ آپ معاشرتی تبدیلی لے آئیں گے۔ برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیں گے مگر یہ آپ سے نہ ہوسکا۔آپ کسی اور چکر میں پڑ گئے۔ ڈانDonاس دنیا کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ فقیر آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ دنیا کے کسی ایک ملک کی نشان دہی کریں جہاں ڈان DON نہیں ہوتے۔ ڈان کے نام مختلف ہوتے ہیں، مگر وہ معاشرے کا لاعلاج مرض رہتے ہیں۔ ڈان آپ کے آنے سے پہلے بھی تھے اور آپ کے تشریف لے جانے کے بعد بھی ہوں گے۔ دنیا بھر کے معاشروں نے ان کو بےدلی سے قبول کر لیا ہے۔ ہم نے بھی بےبسی کےعالم میں ان کو قبول کر لیا ہے۔ دو ڈانوں کو اکھاڑنے کے چکرمیں آپ نے سرکار ڈھائی برس ضائع کردیے۔ باقی رہ گئے ہیں ڈھائی برس آپ کے پاس۔ ان برسوں میں سرکار آپ ہم سات آٹھ کروڑ بےبس لوگوں کو بھتہ خوروں کے چنگل سے نکالیں۔ ہمیں عزت سے جینے دیں۔ ہم آپ سے سرکار پارٹی ٹکٹ نہیں مانگتے۔ ہم اسمبلی کا ممبر بننا نہیں چاہتے۔ ہم سینیٹر بننا نہیں چاہتے۔ ہم آپ کے ایڈوائیزر بننا نہیں چاہتے۔ ہم عزت سے دووقت کی روٹی کمانا چاہتے ہیں۔ بہتر برس کا جمود توڑیں سرکار۔ کچھ کرکے دکھائیں۔
آپ سرکار اگر چاہتے ہیں کہ عوام آپ کو یاد رکھیں، توپھر عوام کے لیے کچھ کریں۔عوام کو مافیا کے جال سے بچائیں۔ وہ ہمارے بچے اٹھاکر لےجاتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں بانہیں توڑ کران کو اپاہج بناتے ہیں۔ ان سے بھیک منگواتے ہیں۔کہاں سے لے آتے ہیں اتنی بڑی تعداد میں لاوارث عورتیں، جن کی گود میں نیم بے ہوش بچہ دیکر ان سے بھیک منگواتے ہیں ان عورتوں کو وہ لوگ کہاں سے لے آتے ہیں؟ آپ کے کون کونسے ادارے ان مافیا سے ملے ہوئے ہیں اور درپردہ ان کی مدد کررہے ہیں؟ آپ معلوم کریں سرکار۔ بہتر برسوں کی تاریخ میں کچھ تونیا کرکے دکھائیں۔
ترقی اور تبدیلی دعوے کرنے سےدکھائی نہیں دیتے۔ ترقی اور تبدیلی درحقیقت تب دکھائی دیتے ہیں جب ملک اور معاشرے میں بہت کچھ بدلا بدلا دکھائی دیتا ہے۔ ملک میں ایسی کوئی جگہ دکھائی نہیں دیتی، بلکہ سجھائی نہیں دیتی جہاں بھکاری نہ ہوں۔ ملک جب ترقی کرتا ہے یعنی ترقی پذیر ہوتا ہے تب بھکاری دکھائی نہیں دیتے۔ ملک جب ترقی نہیں کرتا تب ملک کے چپے چپے پر بھکاری دکھائی دیتے ہیں۔ سرکار، بھکاری آپ کی ترقی کے گواہ ہوتے ہیں۔ آپ جب سچ مچ ترقی کرتے ہیں تب بھکاری غائب ہوجاتے ہیں۔ آپ جب ترقی کا دعویٰ کرتے ہیں، تب غول در غول بھکاری دکھائی دیتے ہیں۔ آپ سرکار چاہتے ہیں ناکہ غیرملکی سیاح پاکستان کا رخ کریں۔ بہت اچھی خواہش ہے سرکار… سیاح کو ایک ملک میںچند بنیادی سہولتیں مل جائیں تو وہ آپ کے ملک کا رخ کرتے ہیں…دنیا کے اس حصے میں یہ سب چیزیں ملتی ہیں ترکی میں، سنگاپور میں، ملیشیا میں …ترقی کے یہ وہ پیمانے ہیں جودکھائی دیتے ہیں سرکار، اور غیرملکی سیاحوں کو اپنی طرح کھینچ لیتے ہیں۔ غصے، ڈانٹ ڈپٹ، ڈرانے دھمکانے اور آستینیں چڑھانے سے کچھ نہیں ہوگا سرکار…ایسا کچھ کرکے دکھائیں جو نظر آئے۔

( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker