امر جلیلکالملکھاری

رودادِ اغوا۔۔امر جلیل

جب آپ دیکھ نہیں سکتے، تب طرح طرح کے ڈراؤنے وسوسے ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ لوگ مجھے کیوں اٹھا کر لے آئے تھے۔ میں نہ حزبِ اقتدار کا آدمی تھا، نہ حزبِ اختلاف کا۔ میں اللہ سائیں کا آدمی تھا۔ آج کل کے دور میں اللہ سائیں کے آدمی کی حیثیت دمڑی کے برابر نہیں ہوتی۔ اللہ سائیں کے آدمی کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا وہ مجھے کیوں اٹھا کر لے آئے تھے؟ میں کسی کا فرنٹ مین نہیں تھا۔ میں کسی کا ٹویلوتھ(Twelfth) مین نہیں تھا۔ میں لانڈری سے کپڑے دھلانے جتنی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس لیے میرا منی لانڈرنگ میں ملوث ہونا امکان سے باہر تھا، پھر کس لیے وہ لوگ مجھے اٹھا کر لے آئے تھے؟ میرے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے مشٹنڈوں سے میں نے پوچھا ’’بھائی، آپ لوگ مجھے کہاں لے آئے ہیں؟‘‘
جواب دینے کے بجائے مشٹنڈوں نے میرے بازوؤں پر اپنی آہنی گرفت کا زور بڑھادیا۔ میرے بازو شل ہوگئے میں نے التجا کرتے ہوئے مشٹنڈوں سے کہا ’’آپ دونوں کے ہوتے ہوئے میرا یہاں سے فرار ہونا امکان سے باہر ہے آپ نے بہت زور سے کس کر میرے بازو پکڑ رکھے ہیں میرے بازو بےجان ہوتے جا رہے ہیں‘‘۔ مشٹنڈوں نے میرے بازوؤں پر اپنی گرفت ذرا سی ڈھیلی کردی۔ میں نے کہا ’’تھینک یو، شکریہ، مہربانی‘‘۔اتنے میں مجھے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔ مشٹنڈے مجھے کھینچتے ہوئے گاڑی سے باہر لے آئے۔ میرے پیروں کے نیچے بجری تھی، مجھے بازوؤں سے پکڑ کر مشٹنڈے تقریباً گھسیٹتے ہوئے کچھ دیر تک بجری پر چلتے رہے۔ ایک جگہ پہنچ کر وہ رک گئے۔ اسی طرح مجھے کھینچتے ہوئے وہ سیڑھیاں چڑھنے لگے، سیڑھیاں لکڑی کی بنی ہوئی تھیں، سیڑھیاں چڑھنے کے بعد وہ مجھے کبھی دائیں کبھی بائیں موڑتے ہوئے ایک جگہ پہنچ کر رک گئے۔ مجھے لگا اس جگہ کچھ لوگ موجود تھے، میں نے کسی کی آواز سنی ’’اس کا ٹوپ اتار دو‘‘، ایک مشٹنڈے نے میرا ٹوپ اتار دیا۔ دو تین گھنٹے کالے دبیز ٹوپ میں گھپ اندھیرا دیکھنے کے بعد کمرے کی روشنیوں میں میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ ایک میز کی دوسری جانب تین لوگ بیٹھے ہوئے تھے، بیچ میں بیٹھے ہوئے شخص کی کرسی کی پشت لمبی چوڑی اور اونچی تھی۔ میز کے اس طرف جہاں میں کھڑا ہوا تھا۔ ایک کرسی رکھی ہوئی تھی بڑی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ میں کرسی پر بیٹھ گیا۔ دائیں جانب بیٹھے ہوئے شخص نے دونوں مشٹنڈوں کو کمرے سے چلے جانے کا اشارہ کیا۔ دونوں مشٹنڈے کمرے سے باہر چلے گئے۔ اونچی کرسی پر بیٹھے ہوئے رعب دار شخص نے پوچھا ’’تو تم وکٹ کیپر ہو؟‘‘’’کبھی میں وکٹ کیپر ہوتا تھا‘‘ میں نے کہا ’’پچاسی برس کی عمر میں آپ وکٹ کیپنگ نہیں کر سکتے‘‘۔ قصہ بیان کرنے کیلئے ہم اونچی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کو ایک اہم شخص کا تشخص دے دیتے ہیں۔ اہم شخص نے پوچھا ’’ہمارے فاسٹ بولر کو کیسے اور کب سے جانتے ہو؟‘‘۔
میں نے کہا ’’جب میں وکٹ کیپنگ کرتا تھا، تب آپ کا فاسٹ بولر بچہ تھا۔ تب اس نے کرکٹ کھیلنا شروع نہیں کی تھی‘‘۔اہم شخص نے پوچھا ’’تو پھر تم دونوں ایک دوسرے کو کیوں جانتے پہچانتے ہو؟‘‘۔’’بات ایک ساتھ کھیلنے کی نہیں ہے‘‘ میں نے کہا ’’دنیا کا ہر وکٹ کیپر، دنیا کے ہر فاسٹ بولر کو جانتا ہے پہچانتا ہے۔ اسی طرح دنیا کا ہر فاسٹ بولر دنیا کے ہر وکٹ کیپر کو جانتا ہے پہچانتا ہے پھر وہ چاہے کسی بھی دور کے کیوں نہ ہوں‘‘اہم شخص نے گردن گھما کر اپنے دائیں بائیں طرف بیٹھے ہوئے ممبروں کو دیکھا اور کہا ’’بڑی انوکھی بات کہہ دی ہے تم نے!‘‘
’’کرکٹ کھیل ہی انوکھا ہے‘‘ میں نے کہا ’’ایک مرتبہ کھیلنے کے بعد آپ زندگی بھر وہی رہتے ہیں جس پوزیشن میں آپ کھیلتے تھے۔ میرا مطلب ہے آپ کا رویہ وہی رہتا ہے ایک فاسٹ بولر زندگی بھر فاسٹ بولر رہتا ہے میرا مطلب ہے ایک فاسٹ بولر کا اپنا مخصوص رویہ ہوتا ہے۔ کوچ اور کیپٹن تک اسے قابو نہیں کرسکتے وہ اسی رویہ کے ساتھ زندگی گزارتا ہے زندگی بھر اسے کوئی کنٹرول نہیں کر سکتا‘‘۔اہم شخص نے دونوں ممبروں کی طرف دیکھا۔ تینوں نے سر جوڑ کر آپس میں کھسر پھسر کی میرے کان بڑے تیز ہیں۔ میں نے ایک ممبر کو کہتے ہوئے سنا ’’اب پتا چلا کہ وہ ہماری بات کیوں نہیںسنتا ہم سے کنٹرول کیوں نہیں ہوتا‘‘ اہم شخص نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’ناقص اور کمزور بنیاد پر پائیدار عمارت بھی ناقص اور کمزور بنتی ہے۔ یہ سادہ سی بات ہمارے فاسٹ بولر کی سمجھ میں نہیں آتی۔ وہ عمارت کے بالائی منزل کو ٹھیک کرنے کے چکر میں پڑاہوا ہے۔ فاسٹ بولر نے بنیادی نقائص اور کمزوریوں کو قطعی نظرانداز کردیا ہے اس لیے اس سے کچھ بن نہیں پاتا‘‘۔
میں سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ اس نوعیت کی باتیں مجھ سے کیوں کررہے تھے کیا ایسی باتیں سنانے کیلئے وہ مجھے اٹھا کر یہاں لے آئے ہیں!
اہم شخص نے کہا ’’ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ تم اس وقت کیا سوچ رہے ہو یہی ایک طریقہ تھا تمہیں یہاں لے آنے کا ہم اس جگہ کا پتہ کسی کو لگنے نہیں دیتے‘‘۔میں سمجھ گیا کہ وہ لوگ کسی عام سے ادارے کے لوگ نہیں تھے، میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ’’سر، کس لیے آپ نے مجھے بلایا ہے‘‘۔اہم شخص نے کہا ’’ہم تمہیں ایک اہم کام کرنے کو دے رہے ہیں‘‘۔
میں نے اللہ سائیں کو یاد کیا اہم شخص نے مجھے ایک سی ڈی دیتے ہوئے کہا ’’اس میں ہم نے عمارت کے بنیادی نقائص اور خامیوں کی ریکارڈنگ کی ہے۔ فاسٹ بولر ہونے کے ناتے وہ ہماری بات نہیں مانتا۔ لگا ہوا ہے عمارت کے بالائی حصے کو ٹھیک کرنے کے چکر میں، جو کہ وہ کبھی نہیں کرپائے گا۔ تم بنیادی کرپشن کی وڈیو دیکھو اور اگلی مرتبہ جب ایک وکٹ کیپر کے ناتے تم فاسٹ بولرسے ملو تو اسے قائل کرو کہ عمارت کی بنیاد میں خامیوں اور نقائص کی طرف توجہ دے عمارت کھوکھلی ہوتی جارہی ہے اب اس کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے‘‘۔
اہم شخص کے اشارے کی دیر تھی۔ مشٹنڈے کمرے میں داخل ہوئے مجھے گردن تک کالا ٹوپ پہنادیا جس طرح وہ مجھے گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے، اسی طرح انہوں نے مجھے گھر لاکر چھوڑ دیا۔
میں آپ کو مخمصوں میں نہیں چھوڑوں گا۔ سی ڈی میں جو کچھ دیکھوں گا آپ سے شیئر کرنے کے بعد فاسٹ بولر کو بتاؤں گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker